Tuesday , January 23 2018
Home / سیاسیات / اڈوانی پارلیمنٹ میں کمرہ سے محروم ؟

اڈوانی پارلیمنٹ میں کمرہ سے محروم ؟

10 برس سے لگی نام کی تختی بھی غائب : واجپائی کی تختی برقرار

10 برس سے لگی نام کی تختی بھی غائب : واجپائی کی تختی برقرار
نئی دہلی 5 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی ایسا لگتا ہے کہ پارلیمنٹ ہاوز میں کمرہ سے محروم ہوجائیں گے جس پر وہ این ڈی اے کے ورکنگ صدر کی حیثیت سے گذشتہ دس برس سے متصرف تھے ۔ چونکہ ابھی پارلیمنٹ میں نشستوں کا الاٹمنٹ نہیں ہوا ہے اس لئے وہ الجھن کا شکار تھے کہ کہاں بیٹھیں۔ سابق نائب وزیر اعظم کو کمرہ نمبر 4 الاٹ تھا تاہم آج اس کمرہ کے باہر سے ان کے نام کی تختی غائب پائی گئی

جبکہ این ڈی اے کے صدر نشین کی حیثیت سے اٹل بہاری واجپائی کے نام کی تختی اپنی جگہ برقرار تھی ۔ چونکہ اٹل بہاری واجپائی علیل ہیں اس لئے یہ کمرہ اڈوانی استعمال کرتے تھے ۔ تختی پر ان کا نام اور این ڈی اے ورکنگ صدر کا عہدہ درج تھا ۔ یہ تختی آج غائب تھی ۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب 16 ویں لوک سبھا کی تشکیل کے پیش نظر وہاں کمروں کا دوبارہ الاٹمنٹ عمل میں آ رہا ہے ۔ 86 سالہ لیڈر اڈوانی نے تاہم آرام کیلئے بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے دفتر کا استعمال کیا ۔ یہ جگہ عموما پارٹی کے معمولی ارکان استعمال کرتے ہیں۔

حالانکہ وہ بی جے پی پارلیمانی پارٹی کے صدر نشین برقرار ہیں لیکن انہوں نے کمرہ میں اصل کرسی پر بیٹھنا گوارہ نہیں کیا اور صوفے پر بیٹھے رہے ۔ مسٹر اڈوانی کے قریبی ذرائع نے اس واقعہ کو اہمیت دینے سے انکار کیا ہے اور کہا کہ اس میں کوئی الجھن نہیں ہے ۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ گذشتہ دس سال کی طرح اب بھی انہیں جلدی ہی کمرہ الاٹ کردیا جائیگا ۔لوک سبھا سیکریٹریٹ کا کہنا ہے کہ کمروں کے الاٹمنٹ میں اس کا کوئی رول نہیں ہے ۔ لوک سبھا میں بھی مسٹر اڈوانی الجھن کا شکار رہے کیونکہ انہیں کوئی نشست الاٹ نہیں ہوئی ہے ۔ ابتداء میں وہ پہلی صف میں بیٹھ گئے ۔ جب وہ ایوان میں داخل ہوئے تو دوسری صف میں بیٹھنا چاہتے تھے تاہم ساتھیوں نے انہیں پہلی نشست پر بیٹھنے کی ترغیب دی ۔

TOPPOPULARRECENT