Saturday , December 15 2018

اکثر مسلمان تین طلاق پر پابندی کے حامی ، نقوی کا دعویٰ

ممبئی 8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے آج کہاکہ مسلمانوں کی اکثریت تین طلاق کے رواج پر پابندی عائد کردینے کے حق میں ہے۔ وزیر موصوف نے یہاں ایک تقریب کے موقع پر اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’طلاق ثلاثہ غیر اسلامی عمل اور خراب رواج ہے۔ ہم خواتین کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔ یہ (طلاق بدعت پر پابندی عائد کرنا) یہ کوئی ہندو یا مسلم مسئلہ نہیں ہے، ہم مسلم خواتین کو ہماری حکومت کی جانب سے بااختیار بنانے کے پروگراموں میں چھوڑ نہیں سکتے‘‘۔ پارلیمنٹ کے حالیہ اختتام پذیر سرمائی اجلاس میں لوک سبھا نے طلاق ثلاثہ یا طلاق بدعت کو قابل تعزیر اور ناقابل ضمانت جرم قرار دینے والے تاریخی بِل کو منظور کرلیا۔ یہ بِل کوئی بھی مسلم شخص کے لئے جو اپنی بیوی کو لگاتار تین مرتبہ طلاق کہتے ہوئے رشتہ ازدواج سے ہٹادینے کی کوشش کرے ، اُسے زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ یہ بِل مسلم خواتین اور اُس کی تحویل میں موجود نابالغ بچوں کو گزارا بھی فراہم کرتا ہے جس کا تعین مجسٹریٹ کے ذمہ ہوگا۔ اگرچہ یہ بِل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا لیکن اِسے منظوری نہیں مل سکی کیوں کہ پارلیمنٹ بجٹ سیشن تک ملتوی کردیا گیا۔ ایوان بالا میں اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیاکہ اِس بِل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جائے۔

TOPPOPULARRECENT