Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / اکثریت حاصل کرنے سودے بازی کا الزام :ڈگ وجئے سنگھ

اکثریت حاصل کرنے سودے بازی کا الزام :ڈگ وجئے سنگھ

پاناجی۔12مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج دعویٰ کیا کہ گوا میں  حکومت تشکیل دینے کیلئے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہنے پر اکثریت حاصل کرنے کیلئے بی جے پی ’’ ہارس ٹریڈنگ ‘‘ کررہی ہے ۔ سینئر کانگریس قائد جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ہے ۔ نقد رقم کی ادائیگی ‘ وزارتوں ‘ کارپوریشنوں اور ایس یو وی کے تیقنات دے رہی ہے ۔ غیر بی جے پی ارکان اسمبلی کو تائید حاصل کرنے کیلئے یہ تمام وعدے کئے جارہے ہیں ۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی دوسری ریاست نہیں دیکھی جہاں ایک سیاسی پارٹی کو مکمل طور پر مسترد کردینے کے باوجود جہاں چیف منسٹر بھی انتخابات میں ناکام رہا ہو 6وزراء ہار چکے ہوں اس کے باوجود تشکیل حکومت کا دعویٰ کیا جارہا ہو ‘ بی جے پی اپنی شکست قبول کرلینی چاہیئے ۔ گوا کے عوام نے بی جے پی کو شکست دی ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ پارٹی کے اُمور کا جائزہ لینے کیلئے گوا کے دورہ پر ہیں ‘ جب کہ رائے شماری ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خاص بات یہ ہے کہ چیف منسٹر لکشمی کانت پارسیکر کو مندرم میں دھول چاٹنی پڑی اور انہوں نے گورنر مردولا سنہا کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا کیونکہ پارٹی سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی ۔ اس شرمناک شکست کے باوجود جس میں پارسیکر کو 7ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی ۔ 6بی جے پی وزراء بھی ناکام ہوگئے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ کانگریس پارٹی غیر بی جے پی ارکان اسمبلی سے تشکیل حکومت کیلئے ربط پیدا کئے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی غیر بی جے پی ارکان اسمبلی سے ربط میں ہیں لیکن ہمیں پورا یقین ہیکہ ہماری اکثریت حاصل ہوچکی ہے ‘ ہم یقینی طور پر ہمارے ساتھ 21سے زیادہ ارکان اسمبلی رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار برقرار رکھنے کی کوششوں کے طور پر بی جے پی نے اتحاد کو جو چھوٹی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ہیں قبول کرلیا ہے ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کہ ( وزیر دفاع ) منوہر پاریکر اور بی جے پی اقتدار کے اتنے بھوکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاریکر کی گہری وابستگی اور گوا کی سرزمین سے محبت کی ستائش کرتے ہیں لیکن انہیں حقیقت کو قبول کرلینے میں ہچکچانا نہیں چاہیئے کہ بی جے پی کو ان کی زیرقیادت شرمناک شکست ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ اخلاقیات اور کردار کے دعوے کرتی ہے کیا یہی اُس کا اخلاق اور کردار ہے ۔ پاریکر نے کل پوچھا کہ معلق اسمبلی کی صورت میں ہر شخص تشکیل حکومت کی کوشش کرسکتا ہے ہم بھی یہی کررہے ہیں ۔ اگر بی جے پی بنیادی گروپ کی حیثیت سے چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرتی پھر بھی وہ مستحکم حکومت فراہم کرسکتی تھی ۔ کانگریس سب سے بڑی واحد پارٹی بن کر ابھری ہے اس کی 17 اور بی جے پی کی صرف 13نشستیں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT