Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / اپوزیشن ‘ بد دیانت افراد کو بچانے کوشاں ‘ وزیر اعظم مودی

اپوزیشن ‘ بد دیانت افراد کو بچانے کوشاں ‘ وزیر اعظم مودی

اے ٹی ایم قطاروں میں کھڑے افراد کو اکسانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ اکھیلیش حکومت پر بھی تنقید ۔ کانپور میں ریلی سے خطاب
کانپور 19 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) انوٹ بندی مسئلہ پر اوپزیشن پر اپنی تنقیدوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ٓج الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں چونکہ بد دیانت افراد کا دفاع کر رہی تھیں اس لئے پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے کالے دھن اور کرپشن کے مسائل پر مباحث سے فرار اختیار کی ہے ۔ بی جے پی کی پریورتن ریلی سے یہاں خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ کچھ سیاستدانوں نے اے ٹی ایم کی قطاروں میں کھڑے افراد کو اکسانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے عزائم کو کامیاب ہونے نہیں دیا گیا کیونکہ عام آدمی نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور وہ یہ بات سمجھتا تھا کہ ملک کے وسیع تر مفادات کا سوال ہے ۔ مودی نے کہا کہ پارلیمنٹ سرمائی اجلاس سے قبل ایک کل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا تھا ۔ ان کی تجویز تھی کہ اجلاس میں اسمبلی اور لوک سبھا کے انتخابات بیک وقت منعقد کرنے اور سیاسی جماعتوں کو عطیوں کے مسئلہ پر مباحث ہوسکیں۔ تاہم پارلیمنٹ کو کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ ایک ماہ تک یہ صورتحال رہی ۔ اپوزیشن جماعتیں دونوں مسائل پر مباحث کیلئے تیار نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی مثالیں ایسی ہیں جب اپوزیشن جماعتیں کرپشن اور اسکامس کو بے نقاب کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل پیدا کرتی تھیں لیکن اس بار پارلیمنٹ کو اس لئے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا کیونکہ اپوزیشن جماعتیں بد دیانت افراد کو بچانا چاہتی تھیں ایسے میں انہوں نے مباحث سے فرار اختیار کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایجنڈہ ملک کو کرپشن اور کالے دھن سے پاک بنانا ہے لیکن ان کا ایجنڈہ پارلیمنٹ کی کارروائی میں خلل پیدا کرنا تھا ۔ وہ الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔ کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس قائدین کہتے ہیں کہ راجیو گاندھی نے کمپیوٹر اور موبائیل فونس کو عام آدمی تک پہونچانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ اب جبکہ وہ ( مودی ) یہ کہتے ہیں کہ موبائیل فونس کو بینک کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ غریب عوام کے پاس موبائیل فونس نہیں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کے پاس بینک اکاونٹس نہیں ہیں ۔ پھر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ غریب عوام بینک کو جا رہے ہیں لیکن وہاں پیسہ نہیں ہے ۔ یہ لوگ جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں۔ مودی نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہمیشہ سے عوام کے سامنے جوابدہی سے فرار اختیار کرتی رہی ہے ۔ انہوں نے ایک پرانی کہاوت کا حوالہ دیا جو کانگریس کے اس وقت کے خازن سیتارام کیسری کے تعلق سے تھی ۔ اس وقت کہا جاتا تھا کہ ’’ نہ کھاتہ ۔ نہ بہی ۔ جو کیسری کہے وہی صحیح ‘‘ ۔ وزیر اعظم نے عوام سے کہا کہ 1000 اور 500 روپئے کے کرنسی نوٹوں کو بند کرنے کے فیصلے سے ملک کے دو منظر سامنے آئے ہیں۔ ایک وہ مٹھی بھر افراد ہے جو مڈل کلاس کا استحصال کرتے ہیں اور غریبوں کے حقوق چھین لیتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جو کرپشن اور کالے دھن کی لعنت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی نظام سے کالے دھن کو ختم کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کی کوششوں کی بھی ستائش کی اور کہا کہ بی جے پی اس کا خیر مقدم کرتی ہے ۔ انہوں نے اترپردیش میں اکھیلیش یادو حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ریاست میں غنڈہ عناصر عوام کو کھلے عام خوفزدہ کر رہے ہیں کیونکہ انہیں ریاست میں اقتدار رکھنے والوں کی تائید و حمایت حاصل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT