Saturday , November 25 2017
Home / Top Stories / اڈپی مٹھ میں مسلمانوں کیلئے افطار اور نماز کا اہتمام

اڈپی مٹھ میں مسلمانوں کیلئے افطار اور نماز کا اہتمام

سری رام سینا سربراہ پرمود متالک آگ بگولہ، سوامی جی نے فیصلے کی مدافعت کی
اڈپی۔27جون (سیاست ڈاٹ کام) پیجاور مٹھ کے سری وشواتیرتھ سوامی کی جانب سے سری کرشنا مٹھ اڈپی میں کچھ دن پہلے مسلمانوں کو افطار کی دعوت اور نماز پڑھنے کی سہولت دینے پر مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت انگیزی کے لئے مشہور سری رام سینا چیف پرمود متالک غصہ سے آگ بگولہ ہوگیا ہے اور اس دعوت افطار کو پوری ہندو کمیونٹی کے لئے ہتک اور بے عزتی کاسبب قرار دیا ہے۔اس مسئلے پرپرمود متالک نے اڈپی مٹھ پہنچ کر وشواتیرتھ سوامی سے بات چیت کی اور اپنا اعتراض جتاتے ہوئے” گائے ذبح ” کرنے اور بیف کھانے والوں کو سری کرشنا مٹھ میں عزت کے ساتھ مدعو کرنے ، افطارکروانے اور مٹھ کے احاطے میں نماز اداکرنے کی سہولت فراہم کرنے کی کھل کر مذمت کی لیکن پتہ چلا ہے کہ سوامی جی نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کیا اور کہا کہ انہوں نے کسی بھی طرح ہندو دھرم اور عوام کی ہتک کا کوئی بھی کام نہیں کیا ہے۔بلکہ دعوت افطار کا اہتمام مسلمانوں کے ساتھ خیر سگالی کے جذبات کو فروغ دینے کے لئے ہندو دھرم کی بنیادی تعلیم اور روایات کے مطابق ہی کیا گیا ہے۔ جبکہ سوامی جی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے فیصلے کوجائز قراردیتے ہوئے کہا کہ” مسلمانوں نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔ افطارپارٹی کی وجہ سے نہ مٹھ کو کوئی نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی ہندو سماج کی بے عزتی ہوئی ہے۔ اس سے لوگوں کے دلوں میں محبت اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ فروغ پائے گا۔ مٹھ کی طرف سے ہمیشہ ہی ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔جہاں تک نمازکی بات ہے وہ مندر کے اندر نہیں بلکہ عام کھانا کھانے کے کمرے (ڈائننگ ہال) میں ادا کی گئی تھی۔ کچھ لوگ خواہ مخواہ غیر ضروری بیانات دے کر ہندوؤں اور مسلمانوں میں رنجش پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔”ہندو بھی بیف کھاتے ہیں : پرمود متالک کے اس اعتراض پر کہ بیف کھانے والوں کو مندر میں کیوں دعوت دی گئی اور ان کا کیوں احترام کیا گیا، سوامی جی نے پلٹ وار کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ بات بھی عام ہے کہ ہندو سماج کے بھی بہت سے لوگ بھی بیف کھاتے ہیں، تو کیا ہم ان کا بھی بائیکاٹ کریں؟ ایسا ہونہیں ہوسکتا۔ ہم تو بیف کھانے والوں کو صرف سمجھا سکتے ہیں کہ بیف نہ کھائیں۔ اس سے زیادہ ہم کیا کرسکتے ہیں!

TOPPOPULARRECENT