Friday , April 27 2018
Home / اداریہ / اپوزیشن اتحاد کی جیت

اپوزیشن اتحاد کی جیت

اپوزیشن اتحاد کی جیت
اترپردیش کے دو لوک سبھا حلقوں گورکھپور اور پھولپور میں سماجوادی پارٹی امیدواروں کی ‘ بہوجن سماج پارٹی کی تائید سے کامیابی نے اپوزیشن اتحاد کیلئے امکانات وسیع کردئے ہیں۔ اترپردیش میں جن دو حلقوں کا انتخاب ہوا وہ کئی طرح سے اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ ان حلقوں میں گورکھپور وہ حلقہ ہے جہاں سے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نمائندگی کرتے تھے ۔ اس حلقہ پر 25 سال سے عملا بی جے پی کا قبضہ رہا ہے اور یوگی آدتیہ ناتھ یہاں کامیابی کی علامت بن گئے تھے ۔ اسی طرح پھولپور میں گذشتہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے تین لاکھ سے زیادہ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ یہ نتائج ایسے تھے جن سے پتہ چلتا تھا کہ بی جے پی کو اب یہاں شکست دینا آسان نہیں ہوگا ۔ بعض گوشے تو گورکھپور میں بی جے پی کی شکست کو تقریبا ناممکن قرار دیتے تھے لیکن بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی کے ایک فیصلے نے تقریبا نا ممکن کو ممکن بنادیا اور ایک طرح سے اس فیصلے نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کیلئے اپوزیشن اور مخالف بی جے پی جماعتوں کے حوصلے بلند کرنے کا کام کیا ہے ۔ ان دونوں حلقوں میں اور بہار کے اراریہ لوک سبھا حلقہ میں بی جے پی کی شکست نے یہ واضح کردیا ہے کہ بی جے پی سے مقابلہ ناممکن نہیں ہے ۔ موجودہ حالات میں بھی یہ مقابلہ مشکل ہوسکتا ہے لیکن ناممکن نہیں ہے اور سیاسی جماعتیں اگر اپنے سیاسی مفادات اور ترجیحات کو پس پشت ڈال کر ایک وسیع تر اتحاد بناکر آگے آتی ہیں تو بی جے پی کو حاشیہ پرکرنا ممکن ہوسکتا ہے ۔ سب سے پہلے یہ مثال آر جے ڈی ۔ جے ڈی یو اور کانگریس کے عظیم اتحاد نے بہار میں پیش کی تھی ۔ بہار میں بی جے پی ہرطرح کے ہتھکنڈے اختیار کرنے کے بعد بھی ناکام ہوگئی تھی اور بعد میں اس نے چور دروازے سے اقتدار حاصل کرلیا لیکن رائے دہندوں نے اسے مسترد کردیا تھا ۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بھی ایک عظیم اتحاد کی کوشش ہوئی جسے سیاسی مفاد پرستوں نے ناکام بنادیا تھا ۔ تاہم اب اکھیلیش یادو کی حکمت عملی اور مایاوتی کے مثالی فیصلے نے ایک بار پھر اپوزیشن کی صفوں میں نیا جوش پیدا کرنے کا کام کیا ہے اور اس جوش کو پورے ہوش و حواس کے ساتھ آگے لیجانے کی ضرورت ہے ۔
گورکھپور اور پھولپور نتائج نے آئندہ عام انتخابات سے قبل اپوزیشن کیلئے ایک موقع فراہم کیا ہے ۔ جو جماعتیں واقعی ملک میں سکیولرازم کی بقا کیلئے فکرمند ہیں اور وہ نہیں چاہتیں کہ فرقہ پرستوں اور فاشٹسوں کو ملک کے داخلی ماحول کو مزید خراب کرنے کا موقع ملے انہیں چاہئے کہ وہ ایک ایسے وسیع تر قومی اتحاد کی تشکیل کیلئے کوشش کریں جس کے ذریعہ بی جے پی کی مزید پیشرفت کو روکا جاسکے اور جس کے ذریعہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کی حکمت عملی کے ذریعہ مقابلہ کو آسان بنایا جاسکے ۔ اترپردیش ایسی ریاست ہے جو ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے ۔ اس ریاست نے ایک مثال پیش کردی ہے ۔ صرف دو لوک سبھا حلقوں میں خاموش اتحاد نے برسر اقتدار جماعت کی قلعی کھول دی ہے ۔ اس ریاست میں بی جے پی کے محصلہ ووٹوں کا جو تناسب ہے اس کا اگر جائزہ لیا تو یہ بی ایس پی ۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو محصلہ ووٹوں کے تناسب سے کم ہے تاہم ان تینوں جماعتوں نے علیحدہ مقابلہ کیا تھا اس لئے انہیں کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔ اگر یہ جماعتیں آئندہ انتخابات کیلئے اتحاد کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں اور اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوک دل اور ایسی ہی دوسری مقامی جماعتوں کو اتحاد میں شامل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو اسے بی جے پی کے خلاف ان کی پہلی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے اور عام انتخابات کے نتائج بی جے پی کیلئے توقعات کے بالکل برعکس ہوسکتے ہیں۔ یہ بات تو صرف اترپردیش کی تھی لیکن ایسا محاذ قوی سطح پر بھی بنائے جانے کی ضرورت ہے ۔
ملک کی کئی جماعتیں ایسی ہیں جو بی جے پی کے خلاف ایک اتحاد کی خواہش مند ہیں لیکن انہیں صحیح پلیٹ فارم اور مناسب موقع نہیں مل رہا ہے ۔ اگر ان جماعتوں کو یکجا کیا جائے تو بڑی کامیابی ممکن ہوسکتی ہے ۔ ترنمول کانگریس ‘ این سی پی ‘ نیشنل کانفرنس ‘ راشٹریہ جنتادل ‘ راشٹریہ لوک دل ‘ وائی ایس آر کانگریس ‘ بیجو جنتادل ‘ ٹاملناڈو کی کچھ جماعتیں ‘ عام آدمی پارٹی اور پھر کمیونسٹ جماعتیں آپس میں اتحاد کرسکتی ہیں۔ کانگریس پارٹی اس اتحاد کی قیادت کرسکتی ہے لیکن ریاستی سطح پر مقامی جماعتوں کو بھی بالادستی دی جاسکتی ہے ۔ کمیونسٹ جماعتوںاور خاص طور پر سی پی ایم کو اپنے وجود کو باقی رکھنا ہے تو پھر اتحاد کیلئے آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ صرف اپنی سوچ تک محدود رہنے یا اسے دوسروں پر مسلط کرنے کی کوششوں سے پارٹی مزید نقصان کا شکار ہوگی ۔ حالات کی نزاکت کو سمجھنا ہر جماعت کی ذمہ داری ہے اور بی جے پی سے مقابلہ کا یہی بہتر طریقہ ہے ۔

TOPPOPULARRECENT