Saturday , December 15 2018

اپوزیشن کے لئے مایاوتی نہایت ضروری ہیں۔

رد پوار جیسے لیڈر کا کہنا ہے کہ مذکورہ اپوزیشن کی تمام تر توجہہ علاقائی سطح کے مخصوص اتحاد پر مشتمل ہے‘مقامی لیڈر کو قیادت کی ذمہ داری تفویض کرنے پر ہوگی۔ جس طرح کے بیانات مایاوتی دے رہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس کو قبول نہیں کریں گی۔
نئی دہلی ۔ہندوستان کی سیاست میں ضمنی انتخابات بہت ہی کم اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

تاہم اترپردیش کے گورکھپور‘ پلپور اور کیرانانے قومی سرخیاں بٹوری ہیں۔اس کی وجہہ متحدہ اپوزیشن کے ہاتھوں بی جے پی کا شکست سے دوچا ر ہونا ہے‘ سماج وادی پارٹی‘ بہوجن سماج پارٹی کے اتحاد نے بی جے پی کو یہ شکست دی تھی۔

آسان انتخابی زبان میں اگر کہیں تو ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست میں بی جے پی کے لئے دشواریاں کھڑا کرسکتا ہے۔

پچھلے2014کے لوک سبھا اور2017کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی نے 80فیصد اور 77فیصد کے تناسب سے 43فیصد اور40فیصد ووٹ لئے تھے۔

جبکہ ایس پی اور بی ایس پی کا متحدہ ووٹ شیئر43اور44فیصد کا ہے۔

اگر اس میں کانگریس کا ووٹ شیئر ملالیاجائے تو یہ تناسب پچاس فیصد سے اونچا ہوجائے گا۔بڑے مسئلہ اترپردیش میںیہ ہے کہ بی جے پی کیا اپنے مقصد کو 2014تک مطابق دہر پائے گی۔مگر سیاست محض اعداد وشمار کا کھیل نہیں ہے۔

ہندوستان کے مخالف بی جے پی سیاسی محاذ بڑے پیمانے پر منقسم ہے۔کئی واقعات میں مخالف بی جے پی جماعتوں کی تاریخ یہ رہے کہ وہ نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔یہی وجہہ ہے کہ بی جے پی کے خلاف کوئی مضبوط محاذ اب تک کھڑا نہیں ہوسکا ہے۔

بہار میں جنتادل(یو) او رراشٹرایہ جنتا دل کے درمیان کا اختلا ف ہمارے سامنے ایک مثال ہے جو انتخابات سے قبل بی جے پی کے خلاف ایک بڑے محاذ کے طور پر سامنے آیاتھا۔اب مایاوتی نے صاف طورپر کہہ دیا ہے کہ اگر انہیں مرضی کے مطابق سیٹ نہیں دئے گئے تو بی ایس پی تنہا مقابلہ کریگی۔

صاف طور پر انہو ں نے قابل احترام سیٹوں کی وضاحت بھی کردی ہے۔ یہاں پر ایک بڑی سیاسی صورت گری تشکیل پاسکتی ہے۔کانگریس سے ہٹ کر بی ایس پی ہی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جومختلف ریاستوں کے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

بڑی چالاکی سے انہوں نے کرناٹک میں جنتادل(سکیولر) کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا اور اب کا ریاستی کابینہ میں ایک وزیر بھی ہے۔بی ایس پی او رکانگریس کے مشترکہ ووٹ شیئر نے نو میں سے چھ مرتبہ بی جے پی کو 2003سے مدھیہ پردیش‘ چھتیس گڑ‘ اور راجستھان میں فائدہ پہنچایا ہے۔

خبر یہ بھی ہے کہ مذکورہ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے پیش نظر دوپارٹیو ں میں بات چیت جاری ہے۔جہاں ان تین ریاستوں میں بی ایس پی جونیر پارٹنر ہوگی وہیں اترپردیش میں حالات یکسر تبدیل ہونگے اور یہاں پر بی ایس کانگریس سے بڑی جماعت رہے گی۔

جس طرح کی بات چیت مذکورہ ریاستوں میں کانگریس اور بی ایس پی کی درمیان چل رہی ہے اس سے 2019کے لوک سبھا الیکشن کے لئے بھی راہ ہموار ہوجائے گی۔

شرد پوار جیسے لیڈر کا کہنا ہے کہ مذکورہ اپوزیشن کی تمام تر توجہہ علاقائی سطح کے مخصوص اتحاد پر مشتمل ہے‘مقامی لیڈر کو قیادت کی ذمہ داری تفویض کرنے پر ہوگی۔ جس طرح کے بیانات مایاوتی دے رہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس کو قبول نہیں کریں گی۔

TOPPOPULARRECENT