Thursday , September 20 2018
Home / Top Stories / اپوزیشن… ’’وطن کی فکر کر نادان‘‘

اپوزیشن… ’’وطن کی فکر کر نادان‘‘

غضنفر علی خان
ہم ہندوستانی ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہم کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ کونسی راہ ہمارے لئے مناسب اور محفوظ ہے ۔ اگر ہم کو صحیح راہ چننا ہے تو بڑی فکرمندی ، فراست اور دانشمندی سے کام لینا ہوگا ۔ یہ وہ دور ہے جس میں ہماری طئے شدہ رواداری، مہر و محبت ، تکثیری طاقت کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ ہمارا سیکولرازم دم تو خیر نہیں ہے توڑ رہا ہے لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سیکولرازم اور رواداری کا دم گھٹ رہا ہے ۔ اس کو سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے ۔ سیکولرازم کو یہ خوف کھائے جارہا ہے کہ آزادی کے 70 سال بعد حالات کیوں بدل گئے ہیں۔ ملک کی اکثریت کیوں تیزی کے ساتھ فرقہ پرستی کے زہر سے متاثر ہورہی ہے ۔ یہ بات اس لئے اور بھی تشویشناک ہوگئی ہے کہ رواداری اور سیکولرازم کی حفاظت کرنے والی سیاسی طاقتیں فرقہ پرستی کے آگے خم ٹھوک مار کر کھڑی نہیں رہی ہیں۔ ایسے وقت جبکہ رواداری اور تکثیریت کو نئی طاقت دی جانی چاہئے ۔ ملک کی سیکولر سیاسی پارٹیاں منتشر ہوتی جارہی ہیں۔ آپس میں سرپھٹول کرنے اور اپنی پارٹی کے مفادات کو بچانے کے علاوہ اور کوئی مقصد اپوزیشن جماعتوں کے پاس نہیں رہا ۔ برخلاف اس کے بی جے پی اور آر ایس ایس کے ساتھ سارا سنگھ پریوار متحد ہے۔ حیرت انگیز طور پر اپوزیشن پارٹیاں اس صورتحال کو سمجھنے کے لائق نہیں رہی ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی نمائندگی نہیں بلکہ قیادت اس وقت وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ میں ہے۔ ہندی بولنے والی ریاستوں میں ان ہی کا طوطی بول رہا ہے ۔ ہر طرف ان ہی کا چرچہ ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے مودی اس وقت ملک کے مقبول عام لیڈر ہیں۔ عوام ان کی بناوٹی باتوں سے متاثر ہورہے ہیں ۔ اگرچیکہ یہ باتیں کوئی حقیقی وجوہ نہیں تھیں لیکن وقتی طور پر ضرور ملک کے عوام کی بڑی تعداد پراثر اندازی ہورہی ہیں۔ سیاسی بصیرت رکھنے والے بھی حیران ہے کہ کیسے مودی کا جادو اثر انداز ہورہا ہے۔ وزیراعظم کے شخصی اثر کی بات جس کا ذکر بھی ناگوار گزرتا ہے تو دوسری طرف اہل فکر ہندوستانیوں کو اس بیماری کا بھی اندازہ ہے کہ کم و بیش ساری جماعتوں میں ایسی کوئی قیادت نہیں ہے جو ملک گیر سطح پر مودی کے مقابلے میں کمتری ہوسکتی ہے۔ قومی سطح کی کوئی پارٹی دکھائی نہیں دیتی جو بی جے پی ، آر ایس ایس کا مقابلہ کرسکے۔ اس صورتحال میں لے دے کر کانگریس ہی ایسی سیاسی پارٹی دکھائی دیتی ہے جس کا سارے ہندوستان پر تھوڑا بہت اثر ہے ۔ کانگریس کے علاوہ کوئی اور پارٹی بی جے پی آر ایس ایس کے محاذ سے ٹکر نہیں لے سکتی ۔ کانگریس اپنے سیاسی زوال کے باوجود ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ رکھتی ہے۔ حالیہ عرصہ میں راہول گاندھی کی شکل میں ایک قیادت بھی پارٹی میں ابھری ہے ۔ اپوزیشن کے لئے متحد ہونے کی صورت میں (جس کی کوشش کی جارہی ہے ) قومی سطح کی قیادت کی کمی تو صدر کانگریس راہول گاندھی دور کرسکتے ہیں ان ہی کوششوں کے سلسلہ میں صدر کانگریس راہول گاندھی کی پیشرو اور ان کی والدہ سونیا گاندھی نے یکم فروری کو تمام اپوزیشن پارٹیوں کا غیر رسمی اجلاس طلب کیا۔ اکثر پارٹیاں ایسی رہیں جنہوں نے کانگریس کی ا یماء پر طلب کردہ اجلاس میں شرکت کی لیکن رخنہ اندازی اب بھی جاری ہے جس کی جیتی جاگتی مثال مغربی بنگال کی چیف منسٹر اور ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی نے اس میں شرکت کرنے سے گریز کیا۔ جو اپوزیشن کے اتحاد کیلئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو اس وقت بھی ایک دھکا لگا جبکہ بہار کے اپوزیشن لیڈر اور وہاں کے بے انتہا مقبول لیڈر صدر آر جے ڈی لالو پرساد یادو کو چارہ گھٹالہ کیس میں سزا ملی۔ لالو پرساد کی موجودگی اپوزیشن کے مجوزہ اتحاد کے لئے بے حد اہم ہے ۔ کوئی اور دوسرا لیڈر نہیںجو بی جے پی کے بڑھتے ہوئے قدم روک سکے۔ بہار میں بی جے پی کو انتخابی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ لالو پرساد یادو اور نتیش کمار متحد تھے ۔ اب بھی نتیش کمار بی جے پی کے پسندیدہ بہاری لیڈر ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کی تائید سے حکومت کو بچاکر سیکولر پارٹیوں سے اپنی دوری اور فاصلہ کو واضح کردیا ۔ مارکسٹ کمیونسٹ پارٹی لیڈر سیتارام یچوری کو خود اپنی پارٹی میں ایک اور سینئر لیڈر پرکاش کرت سے اختلاف ہے۔ بعض گوشوں کو تو یہ شبہ ہے کہ مارکسٹ کمیونسٹ پارٹی کے اب دو گروپس ہوگئے ہیں اور اگر کسی وقت دونوں گروپس علحدہ ہوجائیں تو ملک کی سیکولر طاقتیں اور بھی کمزور پڑجائیں گی ۔ یہ احوال داخلی اپوزیشن پارٹیوں کے ہیں کہ آپس میں ایک دوسرے سے اتنا اختلاف نظر آرہا ہے کہ اتحاد ہونا نظر نہیں آرہا ہے۔ ان تلخ حقائق کے باوجود سونیا گاندھی مخالف جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ 2019 ء میں جو چناؤ ہوں گے وہ صاف طور پر فرقہ پرستی ، تنگ نظری اور عصبیت اور کھلے سماج کثرت سے وحدت کے نظریہ کے درمیان ہوں گے نہ اکیلی کانگریس یا راہول گاندھی ملک کے سیاسی منظر کو بدل سکتے ہیں اور نہ منتشر اپوزیشن کچھ کرسکتی ہے ۔ یہ چناؤ دو نظریات کے درمیان آر پار کی لڑائی ہوسکتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں 1970 ء کے دہے میں متحد ہوئیں تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کانگریس حکومت نے مسز اندرا گاندھی کی قیادت میں ایمرجنسی نافذ کردی تھی ۔ اپوزیشن جماعتوں کا یہ اتحاد اس لئے ممکن ہوسکا تھا کہ ان جماعتوں کو یکجا اور متحد کرنے کے لئے ایک بڑی بے لوث قیادت آنجہانی جئے پرکاش نارائن موجود تھے ۔ اب ایسی کوئی لیڈر شپ سارے ملک میں نہیں ہے جو ایسا اپوزیشن اتحاد پیدا کرسکتے۔ 1970 ء کے دہے میں ایک مشترکہ متحد اپوزیشن کا سامنا تھا ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ سے ملک میں تمام جمہوری اور دستوری ادارے ختم کردیئے گئے تھے ۔ فی الحال ایمرجنسی تو نہیں ہے لیکن حالات تیزی کے ساتھ ویسے ہی ہورہے ہیں جیسے کہ 70 کے دہے میں تھے۔ دستوری اداروں کی خود مختاری تیزی کے ساتھ چھینی جارہی ہے ۔ اپوزیشن کو خاموش کرانے کے لئے اہم اپوزیشن لیڈروں کو مختلف طریقوں سے ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس ایسے نظریات اور خاص طور پر ’’ہندوتوا‘‘ کو نافذ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ سیکولرازم کے لفظ کی دستور میں موجودگی کو خطرات کا شکار بنایا جارہا ہے۔ غرض حالات ہر دن ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ وزیراعظم مودی کی شخصیت پرستی پورے عروج پر ہے۔ ان کے اشارے پر ہمارے ملک میں سب کچھ ہوتا ہے۔ ان کی حکومت ہندوستان کی رواداری کو نیست و نابود کر رہی ہے ۔ ہندوستان کو عالمی برادری میں بہت چھوٹا کیا جارہا ہے اور اپوزیشن ہے کہ باہمی اختلافات کی شکار ہوتی جارہی ہے ۔ فرقہ پرست طاقتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئی ہیں۔ ان کا ایک محاذ بن چکا ہے ۔ انہیں فرقہ پرست ایجنڈے کا نفاذ قریب تر نظر آرہا ہے اور اپوزیشن بکھرتی چلی جارہی ہے ۔ اب جو کوششیں اپوزیشن کے اتحاد کیلئے کی جارہی ہے اگر کامیاب ہوتی ہیں تو مجوزہ عام انتخابات میں ویسی یک طرفی کا منظر پیش نہیں کریں گے جیسے پچھلے عام انتخابات میں دیکھی گئی تھی ۔ اپوزیشن کو اگر کانگریس کی قیادت متحد کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ خطرات ختم ہوگئے ہیں جو ہندوستان کے متحمل پسند کیلئے اور تکثریت پسند عوام چاہتے ہیں جو ہندوستان کے سماجی ڈھانچے کی روح ہے ، چونکہ تمام جماعتوں میں کوئی اتنا قد آور لیڈر نہیں ہے جو ا یسی قیادت فراہم کرسکے ۔ گزشتہ چند ہفتوں سے راہول گاندھی امید کی کرن بن کر ابھرے ہیں۔ گجرات کے انتخابات سے یہ بات ظاہرہوتی ہے کہ راہول گاندھی اایک قومی سطح کے لیڈر اور کانگریس پارٹی قومی پارٹی کی طرح بی جے پی آر ایس ایس اتحاد کو اقتدار سے بیدخل کرسکتے ہیں۔ یہ زمینی حقیقت ہے ، یہی نوشتہ دیوار ہے کہ اپوزیشن جماعتیں باہمی رسہ کشی اور بے سود اختلاف کو ختم کرتے ہوئے اپنے مشترکہ دشمن اور سیاسی حریف بی جے پی اور سنگھ پریوار کی طاقتوں پر وار کرسکتے ہیں۔ یہ اتحاد کیسا ہوگا اس کے بارے میں تمام اپوزیشن جماعتوں کو کھلے ذہن سے سوچنا ہوگا اور کانگریس پارٹی کو بھی اپنی اس غلط فہمی کو ختم کرنا پڑے گا کہ وہ ملک میں سیکولرازم کی واحد نمائندہ ہے ۔ اگر یہ تمام باتیں نہ ہوں تو پھر ہمیں آئندہ نسلوں سے شرمندہ ہونا پڑ ے گا۔
وطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

TOPPOPULARRECENT