Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / اکھلیش اور راہول کی آج لکھنؤ میں مشترکہ انتخابی مہم

اکھلیش اور راہول کی آج لکھنؤ میں مشترکہ انتخابی مہم

اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کیلئے سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی اولین قربت۔ جوائنٹ پریس کانفرنس اور روڈ شو کا بھی پروگرام

لکھنو 28 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اِس نعرہ کے ساتھ کہ ’’یوپی کو یہ ساتھ پسند ہے‘‘ ، چیف منسٹر اترپردیش اور صدر سماج وادی پارٹی اکھلیش یادو اور نائب صدر کانگریس راہول گاندھی اِس ریاست میں نہایت اہم اسمبلی انتخابات کے لئے کل یہاں مشترکہ مہم شروع کریں گے۔ دونوں قائدین جو 403 اسمبلی نشستوں میں سے 300 کے حصول کے مقصد کے ساتھ کانگریس اور ایس پی کے درمیان ماقبل چناؤ اتحاد طے پانے کے بعد پہلی مرتبہ یکجا ہوں گے اور پریس کانفرنس نیز روڈ شو کے ساتھ انتخابی مہم کا ماحول گرمائیں گے۔ ایک سینئر ایس پی لیڈر نے آج نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ دونوں قائدین کل دوپہر لکھنؤ میں جوائنٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح پیام نہ صرف اپنے متعلقہ پارٹی کیڈرس کو دیں گے بلکہ ریاست کے عوام کو بھی کہ دونوں پارٹیوں کی متحدہ کوشش کا مقصد فرقہ پرست قوتوں کو شکست دینا ہے۔ ’’یوپی کو یہ ساتھ پسند ہے‘‘ کے نعرے کے ساتھ ایک مشترک پوسٹر جس پر راہول اور اکھلیش دونوں کی تصاویر کے ساتھ اُن کی متعلقہ پارٹیوں کے انتخابی نشانات بھی ہوں گے، کل اس موقع پر جاری کئے جائیں گے۔ پوسٹروں کا بارڈر 3 رنگوں اور سرخ و سبز رنگوں پر مبنی ہوگا، جو دونوں پارٹیوں کے پرچموں کے رنگ ہیں۔ صحافت سے رابطہ کے بعد دونوں قائدین ریاستی دارالحکومت کے گنجان آبادی والے علاقوں میں جوائنٹ روڈ شو منعقد کریں گے۔ سینئر ایس پی لیڈر نے مزید کہاکہ یہ روڈ شو حضرت گنج علاقہ میں مجسمہ گاندھی سے شروع ہوگا۔ اِس روڈ شو کی گزرگاہ اِس طرح ترتیب دی گئی ہے کہ یہ مسلم اکثریتی علاقوں کا احاطہ بھی کرتا ہے نیز ایسے علاقوں سے بھی روڈ شو گزرے گا جہاں نوجوانوں کی اچھی تعداد پائی جاتی ہے۔ یہ دونوں سرکردہ قائدین قبل ازیں اتحاد کے تعلق سے 22 جنوری کو مشترکہ اعلان کرنے والے تھے لیکن بعد میں دونوں ریاستی سربراہوں راج ببر (کانگریس) اور نریش اتم (ایس پی) نے مل کر معاملت کا اعلان کردیا۔ داخلی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹیوں کی طرف سے بعد کے مرحلہ میں مشترک ریالیوں کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ جوائنٹ پریس کانفرنس سے دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد کے بارے میں ووٹروں کے ذہنوں میں موجود کوئی بھی اُلجھن دور ہوجائے گی۔ چیف منسٹر کی شریک حیات اور ایم پی ڈمپل یادو جنھوں نے سمجھا جاتا ہے کہ اِس اتحاد کو یقینی بنانے میں بڑا رول ادا کیا، وہ بھی دونوں پارٹیوں کے سینئر قائدین کے علاوہ موجود رہنے کا امکان ہے۔ نشستوں کی تقسیم کے معاہدے کے تحت جو دونوں پارٹیوں کے درمیان کافی غور و خوض کے بعد طے پایا ، سماج وادی پارٹی نے اپنی حلیف کانگریس کے لئے 105 نشستیں چھوڑ دیئے ہیں۔ تاہم دونوں صدر کانگریس سونیا گاندھی اور اُن کے فرزند راہول کے پارلیمانی حلقوں امیتھی اور رائے بریلی کے اسمبلی حلقوں پر اختلاف رائے ہے لیکن کانگریس نے تمام متعلقہ 10 حلقوں سے امیدوار کھڑے کرنا فیصلہ کیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT