Friday , December 15 2017
Home / اداریہ / اکھلیش یادو کی پہلی کامیابی

اکھلیش یادو کی پہلی کامیابی

کچھ اضطرابِ درد کی فطرت بدل گئی
میری حیاتِ شوق کی جب رات ڈھل گئی
اکھلیش یادو کی پہلی کامیابی
اُترپردیش کے 5 مرتبہ چیف منسٹر رہنے والے سینئر سیاستداں ملائم سنگھ یادو کو اپنے ہی فرزند کے سامنے سیاسی وقار کو داؤ پر لگانے کی نوبت آگئی ہے ۔ انھوں نے 2012 ء میں شاندار انتخابی کامیابی حاصل کرکے اقتدار اپنے فرزند اکھلیش یادو کے حوالے کیا تھا ۔ اقتدار کے نشے کی عادت جب لت بن جاتی ہے تو اس میں باپ بیٹے کا امتیاز ختم ہوجانا افسوسناک واقعہ کہلاتا ہے۔ سماج وادی پارٹی میں اقتدار اور طاقت کی لڑائی شروع ہوئی تو پارٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی ہر دوجانب سے کوشش ہوئی مگر انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد پارٹی کے لئے انتخابی نشان ’’سیکل‘‘ کے حصول کے لئے دونوں متحارب گروپس کو الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی طاقت کے اصل مظاہرہ کی آزمائش سے گذرنا پڑا جس میں بیٹے اکھلیش یادو کو کامیابی ملی ۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی کی زیرقیادت کمیشن نے یہ نوٹ کیا کہ اکھلیش یادو گروپ نے 228 ارکان اسمبلی کے منجملہ 205 ارکان  اسمبلی اور 68 ایم ایل سی کے منجملہ 56 ارکان قانون ساز کونسل اور پارٹی کے 24ارکان پارلیمنٹ کے منجملہ 15ایم پیز ، 46 قومی اگزیکٹیو ارکان کے منجملہ 28 اور 5731 قومی کنونشن مندوبین کے منجملہ 4400 ارکان کے حلفنامے داخل کئے تھے ۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلہ میں یہ بات بھی ظاہر کی گئی کہ ملائم سنگھ یادو کی جانب سے کسی بھی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کا حلفنامہ داخل نہیں کیا گیااور یہ کہا گیا کہ پارٹی کے اندر کوئی پھوٹ نہیں ہے لیکن کمیشن کو اس تنازعہ کی یکسوئی کیلئے زبانی نمائندگی سے زیادہ تحریری طورپر داخل کردہ حلفناموں کی بنیاد پر فیصلہ کرنا تھا ۔ اب چیف منسٹر اکھلیش یادو کو الیکشن کمیشن نے انتخابی نشان ’’سیکل‘‘ الاٹ کردیا ہے تو آنے والے دونوں میں انتخابی لڑائی کا رُخ بھی یکطرفہ ہی ہوگا ۔ سماج وادی پارٹی کا ناراض گروپ باپ سے زیادہ بیٹے پر انحصار کرتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اس لئے اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے قومی پارٹی کانگریس نے علاقائی سماج وادی پارٹی سے انتخابی اتحاد کی راہ ہموار کرنا شروع کی ۔ یوپی جیسی ایک اہم شمالی پٹی ریاست ہے یہاں کی سیاسی قوت ہی مرکز میں اقتدار حاصل کرنے والی حکومت کو توانائی بخشتی ہے ۔ اُترپردیش کی سیاسی  راہ داریوں میں خود کو دوبارہ طاقتور بنانے کوشاں بی جے پی نے اب تک وزیراعظم نریندر مودی کے نام سے ہی خود کو متحرک رکھنے کی کوشش کی ہے۔ نریندر مودی کو نوٹ بندی کے بعد رائے دہندوں میں وہ مقام حاصل ہوسکے گا یہ کہنا مشکل ہے ۔ سماج وادی پارٹی اور کانگریس اتحاد کے بعد ریاست کا رائے دہندہ بھی منقسم نہیں ہوگا ۔ اگر اس امکانی اتحاد کو قطعیت ملتی ہے تو آنے والے دنوں میں سیاسی نتائج کا رُخ کیا کروٹ لے گا یہ دیگر پارٹیوں کے سیاسی منشور اور کوششوں پر منحصر ہوگا ۔ کانگریس کے ساتھ اتحاد کا فیصلہ چیف منسٹر اکھلیش یادو کے سپرد کرنے والی ایس پی ٹیم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہوگا کہ آئندہ اقتدار کا توازن کس جانب زیادہ ہونا چاہئے ۔ اُترپردیش میں 7 مرحلوں میں ہونے والی رائے دہی کا آغاز 17 فبروری سے ہورہا ہے ۔ ملائم سنگھ یادو کو سماج وادی پارٹی کے قیام کے 25 سال بعد یکا و تنہا ہونے کی صورت کا شکار ہونا پڑا ہے تو یہ سینئر سیاستداں کی غلط اندیشے قائم کرلینے کی سزاء ہوسکتی ہے۔ رجحان ساز لیڈر کی حیثیت سے ان کے فرزند اکھلیش یادو نے اپنا سکہ منوانے میں کامیابی حاصل کی ہے تو ملائم سنگھ یادو کو اس پر مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ ریاست میں سیکولر گروپ کو متحد کرنے اور بی جے پی کی بڑھتی آندھی کا رُخ موڑنے کے لئے اپنے فرزند کے گروپ کا ساتھ دینا چاہئے ۔ سماج وادی پارٹی نے ابتداء میں خود کو صرف یوپی تک ہی محدود رکھا تھا بعد کے برسوں میں اس نے اپنے سیاسی عزائم کو وسعت دیتے ہوئے ملک کی مختلف ریاستوں میں بھی انتخابی مقابلہ کیا لیکن اس کی بڑی کامیابی کی رفتار صرف ریاست یوپی تک ہی محدود رہی ہے ۔ اکھلیش یادو کی زیرقیادت سماج وادی پارٹی میں نوجوانوں کو کافی مواقع مل رہے ہیں ۔ اکھلیش کی اہلیہ ڈمپل یادو بھی سیاست میں سرگرم ہیں انکی سالگرہ کے دن ہی الیکشن کمیشن نے اکھلیش کو سماج وادی پارٹی کا اصل دعویدار قرار دے کر انتخابی نشان سیکل سپرد کردیا ہے تو اس کو یوپی کی نازک سیاست میں سب سے بڑی ابتدائی کامیابی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اب یہاں سے سماج وادی پارٹی کے  ہر رکن کو کامیابی کی جانب مضبوطی سے قدم بڑھانے کی ضرورت ہوگی ۔

TOPPOPULARRECENT