Wednesday , December 19 2018

اپوزیشن اتحاد ۔ چھو منتر

تلنگانہ / اے پی ڈائری خیر اللہ بیگ
تلنگانہ کے عوام کا اب کی بار ووٹ کا حدف نگران کار چیف منسٹر کے سی آر کی انا کے لیے ہوگا اس لیے کانگریس نے بھی عظیم اتحاد کا پرچم لہرانے کا عزم کرلیا ہے ۔ کانگریس قائدین کا یہ شوق کمال ہے کہ انہوں نے چیف منسٹر کو شکست دینے کا خواب دیکھا ہے جب کہ چیف منسٹر کے سی آر کو اپنے زوال کا خوف نہیں ہے ۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ سب میرے بغیر مطمئن ہیں اور میں بھی سب کے بغیر ہی دوبارہ اقتدار حاصل کرلوں گا ۔ کانگریس اپنی سیاسی برتری کے لیے کس حد تک کوشش کرے گی اور عظیم اتحاد کو مضبوط بنائے گی یہ چند دنوں میں معلوم ہوجائے گا ۔ کانگریس سے اکتا چکے رائے دہندے اس کے سیاسی اتحاد کو درست سمجھ کر ووٹ دیں گے تو کچھ بات بنے گی ۔ کے سی آر کی پارٹی کو اپنی قضا کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں ۔ لیکن الیکشن نے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل آوری کی ہدایت دے کر کچھ پریشانیوں کو بڑھا دیا ہے ۔ حکومت نے گذشتہ چار سال میں 452 نئی اسکیمات شروع کئے تھے ۔ ٹی آر ایس کے منشور میں ان اسکیمات کا ذکر ہے ۔ انہوں نے سوشیل سیکوریٹی پنشن اسکیم کے استفادہ کنندگان کے لیے وظائف میں اضافہ کا بھی اعلان کیا ہے ۔ اگر انہیں دوبارہ اقتدار حاصل ہوجائے تو غریبوں کے لیے فوائد والے کام کریں گے ۔ الیکشن کے وعدے تو بہت ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے محبت اور ایمانداری کا ہونابھی ضروری ہوتا ہے ۔ اپنی حکمرانی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اب وہ اپوزیشن کے عظیم اتحاد کو آنکھیں دکھا رہے ہیں ۔ اپنے انتخابی جلسوں میں انہوں نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کو تلنگانہ کا غدار کہنے والے کے سی آر کو اب فکر ہورہی ہے کہ اگر کانگریس تلگو دیشم کا اتحاد مضبوط ہوجائے تو ٹی آر ایس کے امکانات کم ہوجائیں گے ۔ اس لیے وہ راست طور پر چندرا بابو نائیڈو پر ہی برس پڑے ہیں ۔ نائیڈو کو برا بھلا کہتے ہوئے کے سی آر اپنے انداز سے گالی گلوج پر بھی اتر آئے ہیں ۔ کے سی آر کی ایسی برہمی پہلے نہیں دیکھی گئی ۔ جلسہ عام میں موجود عوام کو حیرت ہورہی ہے کہ آخر کے سی آر اس طرح کی زبان کیوں استعمال کررہے ہیں ۔ آیا انہیں کانگریس ، تلگو دیشم اتحاد کا خوف ہونے لگا ہے ۔ چند دن قبل ہی کے سی آر نے تلنگانہ تلگو دیشم کو ریاست میں صفر طاقت کی حامل پارٹی قرار دیا تھا ۔ اب اس صفر پارٹی کے کانگریس سے اتحاد کی خبروں نے کے سی آر کو مضطرب کردیا ہے ۔ ریاست کی بدلتی سیاسی فضا نے کے سی آر کو فکر میں مبتلا تو کردیا ہے ۔ عام طور پر سیاستدانوں کو یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ سیاسی وقت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتا ۔ آج یہ وقت ان کے ساتھ ہے تو کل کسی اور کا ہوگا ۔ اقتدار کی کوئی ضمانت بھی نہیں دے سکتا ۔ آج کے سی آر کی طوطی بول رہی ہے تو کل ان کی بولتی بند بھی ہوسکتی ہے ۔ اس لیے ان سیاستدانوں کی سیاسی دشمنی بھی عارضی ہی ہوتی ہے ۔ تمام پارٹیوں نے سیاستدانوں میں لو اور دو کی پالیسی زیادہ اہمیت رکھی ہے ایسے میں عوام کو کچھ نہیں ملتا ۔ کے سی آر نے بعض حریفوں کو درست بنایا ہے تو ان میں سے بعض کو جیل بھی بھجوایا ہے ۔ جیسا کہ ایک کیس میں تلگو اداکار نندمری بالا کرشنا کو انہوں نے بڑی مشکل سے بچایا تھا لیکن دیگر سیاستدانوں کے ساتھ سیاسی انتقام لینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔ اب انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے سیاسی و سرکاری مشنری کو سرگرم کردیا ہے ۔ آیا یہ جگا ریڈی کی گرفتاری ہو یا کانگریس لیڈر ریونت ریڈی کے خلاف انکم ٹیکس دھاوے ہوں ۔ انہوں نے اپوزیشن کو ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ جب تک وہ اقتدار پر ہیں انہیں اس سیاسی انتقامی کارروائی کا کوئی نقصان نہیں پہونچائے گا ۔ لیکن جب وہ اقتدار سے محروم ہوں گے اور ان کے حریف کو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کا موقع حاصل ہوجائے تو انہیں مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا پڑے گا ۔ کیوں کہ اپوزیشن قائدین کو معلوم ہے کہ کے سی آر نے اپنے دور حکومت میں کتنی بدعنوانیاں کی ہیں ۔ جیسا کہ کانگریس لیڈر ڈاکٹر ناگم جناردھن ریڈی نے کہا کہ کے سی آر رشوت اور بدعنوانیوں میں ملوث ہیں ۔ کے سی آر کی پارٹی کے کارکنوں نے اضلاع اور دیہاتوں میں عوام کو بے حد پریشان کر رکھا ہے ۔ آبپاشی کے پراجکٹس کے بہانے ایکڑوں کی زمین ہڑپ لی ہے اور کھڑی فصلوں کو زیر آب لایا گیا ہے ۔ کانگریس قائدین کے پاس کے سی آر کے خلاف بولنے کے لیے بہت کچھ ہے تو وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران اس ٹی آر ایس حکومت کی تمام خرابیوں کو بے نقاب کریں گے ۔ اگر کانگریس قائدین نے اپنا ہوم ورک پوری محنت سے کیا ہے تو رائے دہندوں کے سامنے حکومت کی خرابیوں کو آشکار کریں گے ۔ انقلابی شاعر غدر نے تو واضح کردیا ہے کہ عوام اس وقت سخت ناراض ہیں ۔ کے سی آر حکومت سے خوش نہیں ہیں ، کیوں کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے سے ان کے اندر مخالف حکمرانی جذبہ فروغ پا رہا ہے ۔ ظاہر ہے مسلمانوں کو تحفظات دینے کا وعدہ کر کے بھول جانے والے کے سی آر کو ریاست کے دیگر طبقات سے کئے گئے وعدے بھی یاد نہیں ہوں گے ۔ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کریں گے ۔ اگر عوام نے فیصلہ کرلیا ہے تو پھر یہ انتخابات کے سی آر کے لیے سخت ترین ثابت ہوں گے ۔ ماضی میں وائی ایس آر کانگریس کو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا تھا ۔ وائی ایس آر اور این ٹی آر اس غیر منقسم ریاست آندھرا پردیش کے طاقتور ترین لیڈر سمجھے جاتے تھے لیکن وقت نے انہیں بھی سبق سیکھا دیا تھا ۔ این ٹی راما راؤ کو تو ناقابل تسخیر سیاسی طاقت سمجھا جاچکا تھا لیکن عوام جب ناراض ہوتے ہیں تو ان کے فیصلہ کے سامنے کوئی طاقت قائم نہیں رہ سکتی ۔ زخم لگا کر اس نے اپنا ہاتھ دکھایا ہے تو عوام بھی دھوکا کھا کر کچھ چالاک ضرور ہوگئے ہیں ۔ لیکن ان کی چالاکی جب ہی دیکھی جائے گی تب وہ ہوشیاری کے ساتھ ووٹ دیں گے ۔ انتخابات کے وقت عوامی زندگی میں ایسا وقت کبھی نہیں آسکتا کہ آپ کے پاس سب کچھ بہترین ہو ۔ آپ چاہیں کچھ بھی فیصلہ کرلیں اقتدار ملنے کے بعد ہر پارٹی اور اس کا سربراہ اپنی چلاتا ہے ۔ لیڈر کی ہر بات صحیح نہیں ہوسکتی ، یہ ممکن نہیں کہ لیڈر یا حکمراں عوام کی ہر خواہش سے اتفاق کرلے ۔ ہر حکومت کی اپنی پالیسیاں اور نظریات ہوتے ہیں ہر پارٹی کے اپنے انداز ہوتے ہیں ۔ اس لیے اصولی طور پر سیاسی لڑائیوں کو چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہئے ۔ پالیسیوں پر بات کرنی چاہئے ۔ ماضی کو چھوڑ کر مستقبل کی طرف جانا چاہئے لیکن یہ حکومت اپوزیشن قائدین کے گھروں پر دھاوے کروا رہی ہے ۔ کیا اس حکومت کی ترجیح یہی ہونی چاہئے کہ وہ اپوزیشن کو نشانہ بناتے رہے ۔ انتخابات کے موقع پر میڈل کلاس ہو یا اعلیٰ کلاس اور چوپائیوں کی بیٹھک ہو اس میں ہونے والی بحث فضول درجہ کو پہونچتی ہے بعض اوقات یہ بحث موضوع ترین بھی ہوتی ہے ۔ موجودہ نگران کار حکومت کے ابتدائی خیالات اچھے تھے ۔ نیت بھی اچھی تھی مگر عمل میں تاخیر ہونے سے ناراضگیاں بڑھ گئی ہیں ۔ اب اپوزیشن کے اتحاد کے تعلق سے خوش گمانی پیدا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کانگریس اتحاد کے چھومنتر سے عوام کا دل خوش ہوجائے گا لیکن مسائل جوں کے توں رہیں گے تو پھر کیا کریں گے ؟ ۔۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT