Wednesday , September 26 2018
Home / ہندوستان / اڈیشہ میں طوفان فائلن کے وقت سونیا ، راہول اور مودی کہاں تھے ؟

اڈیشہ میں طوفان فائلن کے وقت سونیا ، راہول اور مودی کہاں تھے ؟

بہرام پور۔ 5 مارچ ۔ (سیاست ڈاٹ کام )وزیراعلیٰ اڈیشہ نوین پٹنائک نے آج صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال طوفان فائلن کی زد میں جب پوری ریاست تھی اُس وقت ان دو لیڈروں نے ریاست پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ ضلع گنجم میں خواتین کی ایک عظیم الشان ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ضلع گنجم طو

بہرام پور۔ 5 مارچ ۔ (سیاست ڈاٹ کام )وزیراعلیٰ اڈیشہ نوین پٹنائک نے آج صدر کانگریس سونیا گاندھی اور نریندر مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال طوفان فائلن کی زد میں جب پوری ریاست تھی اُس وقت ان دو لیڈروں نے ریاست پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ ضلع گنجم میں خواتین کی ایک عظیم الشان ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ضلع گنجم طوفان فائلن سے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا ۔ اُس وقت سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور نریندر مودی کہاں تھے؟الیکشن کمیشن کی جانب سے انتحابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے بعد اپنی پہلی عوامی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کانگریس اور بی جے پی قائدین کو نشانہ بنایا اور کہا کہ جس وقت ہمالیائی ریاست اُترکھنڈ میں سیلاب نے تباہی مچائی تھی تو اُس وقت کانگریس اور بی جے پی قائدین نے وہاں پہنچنے میں ذرہ برابر بھی تاخیر نہیں کی تھی لیکن جب اڈیشہ کو آفات سماوی کا سامنا کرنا پڑا تو یہی قائدین گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئے ۔

پٹنائک نے بھوبنیشور میں نریندر مودی کی حالیہ تقریر کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ لارڈ جگن ناتھ کے مقام پر ووٹ کی بھیک مانگنے آئے یہ قائد اس وقت کہاں تھے جب لارڈ جگن ناتھ کے عقیدت مند طوفان فائلن میں پھنسے ہوئے تھے ۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اڈیشہ کے عوام کی اچھی خاصی تعداد گجرات کے شہر سورت میں روزگار حاصل کررہی ہے اور ریاست گجرات کی ترقی میں اپنا رول ادا کررہی ہے لیکن اڈیشہ پر جب مصیبت آئی تو گجرات سے ایک بھی نوٹ ( روپیہ ) یہاں نہیں پہنچا ۔انھوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ’’کانوں کے مالکان‘‘ (Mine Owners) سے زیادہ محبت ہے اور اسی محبت کی وجہ سے ریاست اڈیشہ کو سالانہ 1800 کروڑ روپئے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر مائننگ سیکٹر سے ریاست کو 1800 کروڑ روپئے مل جائیں تو ہم تعلیم ، صحت اور دیگر شعبوں میں اپنے انفراسٹرکچر میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT