Monday , November 20 2017
Home / اداریہ / اپوزیشن اتحاد کی کوششیں

اپوزیشن اتحاد کی کوششیں

یہ شاخِ نور جسے زلمتوں نے سینچا ہے
اگر پھلی تو شراروں کے پھول لائے گی
اپوزیشن اتحاد کی کوششیں
ملک میں صدارتی انتخاب کا وقت قریب آتا جا رہا ہے اور ایسے میں اپوزیشن جماعتوں نے اپنے ایک مشترکہ امیدوار کو میدان میں اتارنے کی حکمت عملی کو طئے کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے ۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں بھی تیز ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کیلئے اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ ملک بھر میں جہاں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کا حلقہ اثر بڑھتا جا رہا ہے وہیں اپوزیشن کی صفوںمیں انتشار دکھائی دے رہے ہے ۔ اسی انتشار کے نتیجہ میں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کو فائدہ ہوتا جا رہا ہے ۔ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں خود کو مستحکم کرتی جا رہی ہیں۔ ایک کے بعد دیگر ے ریاستوں میں بی جے پی اور اس کی حلیفوں کو کامیابی ملتی جا رہی ہے ۔ حالانکہ اپوزیشن اور خاص طور پر کانگریس پارٹی کو بھی مختلف مقامات پر قابل لحاظ حد تک ووٹ حاصل ہوئے ہیں لیکن یہ اپوزیشن کی صفوں کا بکھراو ہی تھا جس کی وجہ سے بی جے پی کے استحکام میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اگر اب بھی ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریز کرتی ہیں اور آپسی تعاون سے انکار کرتی ہیں تو ان کی صفوں میں مزید انتشار پیدا ہوگا اور بی جے پی مزید مستحکم ہوتی جائیگی ۔ جہاں تک بی جے پی کے استحکام کا سوال ہے وہ جتنا زیادہ ہوگا اپوزیشن کیلئے مشکلات اتنی ہی بڑھتی جائیں گی ۔ ابھی اپوزیشن کو حکومت کی جانب سے کوئی موقع بھی ایسا نہیں مل رہا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو گھیرا جائے ۔ اب جبکہ صدارتی انتخاب کا وقت قریب آتا جا رہا ہے تو یہ اپوزیشن کو اتحاد کا ایک موقع فراہم کر رہا ہے ۔ اگر اس موقع سے اپوزیشن جماعتیں فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو ان کیلئے آئندہ کا سفر قدرے آسان ہوسکتا ہے اور انہیں موقع مل سکتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے اپنے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کریں اور جہاں کہیں آئندہ انتخابات ہوں وہاں اتحاد کرتے ہوئے بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کی پیشرفت کو روکنے کیلئے اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھایا جاسکے ۔ یہی ایک طریقہ فی الحال نظر آتا ہے جس کے ذریعہ اپوزیشن کو اپنے استحکام پر توجہ دینے کا موقع مل سکتا ہے ۔
اپوزیشن جماعتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے بہار اسمبلی انتخابات میں ایک عظیم اتحاد تشکیل دیتے ہوئے مقابلہ کیا تھا اور اس کانتیجہ سارے ملک کے سامنے ہے ۔ خود بی جے پی کی صفوں میں بھی اسی وقت معمولی سی ہلچل نظر آئی تھی لیکن جب بی جے پی نے اترپردیش میں انتخابات میں زبردست کامیابی حاصل کرلی تو ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کی صفوںمیں مایوسی کی لہر پیدا ہوگئی ہے اور وہیں بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے عزائم اور منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہونچانے کی کوششوں کا آغاز کرچکی ہیں۔ ان کے عزائم اور منصوبے ملک کے عوام یا دوسری سیاسی جماعتوں سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یہ عزائم اور منصوبے ایسے ہیں جس سے ملک میں بے چینی کی فضا پید ا ہو رہی ہے ۔ ترقیاتی مسائل کہیں پیچھے چلے گئے ہیں اور محض انتشار کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے ۔ نزاعی مسائل کو کو چھیڑتے ہوئے عوام میں خود دوریاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف منافرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور یہ بات ملک کیلئے اچھی نہیں ہوسکتی ۔ جب تک ملک میں اطمینان اور سلامتی کا ماحول پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک ملک کی ترقی حقیقی معنوں میں نہیں ہوسکتی ۔ محض دکھاوے کے اعدادو شمار پیش کرنا ہر حکومت کا وطیرہ رہا ہے اور حقیقی مسائل سے توجہ ہٹاتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے ۔ ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام میں شعور بیدار کریں۔ حکومت کی ناکامیوں اور نامناسب پالیسیوں کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کیا جاسکے ۔
ہندوستان بھر میں آج جو کیفیت ہے وہ سب پر عیاں ہے ۔ یہ ایسی کیفیت ہے جو ملک کی ترقی کی راہ میں اصل رکاوٹ بن رہی ہے ۔ جب تک اس فضا کو ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک ہندوستان حقیقی معنوں میں ترقی نہیں کرسکتا ۔ حکومت اور اس کی حصہ دار جماعتیں تو اپنے ایجنڈہ اور عزائم کی تکمیل میں جٹی ہوئی ہیں لیکن اپوزیشن کو مایوسی کی کیفیت سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو آئینہ دکھانا اپوزیشن کا فرض ہے اور ابھی تک اپوزیشن اس میں ناکام رہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اگر آپس میں اتحاد کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو پھر حکومت کو گھیرنا ان کیلئے زیادہ مشکل نہیں ہوگا ۔ حالانکہ یہ کام آسان بھی نہیں ہے لیکن اگر اپوزیشن جماعتیں آپس میں اتحاد کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو یہ نا ممکن نہیں ہے ۔ یہ کام اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ہی سے ممکن ہوسکتا ہے اور اپوزیشن کو یہ کام کرنا ہی ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT