Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / اپوزیشن‘ دلتوں و اقلیتوں کو این ڈی اے سے خوفزدہ کرنے میں کامیاب

اپوزیشن‘ دلتوں و اقلیتوں کو این ڈی اے سے خوفزدہ کرنے میں کامیاب

موہن بھاگوت کے ریمارک کا بھی اثر ‘  بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج پر مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان کا تجزیہ
نئی دہلی۔/19نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کی شکست پر تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں عوام کو یہ قائل کروانے میں کامیاب ہوگئی تھیں کہ این ڈی اے برسر اقتدار آنے کی صورت میں دلتوں کے ریزرویشن ختم اور اقلیتیں غیر محفوظ ہوجائیں گی۔ بہار میں بدترین شکست کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے لوک جن شکتی پارٹی سربراہ نے کہا کہ چیف منسٹر نتیش کمار کا یہ فیصلہ بھی کار گر ثابت ہوا کہ دیگر پسماندہ طبقات سے وابستہ متعدد ذاتوں کی انتہائی پسماندہ طبقات اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کو درج فہرست ذاتوں و قبائیل کے زمروں میں منتقل کردیاجائے، جس کے نتیجہ میں رائے دہندوں کی اکثریت عظیم اتحاد کے حق میں ہوگئی۔ تحفظات پالیسی پر نظر ثانی کیلئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوت کے مشورہ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر پاسوان نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے والا یہ واحد مسئلہ تھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موہن بھگوت کے اس ریمارکس پر عوام کو گمراہ کرنے میں عظیم اتحاد کے قائدین کامیاب ہوگئے جس کے نتیجہ میں عوام میں یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ این ڈی اے اقتدار میں آنے پر تحفظات ختم کردیئے جائیں گے۔ تاہم این ڈی اے قائدین گمراہ کن مہم کا موثر جواب دینے میں ناکام ہوگئے۔

گوکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ نے واضح کیا تھا کہ ریزرویشن سسٹم برخاست کردینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ موہن بھگوت نے کس سیاق و سباق  میں ریزرویشن کے بارے میں ریمارکس کئے تھے۔ ممکن ہے کہ گجرات میں پٹیل برادری کیلئے ریزرویشن پر ہر دیک پٹیل کی احتجاجی تحریک کے جواب میں یہ بیان دیا گیا ہوگا۔ علاوہ ازیں بیف کے مسئلہ پر دادری میں پیش آئے قتل اور اس کے تنازعہ پر این ڈی اے بھنور میں پھنس گئی۔ اگرچیکہ دادری کا واقعہ امن و قانون کا مسئلہ تھا جس کی ذمہ دار سماجوادی پارٹی حکومت تھی اور اس مسئلہ سے ملائم سنگھ یادو کو نمٹنا چاہیئے تھا۔ لیکن اس واقعہ پر بہار میں اپوزیشن جماعتوں نے اقلیتوں میں یہ خوف پیدا کردیا کہ اگر این ڈی اے اقتدار میں آئے گی تو وہ محفوظ نہیں رہیں گے۔ تاہم مسٹر رام ولاس پاسوان نے اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم اور بی جے پی صدر امیت شاہ کے رول کی ستائش کی جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران ریالیوں کو مخاطب کیا اور انتخابی حکمت عملی تیار کی تھی۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ کسی بھی انتخابات میں شکست اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔انہوںنے پیش قیاسی کی کہ نتیش کمار کی زیر قیادت مخلوط حکومت 5سالہ میعاد مکمل نہیں کرے گی اور یہ استدلال مسترد کردیا کہ بہار کے انتخابی نتائج سال 2019 کے پارلیمانی انتخابات پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایل جے پی سربراہ نے کہا کہ یہ بہتا پانی ہے اور 6ماہ بعد یہ پانی اپنی جگہ سے بہہ جائے گا اور سال 2019 تک گنگا میں مزید پانی آجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT