Friday , June 22 2018
Home / سیاسیات / اپوزیشن کوقومی مفادات سے زیادہ سیاسی فوائد کی فکر

اپوزیشن کوقومی مفادات سے زیادہ سیاسی فوائد کی فکر

نئی دہلی۔/23ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں قانون سازی کی کارروائی سے بازرکھنے کیلئے عمداً رکاوٹ پیدا کی گئی ہے۔ حکومت نے آج کہا کہ وہ تنگ نظر سیاسی فوائد کیلئے قومی مفادات کو یرغمال بنانے کی کوشش میں ہے۔ وزیر پارلیمانی اُمور مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران

نئی دہلی۔/23ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) اپوزیشن پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں قانون سازی کی کارروائی سے بازرکھنے کیلئے عمداً رکاوٹ پیدا کی گئی ہے۔ حکومت نے آج کہا کہ وہ تنگ نظر سیاسی فوائد کیلئے قومی مفادات کو یرغمال بنانے کی کوشش میں ہے۔ وزیر پارلیمانی اُمور مسٹر ایم وینکیا نائیڈو نے کہاکہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران اپوزیشن نے راجیہ سبھا میں قومی مفادات کے خلاف کام کیا ہے۔ اجلاس کی نصف کارروائی اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور شور وغل کی نذر ہوگئی جسے کسی بھی طرح حق بجانب قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ یہ انتہائی بدبختانہ امر ہے کہ قومی مفادات پر سیاسی موقع پرستی کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارگذاری کا تقابل کرتے ہوئے دریافت کیا کہ ایوان بالا کے 22اجلاسوں ( سیٹنگس ) میں سے 16میں رخنہ کیوں پیدا کیا گیاجبکہ لوک سبھا کے 5اجلاسوں ( سیٹنگس) میں صرف معمولی نوعیت کی رکاوٹ درپیش رہی۔ انہوں نے بتایا کہ لوک سبھا میں 18بلز منطور کئے گئے جبکہ گزشتہ بجٹ اجلاس میں یہ صرف 12 تھے اس کے برعکس راجیہ سبھا میں صرف 12بلز منظور ہوئے ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ لوک سبھا میں منظورہ بلز کو راجیہ سبھا میں منظور نہیں کیا جاسکا چونکہ لوک سبھا میں بی جے پی کو اکثریت حاصل ہے اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن کو اکثریت ہے یہی وجہ ہے کہ لوک سبھا میں تعمیری کام انجام دیا گیا جبکہ راجیہ سبھا میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہوئے قیمتی وقت ضائع کردیا گیا۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے پارلیمنٹ کی کارروائی کو مفلوج کردینے پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ترقیاتی ایجنڈہ پر عمل آوری سے باز رکھنے کی یہ کوشش ہے۔ پارلیمنٹ کے باہر ایک وزیر سادھوی نرنجن جیوتی کے دیئے گئے

ایک متنازعہ بیان پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی درخواست پر وزیر اعظم نریندر مودی ایوان پہنچ کر متنازعہ بیان سے اتفاق نہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ اپوزیشن وزیر اعظم سے یہ اصرار نہیں کرسکتی کہ ہر ایک مسئلہ پر لب کشائی کریں۔ ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور نے کہا کہ اپوزیشن نے بجٹ اجلاس میں انشورنس بل کو منظوری سے اتفاق کرلیا تھا لیکن سرمائی اجلاس میں وعدہ خلافی کرتے ہوئے بل کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کردی۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ آیا انشورنس بل کی نامنظوری کے پیش نظر حکومت آرڈیننس جاری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کا محاسبہ کرنے کیلئے 6ماہ کا وقت بہت ہی مختصر ہے۔

TOPPOPULARRECENT