Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اکبر اویسی حملہ کیس ‘ عدالت میں تین گواہوں کا بیان قلمبند

اکبر اویسی حملہ کیس ‘ عدالت میں تین گواہوں کا بیان قلمبند

متوفی ابراہیم یافعی کی ٹی شرٹ پر گولیوں کے سراخ سے پنچ گواہ اور تحصیلدار کا اظہار لا علمی
حیدرآباد ۔ 7نومبر ( سیاست نیوز) اکبر الدین اویسی حملہ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے کیس کی سماعت اندرون تین ماہ مکمل کرنے کی نامپلی سیشن کورٹ کو ہدایت کے بعد استغاثہ نے آج تین گواہوں کو پیش کیا جہاں پر ان کا بیان قلمبند کیا گیا اور وکیل دفاع نے ان پر جرح کیا ۔ پنچ گواہ 46سالہ محمد حامد نے آج اپنے بیان میں بتایا کہ پولیس نے انہیں گواہی کیلئے عثمانیہ دواخانہ طلب کیا تھا جہاں پر متوفی ابراہیم بن یونس یافعی کے ملبوسات کو ضبط کیا گیا ۔ گواہ نے مزید بتایا کہ پنچ نامہ کے دوران انہیں متوفی نوجوان کی ٹی شرٹ دکھائی گئی جس میں گولیوں کے سراخ پائے گئے لیکن آج عدالت میں اُسی ٹی شرٹ کو دوبارہ دکھایا گیا جس پر گواہ نے کہا کہ ٹی شرٹ کے سامنے حصہ میں موجود دو بڑے سراخ ضبطی کے دوران موجود نہیں تھے ۔ گواہ محمد حامد پر وکیل دفاع ایڈوکیٹ جی گرو مورتی نے جرح کیا جس کے بعد اس نے بتایا کہ پنچ نامہ کے دوران گن میان جانی میاں موجود تھا اور اُس نے کہا کہ نوجوان پر فائرنگ کی تھی اور ٹی شرٹ پر موجود گولیوں کے نشان پائے جانے کی اطلاع دی تھی۔ پنچ نامہ کرنے والے تحصیلدار نے بھی ٹی شرٹ پر نشان ہونے کی تصدیق کی لیکن موجودہ ملبوسات میں مزید دو بڑے سراخوں سے لاعلمی کا اظہار کیا ۔ گواہ نے بتایا کہ پنچ نامہ رپورٹ میں موجود تفصیلات سے وہ واقف نہیں ہے چونکہ وہ انگریزی سے لاعلم ہے ۔ گواہ نے مجلس کارکن ہونے کی تردید کی اور کہا کہ وہ افضل گنج میں ہوٹل چلاتا ہے ۔ ایک اور وکیل دفاع ایڈوکیٹ راج وردھن ریڈی کی جانب سے جرح پر محمد حامد نے کہا کہ وہ پولیس کی ایما پر عدالت میں گواہی نہیں دے رہا ہے اور نہ وہ سابق میں پنچ گواہ کی حیثیت سے اپنی گواہی دیاہے ۔ کیس کی سماعت کے دوران ووڈا فون کمپنی کے کارگزار نوڈل آفیسر شریمتی پی جئے لکشمی نے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے یہ بتایا کہ ووڈا فون کمپنی کے گاہک محمد بن صالح نے پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات داخل کرکے سم کارڈ حاصل کی تھی اور ان کے موبائیل فون نمبر کے کال ڈاٹا کو پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے ۔ وکلا دفاع کی جانب سے جرح میں بتایا کہ وہ دو مختلف موبائیل فونس کے درمیان بات چیت کی تفصیلات نہیں بتا سکتی ہیں ۔ ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ ریونیو آفیسر کے مدن موہن راؤ نے عدالت میں بیان دینے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے دستاویزات کی عدم فراہمی پر ان کا بیان قلمبند نہ ہوسکا ۔ کل اس کیس کی سماعت کے موقع پر دو گواہوں کا بیان قلمبند کیا جائیگا ۔

TOPPOPULARRECENT