Tuesday , December 11 2018

اکاونٹ نمبر ، کریڈٹ کارڈ وغیرہ کسی کو نہ بتائیں۔اپنی محنت کی رقم کی حفاظت کریں

حیدرآباد۔ 19ڈسمبر(سیاست نیوز) ٹیلی کالرس کی جانب سے کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات طلب کئے جانے پر بتانا آپ کے کھاتہ میں موجود رقم کو لوٹ لئے جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ کسی بھی ادارہ سے موصول ہونے والے کال پر اگر کوئی آپ سے آپ کے بینک کھاتہ کی تفصیلات اور کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ کال آپ کیلئے بینک سے نہیں بلکہ سائبر جرائم کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی کال ہے جس کے ذریعہ وہ آپ کے بینک کھاتہ تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک میں موجود تمام بینکوں کی جانب سے اپنے گاہکوں اس بات سے آگاہ کررہے ہیں کہ وہ یہ تفصیلات کسی کو بھی فراہم نہ کریں اور نہ ہی کسی کے پوچھنے پر یہ بتائیں لیکن اس کے باوجود کئی کالرس کی جانب سے یہ کالس وصول ہوتی ہیں اور یہ باور کروایا جاتاہے کہ وہ بینک سے کال ہے اور بینک کی جانب سے ڈاٹا کی جانچ کی جا رہی ہے معصوم شہری جو اس طرح کے کالس کے متعلق واقف نہیں ہیں وہ اپنے بینک کھاتہ کی تفصیلات فراہم کرنے لگ جاتے ہیں اور اان کالرس کو تفصیل حاصل ہونے کے بعد وہ بینک کھاتہ تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات کے علاوہ بیرونی ممالک سے چلائے جانے والے اس دھوکہ دہی کے ریاکٹ تک پہنچ پانا انتہائی مشکل ہے لیکن اس کے باوجود محکمہ پولیس اور سائبر کرائم کی جانب سے بعض واقعات میں ان ٹیلی کالرس کے سرغنوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی ملی ہے اس کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری ہے اسی لئے عوام اگر چوکنا رہیں تو اس طرح کی دھوکہ دہی کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بینکوں کی جانب سے بارہا یہ کہا جا رہاہے کہ بینک سے کوئی فون پر کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کی تفصیلات طلب نہیں کرتا اور اگر کوئی یہ کہے تب بھی اسے یہ تفصیلات فراہم نہیں کی جائیں گی ۔ اس کے علاوہ ٹیلی کالرس نے ایک اور حربہ اختیار کرنا شروع کیا ہے جس کے ذریعہ موبائیل پر ایک مس کال دیا جاتاہے اور مس کال دینے کے بعد کچھ دیر انتظار کیا جاتاہے اور اگر کوئی کال نہ کرے تو ایک ہفتہ تک یہ سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے لیکن ایک ہفتہ تک واپس کال نہ کرنے والے کو دوبارہ کال نہیں کیا جاتا۔بتایاجاتاہے کہ نامعلوم نمبر سے موصول ہونے والے مس کال پر واپس کال کرنے کی صورت میں 45تا50 سیکنڈ کے دوران آپ کے فون میں موجو ڈاٹا ہیکرس حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں اسی لئے نا معلوم نمبر سے موصول ہونے والے نمبر پر واپس کال کرنا بھی مہنگا پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT