Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / اچھے دن کے انتظار میں تمام طبقات برے دن سے پریشان

اچھے دن کے انتظار میں تمام طبقات برے دن سے پریشان

جیولرس کی دھمکی ، ریڈی میڈ گارمنٹس کا بھی احتجاجی مظاہرہ ، حکومت کو انتباہ

حیدرآباد /14 مارچ ( سیاست نیوز ) اچھے دن کا انتظار کرنے والے اب تمام طبقات برے دن سے پریشان نظر آرہے ہیں ۔ ملک بھر میں 2014 سے قبل اچھے دن کی توقع کرنے والے سب اس لمحہ کو کوستے نظر آرہے ہیں جس لمحہ انہوں نے اچھے دن کی امید کرتے ہوئے اقتدار حوالے کیا تھا ۔ گذشتہ کئی دنوں سے ہڑتال کر رہے سناروں سے ابھی تک حکومت نمٹ نہیں پائی کہ اب ملبوسات کے تیار کنندگان نے ہڑتال شروع کرنے کی دھمکی دے ڈالی ہے ۔ ریڈی میڈ گارمنٹس تیار کرنے والی کمپنیوں نے حکومت کی جانب سے عائد کردہ ایکسائز ڈیوٹی کے خلاف احتجاج شروع کردیا ہے ۔ اس سلسلہ میں آج تیار کنندگان نے اندرا پارک پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے اکسائز ڈیوٹی واپس نہیں لی گئی تو احتجاج میں شدت پیدا کی جائے گی ۔ سونے کی تاجرین جو کئی یوم سے اپنے تجارتی ادارے بند رکھ کر احتجاج کر رہے ہیں جس کا اثر ملک کے خزانے پر بھی پڑ رہا ہے لیکن حکومت کی جانب سے تاحال بات چیت کی کوئی پیشرفت نہیں کی گئی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ہٹ دھرمی پر اتر آئی ہے ۔ گارمنٹس مینوفیکچرنگ اینڈ ہول سیلرس اسوسی ایشن نے مرکزی حکومت کی جانب سے عائد کردہ اکسائز ڈیوٹی کو مخالف ’’ میک ان انڈیا ‘‘ پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب جی ایس ٹی پر عمل آوری ہو رہی ہے تو اکسائز ڈیوٹی کے کوئی معنی نہیں ہے لیکن حکومت اس بات کو سمجھ نہیں رہی ہے ۔ ملک میں ملبوسات تیار کنندگان کی حالت انتہاہی ابتر تھی اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ اچھے دن آئیں گے لیکن اچھے دن تو نہیں مگر برے دن شروع ہوچکے ہیں ۔ سونے کے تاجرین پر یو پی اے حکومت میں جب اکسائز ڈیوٹی نافذ کی گئی تھی تو اس وقت بی جے پی نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا لیکن اب جبکہ خود بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت احتجاج کو فراموش کرتے ہوئے وہی اقدام کیا اور ساتھ ہی گارمنٹس ( ملبوسات ) کے تیار کنندگان پر سابقہ حکومت کی جانب عائد کردہ اکسائز ڈیوٹی کے خلاف بھی بی جے پی نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو اکسائز ڈیوٹی سے دستبرداری اختیار کرنے پر مجبور کیا تھا لیکن اب خود بی جے پی کی جانب سے وہی اقدام کیا گیا جس کے بالواستہ اثرات عوام پر مرتب ہوں گے ۔ اگر حکومت کی جانب سے تیار کنندگان پر اکسائز ڈیوٹی عائد کیا جاتا ہے تو تیار کنندگان اس اضافہ کا اثر ہول سیلر اور ریٹیل تاجرین پر عائد کرتے ہیں اور ریٹیل تاجرین پر عائد ہونے والا اضافہ راست عوام سے وصول کرتے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات نہ صرف تاجر مخالف نہیں بلکہ عوام مخالف تصور کئے جارہے ہیں ۔ حکومت اگر اکسائز ڈیوٹی سے دستبرداری اختیار نہیں کرتی تو ایسی صورت میں ملک بھر میں سونے کے تاجرین کے ساتھ ملبوسات کے تیار کنندگان اور ریڈی میڈ کے تاجرین بھی احتجاج اور ہڑتال میں شامل ہوجائیں گے جن کا اثر سرکاری خزانے پر پڑے گا ۔

TOPPOPULARRECENT