Monday , September 24 2018
Home / اداریہ / اپوزیشن کا متحدہ مارچ

اپوزیشن کا متحدہ مارچ

ملک کے کسانوں اور غریبوں کے مستقبل کے داؤ پر لگاکر کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دینے والی نریندر مودی حکومت کے منصوبوں کو ناکام بنانے اپوزیشن پارٹیوں نے منظم طریقہ سے مخالف حصول اراضی بل جدوجہد کا اعلان کیا ہے تو اس سے آنے والے دنوں میں حکومت کے خلاف اپوزیشن کی اہمیت کو ترجیحی موقف حاصل ہوگا۔ لوک سبھا انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ اپنے اتحاد کا سبب سے بڑا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن نے حکومت کے مخالف کسان و غریب منصوبوں کو راجیہ سبھا میں شکست دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس خصوص میں 14 سیاسی پارٹیوں کے قائدین کی جانب سے راشٹرپتی بھون تک نکالے گئے مارچ کی اگر سیاسی افادیت پر نظر ڈالی جائے تو یہ مودی حکومت کی من مانی کے خلاف مضبوط مورچہ بندی ہے۔

ہندوستانی جمہوریت و سکیولر قدروں کو پامال کرتے ہوئے حکمرانی کے اندھادھند فیصلے کرنے والی حکومت کو یہ احساس دلانا ضروری تھا کہ ملک میں اپوزیشن نام کی کوئی چیز ہوتی ہے۔ عوام کے بھاری خط اعتماد کے حصول کے بعد اقتدار کا نشہ اتنا قوی تھا کہ مودی حکومت اس نشہ سے سرشار ہوکر جو منصوبے بنائی تھی، اس کو اپوزیشن نے پسند نہیں کیا ہے۔ اپوزیشن نے عوام کی نظروں میں پسپائی سے بچنے کیلئے متحدہ مظاہرہ کیا ہے اور مودی حکومت کے خلاف آر پار کی لڑائی کا اعلان کیا ہے تو اس سے غریب عوام کے حق میں بہتر کاموں کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ سابق وزرائے اعظم منموہن سنگھ اور ایچ ڈی دیوے گوڑا کے بشمول 26 قائدین کے وفد کی صدرجمہوریہ سے نمائندگی سے اگر ہندوستانی غریب عوام اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے تو ملک میں انتشار اور سماجی عدم مساوات کا کھیل شروع ہونے سے پہلے اس کو ختم کرنے میں کامیابی ملے گی لیکن ملک میں ایسے لوگوں کی بھی اکثریت ہے جو مودی حکومت کی پالیسیوں اور منصوبوں کو ملک کے حق میں بہتر سمجھ رہے ہیں۔ کانگریس زیرقیادت یو پی اے حکومت مرحلہ اول اور دوم کی ناکامیوں اسکامس کا حوالہ دینے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ کانگریس نے آج جس زعم سے کسانوں اور غریبوں کے حق میں آواز اٹھا رہی ہے، دراصل وہ گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی ہے جو اس کے دور حکومت میں سرزد ہوئے ہیں۔

کانگریس نے سارے ملک میں ہزاروں افراد کو اپنی ناکام پالیسیوں کے ذریعہ بیروزگار بنادیا تھا۔ اب مودی حکومت میں ملک کا کچھ بہتر ہونے جارہا ہے تو اس کی مخالفت کرنا کوئی منصفانہ کوشش نہیں ہے۔ بی جے پی کے حامیوں کو یہ سابق حکمران پارٹی سے یہ بھی شکایت ہے کہ اس نے اپنی غلط حکمرانی کے ذریعہ ملک کو بدترین حد تک تباہ کردیا تھا۔ اب وقت بدل چکا ہے تو ہندوستانی ترقی کے لئے مودی حکومت کی پالیسیاں ہی کارگر ثابت ہوں گی۔ کانگریس پارٹی نے اپنے ہم خیال سیاسی پارٹیوں کو لے کر آج جس حصول اراضی بل کی مخالفت کی ہے، اس کی حکمرانی والی ریاستوں میں بھی کسانوں سے زبردستی اراضیات حاصل کرنے کی شکایات کا انبار موجود ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں سابق چیف منسٹر ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی پر بھی الزام تھا کہ انہوں نے حیدرآباد اور اطراف و اکناف کے علاوہ ساحلی آندھرا میں کسانوں، مسلمانوں اور وقف بورڈ کی اراضیات کو زبردستی یا چالاکیوں کے ذریعہ حاصل کرلیا تھا۔

ہندوستانی عوام کے ذہنوں میں مخالف بی جے پی اور موافق کانگریس یا مخالف کانگریس اور مودی حکومت حامی اکثریت کا خیال فروغ پارہا ہے تو اس سے ہندوستانی سیاسی رسہ کشی کی سطح کس بلندی تک پہونچے گی، یہ وقت ہی بتائے گا کیونکہ کانگریس نے 2013ء میں عجلت میں حصول اراضی بل کو منظور کیا تھا تاکہ عوام الناس سے ووٹ حاصل کرسکے لیکن یہ قانونی نقائص سے بھرپور تھا اور اس کا تسلسل مودی حکومت نے برقرار رکھ کر یا اس میں اپنی دانش کے مطابق ترمیمات کرکے کارپوریٹ گھرانوں کو فوائد پہونچانے کا فیصلہ کیا ہے تو ہر دو حکومتوں کا من مانی فیصلہ ملک کے عوام کے مستقبل کے لئے مضرت رساں بن جائے تو اس کے لئے کون ذمہ دار ہوگا۔ ہندوستان کے داخلی اُمور میں خاص کر کسانوں اور غریبوں کی اراضیات کو ہڑپنے کے معاملے میں بین الاقوامی سازش کا شکار ہوکر اگر مودی حکومت یا سابق کانگریس حکومتوں نے غلطیاں کی ہیں تو اس طرح کی غلطیوں کا خمیازہ عوام الناس کو بھگتنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ اس کے لئے عوام کو ہی بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT