Wednesday , January 24 2018
Home / مضامین / اپنے ہی شہر کے اجنبی لوگ! حیدرآبادی

اپنے ہی شہر کے اجنبی لوگ! حیدرآبادی

محمد مصطفی علی سروری
9 جنوری کی رات تین دوست سالگرہ کی پارٹی مناکر بنگلور ہائی وے سے حیدرآباد واپس ہورہے تھے کہ شمس آباد پولیس اسٹیشن کے حدود میں ان کی کار حادثہ کا شکار ہوگئی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کار اوٹر رنگ روڈ پر کئی مرتبہ الٹی کھاکر گر گئی ۔ حادثہ میں ڈرائیونگ سیٹ اور اس کے بازو بیٹھے فرد کو معمولی چوٹ آئی لیکن کار میں پچھلی نشست پر بیٹھی حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی ایم اے پولیٹیکل سائنس کی طالبہ اننیا گوئل کی برسر موقع ہی موت واقع ہوگئی ۔ کار چلانے والے جتن پوار اور نکیتا کو جو کہ ڈرائیور کی بازو والی سیٹ پر بیٹھی تھی قریبی دواخانے میں ابتدائی طبی امداد پہونچائی گئی۔
اخبار دکن کرانیکل کی رپورٹ کے مطابق اننیا گوئل حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی طالبہ تھی جبکہ بقیہ دو افراد اس کے دوست تھے ۔ ان تینوں نے دہلی کے انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ سے گریجویشن کا کورس کیا تھا ۔ گریجویشن کی تکمیل کے بعد ہی جتن پوار اور نکیتا نے نوکری کیلئے حیدرآباد کا رخ کیا تھا اور اننیا نے بھی اعلیٰ تعلیم کیلئے حیدرآباد میں واقع حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا ، اننیا گوئل کا تعلق اترپردیش کے علاقے شاملی سے تھا۔

10 جنوری کے مختلف اخبارات نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی اس طالبہ کی سڑک حادثہ میں موت کے متعلق خبر شائع کی۔ قارئین آپ حضرات سوچ رہے ہوں گے کہ سڑک حادثہ میں اگر ایک لڑکی کی موت واقع ہوجاتی ہے تو ٹھیک ہے، اس پر افسوس کیا جا سکتا ہے اور کیا؟ ایک نوجوان کی موت پر افسوس ہوتا ہے مگر اس حادثہ سے یا حادثہ میں مر نے والی لڑکی کے متعلق جان کر سیکھنے کی کونسی بات ہے ؟ جی جی میں دراصل اپنے اس موضوع کی طرف آرہا ہوں کہ شہر حیدرآباد نہ صرف اعلیٰ تعلیم کیلئے ملک بھر سے نوجوانوں کو راغب کر رہا ہے بلکہ ملازمت کے بھی بے شمار مواقع فراہم کر رہا ہے۔ جس سڑک حادثہ کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے اس میں مرنے والی لڑکی کا تعلق اترپردیش سے ہے جو اعلیٰ تعلیم کیلئے حیدرآباد آکر سنٹرل یونیورسٹی گچی باولی میں داخلہ لیتی ہے اور اعلیٰ تعلیم سے مراد سے ایم بی بی ایس یا انجنیئرنگ نہیں بلکہ ایم اے پولیٹیکل سائنس ہے۔ جی ہاں اننیا گوئل کے والدین اپنی لڑکی کو ایم اے پولیٹیکل سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے اپنے گھر شاملی اترپردیش سے ایک ہزار چھ سو اکیاون (1651) کیلو میٹر دور حیدرآباد بھیجتے ہیں۔ وہ تو خراب قسمت تھی کہ لڑکی کی ایک ناگہانی حادثہ میں موت واقع ہوگئی ۔ اب ذرااس لڑکی کے ساتھ حادثہ کے وقت کار میں سفر کرنے والے جتن پورا اور نکیتا کے متعلق بھی اخبار دکن کرانیکل نے کیا لکھا ہے جان لیجئے۔ جتن پوار بھی دہلی کے ادارے سے گریجویشن کرنے کے بعد حیدرآباد میں بطور ٹیکس کنسلٹنٹ کام کر رہا ہے اور دوسری لڑکی نکیتا وہ بھی حیدرآباد کی ہی ایک خانگی کمپنی میں ملازمت کر رہی ہے۔ قارئین خاص بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ کوئی انجنیئرس نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں نے تغلق آباد دہلی کے ایک ادارے سے بزنس مینجمنٹ کا پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما کیا ہے ۔ تعجب تو اس بات پر ہے، شہر حیدرآباد کے بڑے بڑے پروفیشنل اداروں کے پاس آوٹ پروفیشنل ڈگری ہولڈرس ہونے کے باوجود نوجوان نوکری کے حصول کیلئے پریشان نظر آتے ہیں اور یہ طلباء جس ادارے کے فارغ ہیں وہ کوئی کالج بھی نہیں بلکہ AICTE سے منظورہ ایک انسٹی ٹیوٹ ہے جس کو یونین پبلک سرویس کمیشن کے سابق رکن شری جسونت رائے بنسل نے 1996 ء میں شروع کیا تھا اور ان کا اپنا انسٹی ٹیوٹ شروع کرنے کا مقصد کیا تھا۔ انہوںنے اپنے ادارے کی ویب سائیٹ پر واضح طور پر لکھ رکھا ہے کہ اس ادارے کے قیام کا مقصد تجارتی منافع کمانا نہیں ہے اور اس ادارے کی کامیابی کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ اس ادارے سے پڑھنے والے سو فیصدی طلباء کو ملازمت کے مواقع فراہم کئے گئے ۔ شہر حیدرآباد کے مختلف سرکاری اداروں، یونیورسٹیز میں مسلمانوں کا تناسب پہلے ہی کم ہے اور پھر تلنگ انہ و حیدرآبادیوں کی تعداد تو اور بھی کم ہے۔

پچھلے برسوں میں جب ہم نے مختلف مرکزی جامعات (سنٹرل یونیورسٹیز) میں زیر تعلیم تلنگانہ کے طلباء اور مسلم طلباء کا تناسب معلوم کرنے کیلئے قانون حق معلومات (RTIACT) کے تحت درخواستیں دی تھی تو بہت سارے یونیورسٹیز نے مجھے جواب دیا اور بہت ساری یونیورسٹیز نے ادھوری یا نامکمل تفصیلات فراہم کی ۔ خود حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی سے مجھے واضح جواب نہیں دیا گیا کہ وہاں پر زیر تعلیم طلباء کی تعداد کتنی ہے ان میں مسلمان، ایس سی ایس ٹی اور دیگر او بی سی طلباء کتنے ہیں۔ ا یسی ہی ایک درخواست میں نے 18 مارچ 2016 ء کو شہر حیدرآباد میں واقع ایک اور سنٹرل یونیورسٹی The English and Foreign Languages University کے PIO کو بھی دی تھی جس کا جواب مجھے (18) مہینے سے زائد عرصہ کے بعد موصول ہوا جس میں (EFLU) میں زیر تعلیم مسلمانوں ایس سی اور ایس ٹی طلباء کی تفصیلات فراہم کی گئی ۔ قارئین آپ حضرات کو جان کر تعجب ہوگا ۔ ایفلو کے حیدرآباد کیمپس میں بی اے آنرس عربک میں داخلہ لینے دالے طلباء کی کل تعداد (19) بتلائی گئی جس میں سے (4) طلباء ایس سی ، (2) ایس ٹی طلباء بھی شامل ہیں جبکہ دیگر پسماندہ طبقات (OBC) کے زمرے سے (7) طلباء نے بی اے آنرس عربک میں داخلہ لیا۔
ایفلو کے رجسٹرار جو کہ اس یونیورسٹی کے چیف پبلک انفارمیشن آفیسر بھی ہیں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق یونیورسٹی کے مختلف کورسس میں جملہ (436) طلباء نے داخلہ لیا ہے جس میں مسلمان طلباء کی (50) رہی اوران میں سے بھی 9 مسلم طلباء کا تعلق بیرونی ممالک سے ہے۔ مسلم طلباء بی اے آنرس عربک میں نہیں کر رہے ہیں تو انگلش میں کر رہے ہیں ، یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ آر ٹی آئی کے جواب کے مطابق بی اے آنرس انگلش میں جملہ 37 طلباء نے داخلہ لیا جس میں ایس سی زمرے کے 6 طلباء ایس ٹی زمرے کے 3 طلباء اور مسلمانوں سے صرف اکلوتا ایک ہی طالب علم ہے جو بی اے آنرس انگلش سے کر رہا ہے۔ اننیا گوئل تو اب ہمارے درمیان نہیں لیکن آج بھی ایسے سینکڑوں اور ہزاروں طلباء ہیں جو حصول تعلیم کیلئے کئی ہزار کیلو میٹر کا فاصلہ طئے کر کے شہر حیدرآباد پہونچ رہے ہیں اور خود اس شہر حیدرآباد کے نو جوانوں کی مصروفیات کیا ہے۔
گولکنڈہ کے علاقہ سے ایک نوجوان کو پولیس حراست میں لینے کی خبر جاری کرتی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے فیس بک کے ذریعہ ایک مسلم لڑکی سے دوستی کی اور اس کو م لنے کیلئے قلعہ گولکنڈہ بلایا ، لڑکی وہاں پر اس نوجوان سے ملتی ہے اور اس کے ساتھ تصویریں اترواتی ہیں ، بعد میں جب اس لڑکی کی کسی دوسرے لڑکے ساتھ شادی کی بات ہوتی ہے تو مذکورہ لڑکا اپنے ساتھ کھنچوائی گئی لڑکی کی تصاویر دکھاکر لڑکی کی شادی کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
دوسری خبر شیخ پیٹ کے علاقے سے آتی ہے کہ پولیس نے ایک 20 برس کے نوجوان کو گرفتار کرلیا ۔ اس نوجوان کا قصور یہ ہے کہ یہ نوجوان اپنے ایک دوست کے رسم کی تقریب میں تلوار بازی کر رہا تھا ، تلوار بازی کے دوران تلوار وہاں موجود تماشہ دیکھنے والے کم عمر لڑکے کو لگ جاتی ہے ، گلہ کٹ جانے اور خون بہہ جانے کے سبب اس لڑکے کی موت واقع ہوجاتی ہے۔
نیکلس روڈ ٹینک بنڈ پر دو مسلم نوجوان مل کر ایک تیسرے مسلمان کا گلہ کاٹ کر قتل کردیتے ہیں۔ خبروں میں بتلایا گیا یہ سبھی لوگ روڈی شیٹر ہیں اور کسی پہلے کئے گئے قتل کا بدلہ لینے کیلئے قتل کی یہ نئی واردات انجام دی گئی۔ رات ساڑھے تین بجے شہر کے ایک شادی خانے کے باہر مسلم نوجوانوں کا ایک گروپ وہاں آنے والی پولیس فورس سے بحث و مباحثہ میں ملوث ہے، ایک جذباتی نوجوان باجہ بجانے سے روکنے پر چیختا ہوا کہتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی دُشمن ہے ’’دوسروں‘‘ کو تو رات رات بھر پکارا کرنے کی آزادی اور مسلمانوں کو شادی میں بھی باجہ بجانے سے مودی کے راج میں روکا جارہا ہے۔
مجھے تو بس یہی کہنا ہے کہ حیدرآباد دکن نے پولیس ایکشن کے بعد دوبارہ روشنیوں میں جینا سیکھا تھا ، اب خلیجی ملکوں امریکہ اور یور وپ میں ملازمت اور تعلیم کے مواقع بند ہونے کے بعد جب تلنگانہ اور حیدرآباد کے نوجوان وطن میں مواقع تلاش کرنے نکلیں گے تو انہیں احساس ہوگا کہ اپنے ہی شہر اپنے ہی وطن میں وہ نہ صرف اجنبی ہیں بلکہ اقلیت میں اور دوسروں کے رحم و کرم پر منحصر ہیں۔ دنیا بھر کے لوگ تلنگانہ میں موجود مواقع سے استفادہ کر رہے ہیں اور مقامی لوگ ریال و ڈالر کے چکر سے ابھی تک باہر نہیں نکل سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نیک توفیق عطا فرمائے اور حلال روزگار کی تلاش میں ہماری مدد فرمائے ۔ (آمین)
[email protected]

TOPPOPULARRECENT