Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / اکھیلیش کے بااعتماد وزیر کا پارٹی سے اخراج

اکھیلیش کے بااعتماد وزیر کا پارٹی سے اخراج

شیوپال یادو کی کارروائی ، سماج وادی پارٹی کا تنازعہ’’ میچ فکسنگ ‘‘: بی جے پی
لکھنؤ ۔ 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) برسراقتدار سماج وادی پارٹی میں جنگ جاری ہے۔ چیف منسٹر یوپی اکھیلیش یادو نے آج سیاسی بحران کی قیاس آرائیاں پیدا کرلیں جبکہ اچانک گورنر رام نائیک سے ملاقات کی چند گھنٹوں بعد ایک اور قائد کو جو ان سے قریب سمجھے جاتے ہیں، پارٹی سے خارج کردیا گیا۔ اکھیلیش اور نائیک کی ملاقات کو سرکاری طور پر خیرسگالی ملاقات قرار دیا گیا ہے۔ راج بھون نے اپنے بیان میں کہا کہ 15 منٹ طویل ملاقات ریاست کی سیاسی صورتحال پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ یہ دوبدو ملاقات تھی جس میں کوئی اور شامل نہیں تھا۔ عہدیداروں نے ادعا کیا ہیکہ پیشگی وقت لے لیا گیا تھا لیکن اچانک ملاقات سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ اکھیلیش یادو ایک اجلاس سے اچانک چلے گئے جس میں پارٹی کے ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین کی مجوزہ رتھ یاترا کی تفصیلات طئے کررہے تھے جس کا آغاز 3 نومبر سے ہوگا۔ اس پر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ موجودہ ریاستی سیاسی صورتحال اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ ذرائع کے بموجب گورنر نے چیف منسٹر سے تازہ ترین ریاستی سیاسی صورتحال کی تفصیلات دریافت کیں اور برسراقتدار پارٹی نے گہری خلیج کو پیش نظر رکھا۔ یہ قیاس آرائیاں گرم ہیں کہ گورنر نے ارکان اسمبلی کی ایک فہرست طلب کی ہے تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ اسمبلی میں اکھیلیش کو اب بھی اکثریت حاصل ہے۔

تاہم ذرائع کے بموجب نہ تو گورنر نے کوئی فہرست طلب کی ہے اور نہ ایسی کوئی دستاویز اکھیلیش نے ان کے حوالہ کی۔ سماج وادی پارٹی کے ذرائع کے بموجب یہ ملاقات کابینہ میں چار مخلوعہ جائیدادوں کے بارے میں تھی جنہیں اکھیلیش نے برطرف کردیا ہے۔ قبل ازیں دن میں شیوپال نے جو ریاستی صدر پارٹی ہیں، تیج نارائن پانڈے عرف پون پانڈے کو جو اکھیلیش یادو کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، ڈسپلن شکنی کے الزام میں 6 سال کیلئے پارٹی سے خارج کردیا۔ شیوپال نے چیف منسٹر کو بھی مکتوب روانہ کیا اور درخواست کی کہ انہیں وزارت سے برطرف کردیا جائے۔ پانڈے ایک جونیر وزیر ہیں۔ پانڈے نے الزام عائد کیا کہ یوپی سماج وادی پارٹی رکن کونسل اشوملک نے انہیں زدوکوب کیا۔ اکھیلیش نے ان پر الزام عائد کیا ہیکہ ان کے خلاف ذرائع ابلاغ میں کہانیاں شائع کروا رہے ہیں۔ شیوپال جن کے اکھیلیش کے ساتھ اختلافات ہیں، کہا کہ انہوں نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کیا ہے کہ پانڈے کو وزارت سے برطرف کردیا جائے۔ اشوملک نے الزام عائد کیا کہ ان کو پانڈے نے چیف منسٹر کی قیامگاہ پر تھپڑ رسید کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے انہیں طلب کیا تھا اور خبر پر مبنی ایک انگریزی روزنامہ میں شائع شدہ مضمون کے بارے میں جس میں انہیں اورنگ زیب اور ان کے والد ملائم سنگھ کو شاہجہاں قرار دیا گیا تھا، دریافت کیا تھا۔ دریں اثناء سماج وادی پارٹی کے جنرل سکریٹری امر سنگھ شہر میں نظر آرہے ہیں۔

ایک  پوسٹر شہر میں چسپاں کیا گیا ہے جس میں امر سنگھ کے چہرے کی جگہ کتے کا چہرہ شائع کیا گیا ہے اور طنزیہ فقرہ تحریر ہے ’’میں گھروں کو توڑنے کا ماہر ہوں‘‘ اس تصویر کے سماجی میڈیا پر شائع ہوتے ہی اس ہورڈنگ کو ہٹا دیا گیا۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب بی جے پی نے آج سماج وادی پارٹی میں جاری اعلیٰ سطحی ڈرامے کا مقصد ذرائع ابلاغ میں موجود رہنا اور عوام کی توجہ چیف منسٹر اکھیلیش یادو کی ناکامیوں سے ہٹانا قرار دیا۔ قومی سکریٹری بی جے پی شری کانت شرما نے کہا کہ اگر بی جے پی برسراقتدار آجائے تو اس ’’کیمپ‘‘ کی تحقیقات کرے گی اور جو بھی خاطی قرار پائے گا اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔ بی جے پی نے الزام عائد کیا کہ یادو خاندان کا تنازعہ درحقیقت ’’فکسڈ میچ‘‘ ہے۔ بی جے پی کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ملک گیر سطح پر ہاسپٹل میں 61 ہزار افراد اوسطاً زیرعلاج ہیں جبکہ یوپی میں ان کی تعداد ڈھائی لاکھ ہے۔ انہوں نے صحت کے محاذ پر یادو اور سابق مایاوتی حکومت کو ناکام قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔

TOPPOPULARRECENT