Wednesday , December 13 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’اچھے دن‘‘ کے منتظر شہریوں سے اب پانی پر ٹیکس کی وصولی

’’اچھے دن‘‘ کے منتظر شہریوں سے اب پانی پر ٹیکس کی وصولی

مرکزی حکومت تمام ریاستوں میں نل کنکشن رکھنے والوں سے ماہانہ بل کیساتھ ’سیس‘ حاصل کریگی
حیدرآباد۔15اکٹوبر(سیاست نیوز) اچھے دن کا انتظار کر رہے ہندستانی شہریوں کو اب صرف ریاستی حکومت کو پینے کے پانی کی سربراہی کا بل اداکرنا نہیں ہوگا بلکہ اب حکومت ہند کی جانب سے بھی پینے کے پانی پر اضافی ٹیکس وصول کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح میں اضافہ اور پانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے لئے مرکزی حکومت ملک بھر کی تمام ریاستوں میں پینے کے پانی کا کنکشن رکھنے والوں پر پانی کے بچاؤ کا سیس وصول کرے گی۔ اب تک ایجوکیشن‘ لڑکیوں کے تحفظ کے علاوہ دیگر امور کے نام پر حکومت کی جانب سے Cessعائد کیا جاتا تھا جسے ٹیکس نہیں بلکہ عظیم سرکاری مقصد کی تکمیل میں آپ کے تعاون کے طور لیا جاتاتھا اور بہ زبان دیگر اس سیس کو یہی کہتے ہوئے استعمال کیا جاتا تھا کہ یہ اس عظیم مقصد کیلئے استعمال کیا جائے گا جو قومی مفاد میں ہو ۔ حکومت ہند کی وزارت سربراہی آب کے زیر نگرانی چلائے جانے والے ادارہ سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ کی جانب سے پیش کردہ سفارشات کے مطابق حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں بہت جلد اعلان متوقع ہے کہ جو لوگ پینے کے پانی کا کنکشن رکھتے ہیں انہیں ماہانہ پانی کے استعمال کے بل کے ساتھ ساتھ پانی کے تحفظ کے عظیم کاز کیلئے حکومت کی جانب سے متعین کی جانے والی فیس ادا کرنی ہوگی۔

ہندستانی شہری جو ملک میں اچھے دن کا خواب دیکھ رہے تھے انہیں آئے دن اچھے دن دور ہوتے نظر آنے لگے ہیں کیونکہ ان اچھے دنوں کی توقع انہیں نہیں تھی جو آرہے ہیں اور عوام کی جیب پر مختلف ناموں سے ڈاکہ زنی کا سلسلہ جاری ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ حکومت کی جانب سے ابتداء میں صنعتی اداروں اور کمرشیل سربراہی آب کنکشن رکھنے والوں پر یہ سیس عائد کیا جائے گا لیکن اس کے بعد بتدریج اس سیس کو گھریلو صارفین پر بھی عائد کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق ہندستان میں اشیائے ضروریہ کو ٹیکس سے مستثنی رکھا جانا چاہئے اسی لئے پینے کے پانی پر حکومت کی جانب سے تاحال کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ہے اور ضرورت کے اعتبار سے ریاستی حکومتوں اور سربراہی آب کے اداروں نے اپنے مطابق آبرسانی بلزمقرر کئے ہیں لیکن اب اس امر میں مرکزی حکومت بالواسطہ طور پر عظیم کاز کا نام استعمال کرتے ہوئے پینے کے پانی کی سربراہی کیلئے وصول کئے جانے والے آبرسانی بل پر ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے اور آئندہ چند ماہ کے دوران اس سلسلہ میں منصوبہ بندی کے بعد اعلان کردیا جائے گا اور اسے زیر زمین سطح آب میں اضافہ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT