Wednesday , December 13 2017
Home / سیاسیات / اڈوانی کا استعفیٰ دینے کا احساس ،لوک سبھا میں اظہار

اڈوانی کا استعفیٰ دینے کا احساس ،لوک سبھا میں اظہار

پارٹی میں داخلی جمہوری اقدار کیلئے جدوجہد: راہول، کانگریس اور بی جے پی کی باہم الزام تراشی

نئی دہلی ۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی کارروائی میں تعطل پر بی جے پی کے سینئر قائد ایل کے اڈوانی کی تشویش کا ان کے تبصرہ سے اظہار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں مستعفی ہونے کا احساس کررہا ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسپیکر سمترامہاجن کی جانب سے آج دن بھر کیلئے لوک سبھا کا اجلاس ملتوی کرنے کے بعد اپنی تشویش اور درد کا اظہار کرنا چاہتے ہیں جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بلارکاوٹ کارروائی کے سلسلہ میں ایک دوسرے پر الزام تراشی کی جارہی تھی۔ اڈوانی نے پہلے اپنے احساس سے مرکزی وزراء سمرتی ایرانی اور وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کو واقف کروایا جو ان کے قریب ہی کھڑے ہوئے تھے جبکہ اڈوانی صف اول کی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے۔ راجناتھ سنگھ نے صبر و سکون کے ساتھ پارٹی کے سینئر قائد کی سماعت کی۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور اننت کمار قبل ازیں ایوان میں خلل اندازی پر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناچکے تھے۔ قبل ازیں ہی ایوان سے چلے گئے تھے۔ اڈوانی نے مباحث پر اصرار کیا تھا چاہے وہ ایوان کے کسی بھی قاعدہ کے تحت منعقد کئے جائیں لیکن پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کی شکست ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس پارٹی کے قائد ملک ارجن کھرگے نے لوک سبھا کے عہدیداروں کو ایوان میں کارکردگی کی نوعیت سے واقف کروایا اور کہا کہ حکومت نے اچانک ایوان کا اجلاس ملتوی کردیا اور اپوزیشن کچھ بھی نہ کرسکا۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ ہمیں اپنے آپ کو وجئے چوک پر پھانسی پر لٹکا ہوا محسوس کررہے ہیں۔ دریں اثناء نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے لوک سبھا میں اڈوانی کے اظہاربرہمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کہنہ مشق قائد بی جے پی نے داخلی جمہوری اقدار کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اڈوانی کا اس پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ راہول گاندھی نے اپنے ٹوئیٹر پر اس بارے میں تحریر کیا اور کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کسی ’’خودپرست‘‘ شخصیت کی طرح کام کررہے ہیں۔ کانگریس کے ترجمان اکھیلیش سنگھوی نے کہا کہ اڈوانی واضح طور پر خود اپنی پارٹی کی اہمیت کم کررہے ہیں، کانگریس کی نہیں جسے بی جے پی کی جانب سے توڑا مروڑا جارہا ہے۔ اڈوانی نے اسپیکر سمترا مہاجن کی جانب سے ایوان کا اجلاس آج دن بھر کیلئے ملتوی کردینے پر درد اور برہمی ظاہر کی تھی جبکہ لوک سبھا میں اپوزیشن اور حکومت ایک دوسرے پر ایوان میں کوئی کارروائی نہ ہونے پر ایک دوسرے کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے۔ حکومت نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں کارروائی میں خلل اندازی پیدا کررہا ہے۔ مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات بی جے پی کے سینئر قائد ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ کانگریس حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے اڈوانی کے تبصرہ پر ردعمل ظاہر کرنے کی ذرائع ابلاغ کی خواہش پر کہا کہ اڈوانی ایک انتہائی سینئر رکن پارلیمنٹ ہیں اور بی جے پی دانستہ طور پر حقائق کو مسخ کرنے کی خواہش نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ اڈوانی کی برہمی اور تشویش کانگریس کے خلاف ہے۔

TOPPOPULARRECENT