Wednesday , September 19 2018
Home / مضامین / اچھے دن، سیاہ دھن اور داؤد ابراہیم کب آئیں گے واپس

اچھے دن، سیاہ دھن اور داؤد ابراہیم کب آئیں گے واپس

محمد ریاض احمد

محمد ریاض احمد
عام انتخابات سے قبل نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی نے سارے ملک میں زبردست مہم چلائی ۔ عام ہندوستانیوں سے کئی وعدے کئے جن میں ’’اچھے دن واپس لانے ‘ بیرونی بینکوں میں جمع اربوں روپے (بلیک منی) ملک کی بنکوں میں منتقل کرنے اور انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کو ہندوستان لاکر کیفر کردار تک پہنچانے کے وعدے شامل تھے ‘‘ ۔ اس طرح بی جے پی اور نریندر مودی نے عوام سے اچھے دن ‘ سیاہ دھن اور داؤد ابراہیم ان تین چیزوں کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت کے دوسرے وعدوں کی طرح یہ وعدے بھی وفا نہ ہوسکے ۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہیکہ انتخابی مہم کے دوران ملک کے طول و عرض میں منعقد شدنی انتخابی جلسوں سے خظاب کرتے ہوئے بی جے پی کا چھوٹا بڑا ‘ ایرا غیرا نتھو خیرا ‘ ہر لیڈر چیخ چیخ کر عوام کو بتا رہا تھا کہ مرکز میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے کے اندرون 15یوم ممبئی سلسلہ وار دھماکوں کے اصل ملزم داؤد ابراہیم کو ہندوستان واپس لایا جائے گا ۔لیکن مودی حکومت اپنے اقتدار کے ایک سال مکمل کرنے والی ہے ‘ اب تک داؤد کا پتہ چلا ہے نہ ہی مودی حکومت کو یہ معلوم ہوسکا کہ ابراہیم کہا ہے ۔

خود حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وہ نہیں جانتی کہ آخر داؤد ابراہیم کہاں چھپا ہوا ہے ‘ وہ یہ بھی نہیں جانتی کہ اسے زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ ہری بھائی پرتی بھائی چودھری نے 5مئی کو پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ حکومت نہیں جانتی کہ داؤد ابراہیم کہاں ہے ؟ اس کا پتہ چلنے کے بعد ہی اس کی ہندوستان حوالگی کا عمل شروع کیا جاسکتا ہے ۔ کانگریس نے حکومت کے اس عجیب و غریب بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ دوسرے وعدوں کی طرح مودی حکومت نے داؤد ابراہیم کو واپس لانے سے متعلق وعدہ بھی فراموش کردیا ہے ۔ داؤد ابراہیم نہ صرف ہندوستان کو مطلوب ہے بلکہ امریکہ نے ان کے نام کو خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ ایف بی آئی نے منشیات کے اسمگلرس کی جو فہرست تیار کی ہے اس میں بھی داؤد ابراہیم کا نام شامل کیا گیا ہے ۔امریکہ اور اس کی خفیہ ایجنیسوں کو شبہ ہیکہ داؤد ابراہیم القاعدہ جیسے عسکریت پسند گروپ سے بھی تعلقات رکھتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ کی جانب سے بیان دیئے جانے کے بعد پشیمانی سے دوچار بی جے پی نے اس بیان سے ہونے والے نقصانات کی پابجائی کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہیکہ داؤد ابراہیم پاکستان میں مقیم ہے اور مرکزی حکومت اس کی ہندوستان حوالگی کے معاملہ پر بڑی سنجیدگی سے کام کررہی ہے ۔ مملکتی وزیر داخلہ کرن رجیجو نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کچھ اس طرح وضاحت کی ’’ حکومت ہند کا واضح موقف یہ ہیکہ داؤد ابراہیم پاکستان میں روپوش ہے اور اورحکومت ہند ‘ حکومت پاکستان کو داؤد کے اتہ پتہ کے بارے میں معلومات فراہم کررہی ہے ۔ ایک بات ضرور ہیکہ اس سارے معاملہ میں پاکستانی ایجنسیاں ‘ہندوستانی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کررہی ہیں ۔

یہ ایسا راز ہے جس سے ساری دنیا واقف ہے ‘‘ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے اس تازہ بیان کو وضاحت نہیں کہیں گے بلکہ ہر کسی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ایک مخصوص سوال پر دیئے گئے جواب کا غلط نتیجہ اخذ نہ کریں ۔واضح رہے کہ سال 2000میں این ڈی اے حکومت کے اوائل سے ہی حکومت پاکستان کو جو معلومات فراہم کی گئیں ہیں ان میں داؤد ابراہیم کا نام شامل ہے اور بار بار حکومت ہند نے پاکستان کو آگاہ کیا کہ 1993ء کے سلسلہ وار بم دھماکوں کا ملزم داؤد ابراہیم پاکستان کے اقتصادی دارالحکومت کراچی میں ہے ۔ عالمی سطح پر منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کیلئے مشہور داؤد ابراہیم 1992 – 93 کے دوران ممبئی سے اچانک لاپتہ ہوکر ایک خلیجی ملک میں مقیم ہوگیا تھا ۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن ( سی بی آئی) کا الزام ہیکہ ادؤد ابراہیم نے 1993ء کے دوران ممبئی میں سلسلہ وار بم دھماکے کروائے جن میں کم از کم 257 افراد مارے گئے تھے اور 32کروڑ روپئے مالیتی املاک کو نقصان پہنچا تھا ۔ ایک ایسے وقت جبکہ داؤد ابراہیم کا اتہ پتہ معلوم نہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی نریندر مودی حکومت پارلیمنٹ اورپارلیمنٹ کے باہر شرم سے پانی پانی ہوچکی ہے ۔ سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہیکہ پارلیمنٹ میں اس طرح کے بیان سے عالمی فورمس میں پاکستان کا موقف مضبوط ہوا ہے ‘ اسلئے کہ حکومت ہند اور اس کی ایجنسیاں بار بار یہی کہتی رہی ہیکہ داؤد ابراہیم پاکستان میں روپوش ہے

اور اس نے وہاں رشتہ داریاں بھی قائم کرلی ہیں ۔ پاکستان کے سابق کرکٹر جاوید میاں داد کے فرزند جنید میانداد سے داؤد ابراہیم کی بیٹی ماہ رخ کی شادی ہوئی ہے ۔ دونوں کی ملاقات برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے دوران ہوئی تھی داؤد کے مسئلہ پر سابق معتمد داخلہ جے کے پلٹی کاکہنا ہیکہ داؤد ابراہیم مسلسل پاکستان کی خفیہ تنظیم آئی ایس آئی کے تحفظ میں ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ ہم داؤد ابراہیم کو کبھی ہندوستان واپس لاسکتے ہیں ‘ جب تک پاکستان میں مکمل انقلابی تبدیلیاں رونما نہیں ہوتی تب تک داؤد ابراہیم کو پاکستان سے واپس لانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے ۔ ہاں اگر ہندوستانی حکومت داؤد کو واپس لانے میں سنجیدہ ہے تو پھر ہمیں کراچی میں داؤد ابراہیم کی قیامگاہ پر ڈرون حملہ کرنا ہوگا ۔ دوسری جانب سیکیورٹی کے ایک اور ماہر الوک بنسل کے خیال میں حکومت ہند کو داؤد ابراہیم کو واپس لانے کیلئے باتیںنہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کرنے چاہیئے ۔ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اگر داؤد ابراہیم کے اتہ پتہ کے بارے میں حکومت ہند کی جانب سے کوئی بیان دیا جاتا ہے تو اس سے پاکستان کی انٹر سرویس انٹیلیجنس ( آئی ایس آئی) چوکس ہوجائے گی اور اسے داؤد ابراہیم کو کسی اور مقام پر منتقل کرنے میں آسانی ہوگی ۔ بنسل نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ جاننا حکومت پاکستان کا کام ہیکہ آخر داؤد ابراہیم پاکستان میں کہاں روپوش ہے ۔ اگر خفیہ ایجنسیاں داؤد کے اتہ پتہ کے بارے میں حکومت کو کچھ معلومات فراہم کرتی ہیں تو اسے برسرعام نہیں لایا جانا چاہیئے کیونکہ ماضی میں بھی جب کبھی ہماری حکومت نے داؤد ابراہیم کے بارے میں کچھ بھی بیان دیا اس پر پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے فوری حرکت میں آتے ہوئے داؤد کو کسی اور مقام منتقل کردیا ۔ خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق آخری مرتبہ ہندوستانی حکومت نے داؤد ابراہیم کے تعلق سے جو معلومات حاصل کی تھیں اس کے مطابق وہ پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی میں تھا اور دبئی کو آتا جایا کرتا تھا لیکن اس کے خلاف انٹرپول نوٹس کی اجرائی کے بعد اس نے دبئی آنا جانا بھی چھوڑ دیا ۔

داود ابراہیم اگرچہ ہندوستان سے فرار ہوچکا ہے لیکن اس کے خوف کے سائے ہندوستان پر چھائے ہوئے ہیں۔ سال 2011ء میں فوربس نے دنیا کے 10 انتہائی خطرناک مجرمین کی جو فہرست تیار کی تھی اس میں 59 سالہ داود ابراہیم کاسکر کو نمبر 3 پر رکھا گیا تھا۔ جرم کی دنیا کے اس بے تاج بادشاہ کو ہندوستانی حکومت جہاں کیفر دار تک پہنچانے بے چین ہے وہیں امریکی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ وہ القاعدہ اور اس کے متوفی سربراہ اسامہ بن لادن سے بھی قریبی تعلقات رکھتا تھا۔ اس وجہ سے سال 2003ء میں امریکہ نے داؤد ابراہیم کو عالمی دہشت گرد قرار دے کر اس کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا تھا۔ پارلیمنٹ میں حکومت کے بیان پر ملک میں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ خود بی جے پی کی حلیف جماعتوں بشمول شیوسینا نے مودی حکومت کا مضحکہ اڑایا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ امریکہ نے جس طرح رات کی تاریکی میں اسامہ بن لادن کو پاکستان پہنچ کر موت کی نیند سلا دیا اسی طرح ہندوستانی فورس کو بھی ایسی ہی ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہندوستان کو شدت سے مطلوب داؤد کو کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا۔ ورنہ پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر یہ کہہ کر اپنا دامن نہیں بچایا جاسکتا کہ ہمیں نہیں معلوم کے داؤد کہاں ہیں۔ داود کے اتہ پتہ کے بارے میں ہندوستانی حکومت کے بیانات سے مودی حکومت ساری دنیا میں موضوع مذاق بن گئی ہے۔ ویسے بھی ہماری حکومتوں اور سیاستدانوں کو باباوں، سوامیوں اور نجومیوں پر کافی بھروسہ ہے۔ وہ اپنے گھروں میں بیت الخلاء بھی واستو کے مطابق تعمیر کراتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ محکمہ پولیس بھی نجومیوں کی مدد حاصل کرتی ہے۔ اگر یہ نجومی اور جیوتشی اتنے ہی طاقتور ہیں تو کم از کم حکومت کو داود کی تلاش میں ان نجومیوں کی خدمات حاصل کرنی چاہئے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT