’’اکبر خاں اپنے خاندان کی کفالت کرنے والے واحد فرد تھے ‘‘

رشتہ داروں سے قرض لے کر دودھ سپلائی کرنے کا کاروبار کرنا چاہتے تھے

الور۔ 22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راجستھان کے ضلع الور میں گائے کی اسمگلنگ کے شبہ میں ہجومی تشدد کے باعث فوت ہونے والے اکبر خاں خاندان کی کفالت کرنے والے واحد فرد تھے۔ وہ ہریانہ کے ضلع میوت سے تعلق رکھے تھے۔ خاں نے اپنے رشتہ داروں سے قرض لے کر گائے خریدتے ہوئے اپنے دوست اسلم خاں کے ہمراہ راجستھان کے ضلع الور میں لالونڈی موضع گئے تھے۔ اسلم خاں اپنے گاؤں پہونچے۔ انہوں نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہجوم نے ان پر حملہ کیا تھا وہ تاریکی کا فائدہ اٹھاکر جنگل میں روپوش ہوگئے لیکن بدقسمتی سے ہجوم نے اکبر خاں کو دبوچ لیا۔ میں جمعہ کی شام اکبر خاں کی موٹر سائیکل پر موضع لالونڈی پہونچے تھے۔ جہاں انہوں نے 2 گائے 60,000 روپئے میں خریدے اور اکبر خاں گائے لے کر پیدل جارہے تھے، میں ان کے ہمراہ موٹر سائیکل سوار اللہ حسین انہوں نے بندوق کی آوازیں سنیں۔ کچھ لوگوں نے شور مچایا تھا کہ یہ لوگ گائے چوری کررہے ہیں۔ وہ لوگ ہمارے قریب پہونچے، میں خوف زدہ ہوکر جنگل کی طرف دوڑ ا جبکہ اکبر خاں دونوں گائے پکڑے ہوئے تھے، میں اندھیرے کی وجہ سے حملہ آوروں کو دیکھ نہیں سکا، البتہ ان کی آواز پہچان سکتا ہوں۔ یہ لوگ ہم پر زور سے گالی گلوج کررہے تھے۔ اکبر خاں کے گھر والوں نے بتایا کہ اکبر اپنا خود کا دورہ کا کاروبار کرنا چاہتے تھے۔ مزید 10 گائے رکھ کر کاروبار کرنے کیلئے سسرالی رشتہ داروں اور دوستوں سے قرض حاصل کیا تھا۔ دیہی عوام نے کہا کہ ان کی اہلیہ 30 سالہ اَسمینہ خاں کو جب شوہر کی موت کی اطلاع ملی تو وہ بے ہوش ہوگئیں۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان میں پہلے ہی سے 3 گائے تھے اور ان کا خاص خیال رکھتے تھے، اس علاقہ میں موجودہ ڈیری مالکین کو دودھ سپلائی کرنے کیلئے انہوں نے اشکبار آنکھوں سے بیان کیا کہ اب میرے شوہر کے بغیر کس طرح زندگی گذار سکوں گی۔ میرے چار لڑکے اور تین لڑکیاں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT