Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / اڈوانی ، جوشی اور اوما بھارتی پر بابری مسجد شہادت کے مقدمہ کا آج فیصلہ

اڈوانی ، جوشی اور اوما بھارتی پر بابری مسجد شہادت کے مقدمہ کا آج فیصلہ

کلیان سنگھ ، بال ٹھاکرے اور آچاریہ گری راج کشور اور دیگر پر سازش کے الزامات برخاست، سی بی آئی کا 21 ملزمین کیخلاف چارج شیٹ
نئی دہلی۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ امکان ہے کہ کل بی جے پی کے سینئر قائدین بشمول ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی پر بابری مسجد شہادت مقدمہ میں مجرمانہ سازش کے الزامات کے مقدمہ کا فیصلہ سنائے گی۔ جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس آر ایف نریمان پر مشتمل بینچ فیصلہ کا اعلان کرے گی۔ اڈوانی اور جوشی کے وکیل صفائی کے کے وینو گوپال نے پُرزور انداز میں مشترکہ مقدمہ اور رائے بریلی سے لکھنؤ کو مقدمہ کی منتقلی کی تجویز کی مخالفت کی۔ سی بی آئی نے وضاحت کی کہ وہ اہم شخصیات کے خلاف جو اس مقدمہ میں ملزم ہیں، مقدمہ کی سماعت کے سلسلے میں کوئی نئی بات پیش نہیں کررہی ہے بلکہ خود کو ان کے خلاف سازش کے الزام کے احیاء تک محدود رکھے گی۔ سپریم کورٹ قبل ازیں فیصلہ کرچکا تھا کہ اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی اور دیگر 10 ملزمین کے خلاف سازش کے الزامات سے سبکدوشی کے خلاف اپیل کا جائزہ لے گی۔ 8 افراد کے خلاف ایک ضمنی چارج شیٹ پیش کیا جاچکا ہے، لیکن شہادت کی سازش کے تمام 13 ملزمین کے خلاف چارج شیٹ پیش نہیں کیا گیا۔

بی جے پی قائدین کے علاوہ موجودہ گورنر راجستھان کلیان سنگھ، شیوسینا کے آنجہانی سربراہ بال ٹھاکرے اور وی ایچ پی قائد گری راج کشور کے خلاف الزامات سے سبکدوشی اختیار کرلی گئی ہے۔ دیگر افراد جن پر سازش کا الزام عائد کیا گیا تھا، لیکن بعدازاں واپس لے لیا گیا۔ ونئے کٹیار، وشنو ہری ڈالمیا، ستیش پردھان، سی آر بنسل، آنجہانی اشوک سنگھل، سادھوی رتھمبرا، آنجہانی مہنت اویدیا ناتھ، آر وی ویدانتی، پرم ہنس رام مہنت جن کا دیہانت ہوچکا ہے، جگدیش منی مہاراج، بی ایل شرما، نرتیاگوپال داس، دھرم داس، ستیش ناگر اور آنجہانی موریشور ساوے ہیں۔ الہ آباد ہائیکورٹ کے 20 مئی 2010ء کے حکم نامہ کو بالائے طاق رکھ دینے کی اپیلیں، مجرمانہ سازش، زیردفعہ 1208 قانون تعزیرات ِہند، سبکدوشی اختیار کرنے کو چیلنج کرتے ہوئے اپیل پیش کی گئی تھی۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلہ کی توثیق کی تھی۔ سی بی آئی نے اڈوانی اور دیگر 20 افراد کے خلاف قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 153A (طبقات کے درمیان دشمنی کا فروغ)، 153B (قومی یکجہتی کے خلاف ماورائے عدالت بیانات دینا) اور 505 (غلط بیانات، افواہیں وغیرہ کی اشاعت جن کا مقصد بغاوت کروانا اور امن عامہ میں خلل اندازی ہو) پیش کی تھی۔ بعدازاں سی بی آئی نے دفعہ 120B (مجرمانہ سازش)، قانون تعزیرات ہند کو خصوصی عدالت کے فیصلہ کے بعد جس میں ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد واپس لے لیا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT