Wednesday , August 15 2018
Home / اضلاع کی خبریں / اچم پیٹ میں عرس شریف، گنگا جمنی تہذیب کا شاندار مظاہرہ

اچم پیٹ میں عرس شریف، گنگا جمنی تہذیب کا شاندار مظاہرہ

سہولیات کی عدم فراہمی سے عقیدت مندوں کو سخت دشواری، وقف بورڈ کی دلچسپی ناگزیر

سہولیات کی عدم فراہمی سے عقیدت مندوں کو سخت دشواری، وقف بورڈ کی دلچسپی ناگزیر
کلواکرتی۔/17جنوری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اچم پیٹ کے علاقہ رنگاپور کے مشہور و معروف رنجن شاہ ولیؒ کے عرس شریف کا آغاز ہونے جارہا ہے۔ ہر سال 17جنوری کو عرس شریف کا آغاز ہوتا ہے جو ایک ہفتہ تک جاری رہتا ہے۔ اس عرس شریف کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کا شاندار مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس عرس شریف میںلاکھوں کی تعداد میں ہندو برادران وطن بھی شرکت کرتے ہیں۔ اس علاقہ میں لبماڑہ طبقہ اکثریت میں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ اچم پیٹ سے 8کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جو کہ نلا ملا جنگلات سے متصل ہے۔ حضرت نرجن شاہ ولی ؒ کی سوانح حیات میں ملتا ہے کہ 600سال قبل حضرت نظام الدینؒ دہلی کے پانچ شاگرد دعوت و تبلیغ کیلئے علاقہ تلنگانہ آئے جن میں ایک حضرت نرنجن شاہ ولی ؒ ہیں جو رنگا پور علاقہ امرآباد منڈل میں آرام فرما ہیں۔یہ حضرت نظام الدین ؒ کے خاص شاگردوں میں سے تھے جبکہ حضرت نظام الدین ؒ کے دیگر شاگردوں میں حضرت جہانگیر پیراں ؒ بھی ہیں جو شاد نگر میں ہیں جبکہ ایک اور شاگرد ضلع نلگنڈہ کے علاقہ بانپاڑ میں آرام فرما ہیں۔ اس طرح ایک اور شاگرد ضلع نظام آباد کے علاقے میں حضرت سعاد اللہ حسینیؒ ہیں جبکہ بھونگیر میں جمال بہادرؒآرام فرما ہیں۔ حضرت نرنجن شاہ ولی جب اچم پیٹ علاقے میں پہنچے منا نورسے دو کیلو میٹر دو ر نلا ملا جنگلات میں قیام پذیر ہوئے جہاں پر ابھی بھی آپ کی نسبت سے ایک گنبد و مزار موجود ہے۔ جہاں پر عوام کثیر تعداد میں آتے ہیں اور نذر و نیاز کرتے ہیں۔ جہاں سے آپؒ پہاڑ کے نیچے اُتر کچھ فاصلے پر اپنی نشست منعقد کیا کرتے تھے جہاں پر عوام آپ سے شریعت محمدیؐ کے نور سے فیضیاب ہوتے تھے۔ جہاں پر ایک قدیم مسجد بھی ہے جس کو جدید تعمیر کرنے کیلئے قدم اٹھایا گیا ہے لیکن کئی سال سے یہ مسجد ابھی تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچی۔ مسجد کی تعمیر نامکمل ہونے سے مسجد کا تقدس نہیں ہورہا ہے جہاں اکثر اوقات برادران وطن چپل اتارے بغیر ہی مسجد کے احاطہ میں داخل ہوتے ہیں اور یہاں پر خواتین کی کثیر تعداد بیٹھی رہتی ہے اور رات کے اوقات میں یہاں پر قیام بھی کرتے ہیں۔ انتظامیہ اس جانب فوری توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے۔ اکثر قول میں آپ کے یہیں پر مدفن ہونے کی بات ہے جبکہ بعض حضرات پہاڑ پر آپ کی مزار ہونے کا ذکر کرتے ہیں۔ بہر حال زمانہ قدیم سے یہیں پر ہر سال17جنوری کی رات صندل شریف چڑھایا جاتا ہے جبکہ اچم پیٹ کی جامع مسجد سے مسجد کمیٹی کی نگرانی میں بعد نماز عشاء صندل نکلتا ہے جو کہ درگاہ شریف پہنچتے پہنچتے صبح فجر کی نماز کا وقت ہوچکا ہوتا ہے۔ حال قریب تک یہ صندل گھوڑوں پر نکلتا تھا لیکن زمانہ کی تیز رفتاری نے اس کو سینکڑوں لاریوں پر تبدیل کردیا ہے جبکہ لوگ اپنے اپنے کھاڑے کی جانب سے شاندار مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس عرس شریف میں شرکت کیلئے تلنگانہ ۔ آندھرا پردیش، کرناٹک ، مہاراشٹرا، اڑیسہ اور دیگر ریاستوں سے لوگ آتے ہیں۔ اس ایک ہفتہ طویل عرس شریف تقاریب کیلئے خصوصی بسیں چلائی جاتی ہیں۔ ایک ہفتہ تک یہ پورا علاقہ برقی روشنی سے سجایاجاتا ہے جہاں پر پولیس کا سخت بندوبست رہتا ہے۔ چمڑوں، ناریل کیلئے ٹنڈر طلب کیا جاتا ہے جو کہ لاکھوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جہاں پر عوام لاکھوں کی تعداد میں بلا لحاظ مذہب و ملت بزرگان کی عقیدت میں حاضر ہوتے ہیں وہیں پر متولیوں کی جانب سے عوام کی سہولیات کو نطرانداز کردیا جاتا ہے چونکہ یہ علاقہ اونچائی پر ہے جہاں پر سردی سخت رہتی ہے لیکن عوام کیلئے شامیانوں کا انتظام نہیں رہتا اور صحن سے متصل مسجد کے بالکل بازو نالیوں کا گندہ پانی جمع رہتا ہے۔ عوام کیلئے پانی کا معقول بندوبست نہیں رہتا اور نہ ہی عوام کی رہبری کیلئے کوئی متعین رہتا ہے جبکہ قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ عرس شریف غلہ لاکھوں پر مشتمل ہوتا ہے۔دکاندار بے تحاشہ رقم بٹورنے کی فکر میں رہتے ہیںلیکن صاف صفائی کی جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔ وقف بورڈ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس جانب خصوصی توجہ دی جائے۔

TOPPOPULARRECENT