Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / اپنے بچوں کو کیرم کلبس سے بچائیے

اپنے بچوں کو کیرم کلبس سے بچائیے

حیدرآباد ۔ 21 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : اسے آپ ایک المیہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ حیدرآباد خاص کر پرانے شہر کے بیشتر علاقے کیرم بورڈس کلب اور جوے کے اڈے میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ پرانا شہر کے بیروزگار نوجوانوں کو کھیل کے نام پر پھیلنے والی جوے کی اس لت نے پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق پرانے شہر کے قدیم محلہ جات عیدی بازار ، یاقوت پورہ ، دبیر پورہ ، امان نگر ، سلطان شاہی ، کالا پتھر ، نواب صاحب کنٹہ ، نشیمن نگر ، خلوت ، تاڑبن ، وٹے پلی کے علاوہ گولکنڈہ میں بے شمار نوجوان اس لت میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ مذکورہ مقامات کا دورہ کیا جہاں کے کلبوں میں دیکھا گیا کہ شادی شدہ ، غیر شادی شدہ یہاں تک کے کم عمر طلباء کیرم بورڈ میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کررہے تھے ۔ ان کی زبانوں سے ایسے فحش الفاظ ادا ہورہے تھے ۔ ایک چیز ان تمام میں مشترک دیکھی گئی کہ ان تمام کے منہ گٹکھے سے بھرے ہوئے تھے ۔ اسٹرائک اور گیم پر یہ نوجوان پیسے لگا رہے تھے ۔ ان جوئے خانوں ( کلبوں ) میں بعض ایسے نوجوان بھی دیکھے گئے جو اس گیم میں اتنے ماہر ہیں کہ اگر وہ صحیح راہ اپناتے اور ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی تو وہ کیرم کے قومی اور ریاستی چمپئن شپ میں بآسانی کامیابی حاصل کرلیتے ۔ 99 فیصد کیرم کلبس میں نوجوان وقت گذاری کے لیے جمع نہیں ہوتے بلکہ حرام طریقے سے رقم بٹورنا ان کی کوشش ہوتی ہے ۔ مسلم معاشرہ کو کھوکھلا کرنے والے یہ کلبس کس طرح نوجوانوں کی تباہی و بربادی کا سامان کررہے ہیں ۔ پہلے ہی ملت غریبی اور بیروزگاری کے دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ ایسے میں محنت مزدوری اور حصول تعلیم کے بجائے ان بے ہودہ کلبس کا رخ کرنا صرف اور صرف اپنے ارکان خاندان کو تباہ کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے ائمہ مساجد جمعہ کی نماز سے قبل دئیے جانے والے اردو خطبات میں اس جانب مسلمانوں کو توجہ دلائیں اور مسلم نوجوانوں کو یہ بتائیں کہ قوم کو افلاس کے دلدل سے نکالنے اور قوم کو ایک صحت مند معاشرہ کی تشکیل کے لیے ہر محلے میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ کسی بھی علاقے میں جوئے کا کوئی اڈہ باقی نہ رہے ۔ اسی طرح علماء و مشائخین جو معاشرے میں اپنا اچھا اثر رکھتے ہیں نوجوانوں کو اس لعنت سے محفوظ رکھتے ہوئے ملت کی رہنمائی کرسکتے ہیں اور ملت کو اس لعنت سے بچا سکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT