Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / اپہار سنیما کیس پر ماہرین قانون مشاورت

اپہار سنیما کیس پر ماہرین قانون مشاورت

متاثرین کا معاوضہ لینے سے انکار ، ملزمین کو سخت سزا دینے کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ 21 ۔ اگست : ( سیاست ڈاٹ کام ) : دہلی کی حکومت نے آج کہا کہ اپہار تھیٹر آتشزدگی المیہ میں مہلوکین کے خاندانوں کے مطالبہ پر قانونی رائے طلب کی جائے گی جب کہ سپریم کورٹ نے تھیٹر کے مالکین انسل برادرس کو 60 کروڑ روپئے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ دہلی حکومت نے متاثرین کی اسوسی ایشن کے ارکان کو اس وقت یہ تیقن دیا جب ایک وفد نے آج چیف منسٹر ارویند کجریوال سے ملاقات کی ۔ ارکان نے 30 منٹ کی ملاقات کے دوران چیف منسٹر سے درخواست کی کہ انسل برادرس کو 60 کروڑ روپئے ادا کرنے کے جو احکامات سپریم کورٹ نے دئیے ہیں قبول کرنے سے انکار کردیا جائے اور انسانی غلطی کے نتیجہ میں پیش آئی خوفناک تباہی کے قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔

 

ایک سرکاری ذرائع نے بتایا کہ حکومت متاثرین کے اس مطالبہ پر ماہرین قانون کی رائے طلب کرے گی کہ انسل برادرس کی جانب سے 60 کروڑ روپئے ادائیگی کی صورت میں اسے ٹھکرادیا جائے اور تھیٹر کے مالکین کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جن کی بدانتظامی کی وجہ سے اپہار سنیما میں مہیب آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ علاوہ ازیں اسوسی ایشن نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ انسل برادرس کی رقم سے متاثرین کے لیے ٹروما سنٹر تعمیر نہ کیا جائے ۔ جس پر چیف منسٹر نے کہا کہ ٹروما سنٹر کے قیام کے لیے دہلی حکومت کے پاس خاطر خواہ مالی وسائل دستیاب ہیں اور متاثرین مجوزہ سنٹر کے نام کے لیے تجویز پیش کرسکتے ہیں ۔ اسوسی ایشن کے کنوینر نیلم کرشنا مورتی جنہوں نے مذکورہ المیہ میں اپنے دو بچوں سے محروم ہوگئے ہیں ، بتایا کہ وہ گذشتہ چھ سات سال سے ایک ایسے قانون کی جستجو میں ہیں جس کے ذریعہ انسانی غلطی کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد کی موت کے ذمہداروں کو سخت سزاء دی جاسکتی ہے ۔ چونکہ سپریم کورٹ قصور واروں کو کوئی سزا نہیں دی ہے ۔ لہذا ہمیں ایسے قانون کی ضرورت ہے ۔ جس کے ذریعہ مجرمانہ غفلت برتنے والوں کو 10-15 سال کی سزاء دی جاسکتی ہے ۔ چیف منسٹر دہلی نے یہ تیقن دیا ہے کہ بہت جلد اس طرح کا قانون مدون کیا جائے گا ۔یہ المناک واقعہ دہلی کی اپہار تھیٹر میں فلم بارڈر کی نمائش کے دوران پیش آیا تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT