Saturday , November 25 2017
Home / Mera Column / اک اور نیا سال

اک اور نیا سال

میرا کالم                  سید امتیاز الدین
صاحبو ! شاید آپ کو اب تک معلوم ہوگیا ہوگا کہ نیا سال آچکا ہے اور اس کے جانے میں ایک سال لگے گا۔ ہر نئے سال کی آمد پر دنیا بھر میں دیوانگی کا ایک عالمگیر دورہ پڑتا ہے جو 31 دسمبر کی رات سے شروع ہوتا ہے اور یکم جنوری کی شام تک جاری رہتا ہے اور جب پہلی جنوری کی شام کو لوگوں کی طبیعت میں کچھ افاقہ ہوتا ہے تو ان کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی سوائے اس کے کہ عمر کا ایک سال گھٹا ۔ جو لوگ پہلے سے بوڑھے تھے لڑکھڑاتے ہوئے ضعیفی کی طرف ایک قدم اور بڑھے ، گھر میں پرانے کیلنڈر کی جگہ ایک نیا کیلنڈر لگا ۔ نوجوان اپنی موٹر سیکلوں میں پٹرول بھر کر تیار ہوجاتے ہیں تاکہ نصف شب کو گھر سے جان ہتھیلی پر لے کر سڑکوں پر نعرے لگاتے ہوئے نکل پڑیں اور دوسروں کی نیندیں حرام کریں ۔ بیکریوں میں کیک خریدنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے ۔ ہم جیسے معمولی لوگ ٹی وی کے پروگرام دیکھ لیتے ہیں اور چونکہ نئے سال کی رات سرد ہوتی ہے اس لئے چائے سے اپنے آپ کو گرم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بعض لوگ کلبوں میں اپنے لئے گرمی کا اتنا زیادہ انتظام کرتے ہیں کہ صبح کی اولین ساعتوں میں ایک عالم سرخوشی اور خود فراموشی میں اپنے گھر کا پتہ دوسروں سے پوچھتے ہوئے بہ ہزار دقت واپس ہوتے ہیں ۔

یکم جنوری کو دفتروں میں بالعموم کوئی کام نہیں ہوتا کیونکہ چپراسی سے لے کر اعلی افسر تک ایک ایسی خوشی کی مبارک باد دیتے پھرتے ہیں جو حقیقتاً کہیں دکھائی نہیں دیتی ۔ ابھی چند سال پہلے تو نیو ایر گریٹنگ کارڈس بڑی تعداد میں آتے تھے ۔ کئی لوگ اپنے افسروں کو قیمتی اور دیدہ زیب گریٹنگ کارڈ بھیجا کرتے تھے تاکہ نئے سال میں ڈانٹ ڈپٹ سے محفوظ رہیں ۔ اب یہی کام ای میل سے لیا جاتا ہے ۔
ہم جن دنوں برسرکار تھے تو نئے سال کے ابتدائی دس پندرہ دن تک دفتری خطوط پر اکثر نئے سال کی بجائے گزشتہ سال کا سنہ لکھ دیتے تھے اور کبھی ہمارے ماتحت اور کبھی ہمارے افسر اس مجرمانہ غفلت کی طرف ہماری توجہ دلاتے تھے ۔ ہم کبھی ڈائری لکھتے نہیں ہیں لیکن ہم کو دیدہ زیب ڈائریاں حاصل کرنے کا جنون ہے ۔ ڈائری حاصل کرتے ہی ہم اس پر اپنا نام لکھ دیتے ہیں کہ کہیں کوئی ہم سے ڈائری مانگ نہ لے ۔ پچھلے سال ایک صاحب نے ہماری نئی نویلی ڈائری دیکھنے کے بعد ہم پر یہ افسوسناک انکشاف کیا کہ وہ ہمارے ہم نام ہیں اور اس ڈائری پر ان کا بھی حق ہے ۔ ہم نے مجبوراً ڈائری ان کے حوالے کردی ۔ اس سال ارادہ ہے کہ اپنی ڈائری پر اپنے نام کے علاوہ والد مرحوم کا نام ، تاریخ پیدائش ، گھر کا پتہ ، بلڈ گروپ وغیرہ بھی لکھ دیں تاکہ یہ متاع عزیز ہر قسم کے جارحانہ اور غاصبانہ حملوں سے محفوظ رہے ۔
چونکہ نئے سال میں ہم پر کیا کیا گزرے گی یہ ابھی پردۂ غیب میں ہے ، اس لئے ہم کو سال گزشتہ کے اچھے اچھے واقعات ذہن میں آرہے ہیں ۔ ہم نے محسوس کیا ہے کہ پچھلے سال ہمارے سیاسی اور سماجی افق پر نئی نئی تبدیلیاں نمودار ہوئی ہیں ۔ فرسودہ اور بندھے ٹکے طریقہ کار اور طرز گفتگو کی بجائے نئی نئی چیزیں دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ شہروں میں موٹر گاڑیوں سے دھواں پھیلتا ہے اور آلودگی بڑھتی ہے ! اس لئے اب دہلی میں ایک دن جُفت نمبرپلیٹ کی گاڑیاں چلیں گی اور ایک دن طاق نمبر پلیٹ کی ۔ اس طرح آلودگی میں پچاس فیصد کی کمی ہوگی ۔ چونکہ لوگوں کے پاس پیسے کی کمی نہیں ہے اس لئے بہت سے لوگ دو دو کاریں رکھنے کی سوچ رہے ہیں ۔ ایک جُفت نمبر والی اور دوسری طاق نمبر والی ۔ اس طرح وہ بلا روک ٹوک ہر روز کار چلائیں گے اور حکیم مومن خاں مومن کے شاہ کار شعر کا لطف اس طرح اٹھائیں گے ۔

تم مرے پاس ہوتی ہو گویا
جب کوئی دوسری نہیں ہوتی
(یہاں روئے سخن کار کی طرف ہے) ہمارے ایک دوست دہلی میں رہتے ہیں ۔ ہم نے فون پر ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو بھی اس نئے قانون سے کچھ دشواری ہوگی ۔ کہنے لگے بھئی ہم کو تو کوئی دشواری نہیں ۔ میرا دفتر گھر سے بہت قریب ہے ۔ میں اپنے دو پیروں سے پیدل چلا جاتا ہوں ۔ میرے خسر بھی میرے ساتھ رہتے ہیں ۔ وہ لاٹھی ٹیک کر چلتے ہیں اور ایک لحاظ سے طاق کے زمرے میں آتے ہیں لیکن ان پر بھی کوئی روک نہیں ہے ۔

دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں سے آلودگی پھیلتی ہے یہ تو صحیح ہے لیکن 2015 میں بعض ایسے شعلہ بیاں مقرر نمودار ہوئے ہیں جن کی تقاریر سے کاروں کے دھوئیں سے زیادہ آلودگی پھیلتی ہے ۔ ان کی سرزنش بھی کی گئی لیکن وہ باز نہیں آئے ۔ ان پر بھی یہ لازم کیا جائے کہ وہ ہفتے میں ایک دن دو منٹ کے لئے تقریر کریں اور اس سے اگلے دن تین منٹ کے لئے خطاب فرمائیں اور دونوں مرتبہ مائیکرو فون ان کے سامنے نہ ہو ۔ خود ہماری پارلیمنٹ میں اس قدر شور شرابہ ہوتا ہے کہ کوئی کاروبار ہونے نہیں پاتا ۔ اس لئے ایک دن شور کی اجازت دی جائے اور اس سے اگلے دن کو کام کاج کا دن قرار دیا جائے ۔ اس طرح کام بھی ہوگا اور شور بھی ، اور بڑی سہانی فضا بھی بنی رہے گی ۔
پارلیمنٹ کے ذکر پر یاد آیا کہ آج سے دو سال پہلے ہمارے ملک میں ایک دردناک سانحہ پیش آیا تھا ۔ ملزمین میں ایک لڑکا بھی تھا جس کی عمر 18 سال سے کم تھی ۔ قانون کی رُو سے اس پر فرد جرم نہیں لگی اور وہ آزاد ہوگیا ۔ اس پر ملک میں بہت احتجاج ہوا کہ وہ لڑکا کیسے رہا ہوگیا ۔ نہایت عجلت سے بل پاس ہوا اور اب قابل سزا عمر 18 سال سے گھٹا کر 16 سال کردی گئی ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ بڑا اچھا اقدام ہے ۔ لیکن ہمارا خیال ہے کہ ایسے معاملات میں قانون سازی سے زیادہ کردار سازی کی ضرورت ہے ۔ عمر کی حد گھٹانے سے ہوسکتا ہے کہ اچھے نتائج نکلیں لیکن ہم نے بعض چودہ پندرہ برس کے لڑکوں کو بھی دیکھا ہے جو ہم کو کافی جہاں دیدہ لگے ۔ ہم کو ایک واقعہ یاد آگیا ۔ سنا ہے کوئی گاؤں کسی ندی کے کنارے تھا جس میں اکثر باڑھ آتی رہتی تھی ۔ جان و مال کا نقصان ہوتا تھا ۔ وہاں ایک صاحب کو متعین کیا گیا تھا جن کا کام اتنا تھا کہ وہ ندی میں پانی کے بہاؤ پر نظر رکھیں اور خطرے کی صورت میں متعلقہ حکام کو مطلع کریں اور آبادی کے تخلیے  کا بندوبست کریں ۔ یہ صاحب اپنا بیشتر وقت سونے میں گزارتے تھے ایک مرتبہ وہ سورہے تھے کہ ان کا ماتحت بھاگا بھاگا آیا اور کہنے لگا حضور ندی میں پانی کی سطح خطرے کے نشان تک پہنچ گئی ہے ۔ ان صاحب نے نیند میں کروٹ بدلتے ہوئے کہا ’خطرے کے نشان کو اوپر کردو‘ ۔ تھوڑی دیر بعد ماتحت پھر آیا یہ کہنے کے لئے کہ پانی کی سطح اور اونچی ہوگئی ہے ۔ ان صاحب نے خطرے کا نشان اور اوپر کردینے کا حکم دیا  ۔ ماتحت تھوڑی دیر سے پھر آیا ’حضور پل بہہ گیا، گاؤں ڈوب گیا ۔ آپ کے پلنگ کے پائے بھی پانی میں ہیں ۔ میں بھاگ رہا ہوں ۔ خدا حافظ‘۔

2015 کا ایک اور اہم واقعہ میگی نوڈلس کی فروخت پر امتناع کا بھی تھا جس کی بہت دھوم رہی ۔ اس سال بھی ایک مہاشے کے غذائی پروڈکٹس میں کیڑا نکلنے کی اطلاع آئی تھی لیکن بمشکل دو دن میں چوطرف خاموشی سی چھاگئی ۔ یا توکیڑا نکلا ہی نہیں تھا یا پھر جو کیڑا نکلا وہ ہماری صحت کے لئے ضروری تھا ۔
اسی طرح 2015 کی جس خبر سے ہم باغ باغ ہو اٹھے وہ ہمارے وزیراعظم کا اچانک دورہ لاہور ہے ۔ کتنی پرمسرت بات ہے کہ وزیراعظم ماسکو سے نکلے کابل پہنچے اور کابل سے بجائے دہلی کے لاہور پہنچ گئے ۔ یہاں ان کے استقبال کے لئے نواز شریف تیار کھڑے تھے ۔ دونوں گلے لگے اور نواز شریف سیدھے مودی جی کو اپنے محل نما مکان میں لے کر چلے گئے جہاں مودی جی نے اپنے ہم منصب کی سالگرہ اور ان کی نواسی کی شادی میں شرکت کی ۔ ہم کو ہند و پاک دوستی کے یہ دلفریب نظارے بہت اچھے لگے ۔ ہم کو یہ بات بھی بہت اچھی لگی کہ ہمارے وزیراعظم اچانک شادی میں شریک ہوگئے ۔ ہم نے بھی تہیہ کرلیا کہ ہم بھی شادیوں میں اچانک شریک ہوجائیں گے ۔
حسن اتفاق دیکھئے کہ کل شام ہم سے بازار سے پالک کی بھاجی لانے کے لئے کہا گیا ۔ آپ تو جانتے ہیں کہ جب آدمی سبزی خریدنے کے لئے نکلتا ہے تو لباس کا زیادہ اہتمام نہیں کرتا ۔ سبزی بیچنے والا اور سبزی خریدنے والا دونوں سادگی کا پیکر ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہم بھی پالک خریدنے کے لئے ہوائی چپل اور کرتا پاجامہ پہن کر نکلے ۔ تھوڑی دور گئے ہوں گے کہ ہماری نظر ایک شاندار شادی خانے پر پڑی جو بقعۂ نور بنا ہوا تھا ۔ ہم نے فوراً اس شادی میں شریک ہونے کا ارادہ کرلیا اور شادی خانے میں داخل ہوگئے ۔ تھوڑی دور چلے ہوں گے کہ ہم کو چار پانچ لوگ عمدہ سوٹ اور زرق برق شیروانیوں میں کھڑے دکھائی دئے ۔ ہم فوراً سمجھ گئے کہ یہ ہمارے استقبال کی تیاریاں ہیں چنانچہ ہم نے سلام کو ہاتھ اٹھایا اور پھر مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا ۔ ان میں سے ایک صاحب نے کسی قدر تلخ لہجے میں پوچھا۔

’آپ کی تعریف؟‘
اب ہم اپنے منہ سے اپنی تعریف کیا کرتے ۔ نام بتادیا ۔ ان نالائقوں نے ہم سے پوچھا ’’کیا آپ کے پاس شادی کا رقعہ ہے‘‘ ۔
ہم نے کہا ’’ہم شادیوں میں اچانک پہنچتے ہیں۔ شادی خانوں میں ہمارا آنا جانا لگا رہتا ہے‘‘ ۔ ہم سمجھتے تھے کہ جواب میں وہ ہم سے کہیں گے کیوں نہیں اس شادی خانے کو اپنا گھر سمجھئے ۔ مگر انھوں نے ہم سے پوچھا ’’کیا آپ کچھ تحفے تحائف لائے ہیں‘‘ ۔ ہم نے اس احمقانہ سوال پر تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھا ’’تحفے تحائف سے آپ کی کیا مراد ہے؟‘‘
ان لوگوں میں سے کسی نے کہا ’’تحفے یعنی دلہن کے نانا کے لئے قیمتی شملہ ، دولہا دلہن کے لئے بیش قیمت ملبوسات‘‘ ۔ ہماری تو ہنسی چھوٹ گئی ۔ ہم نے کہا ’’میاں ! اگر ہم اتنے مالدار ہوتے تو کیا اپنی دعوت خود نہ کرلیتے‘‘ ۔
یہ سننا تھا کہ ان لوگوں نے زبانی جواب دینے کی بجائے عملی جواب دیا یعنی بمشکل ایک منٹ بعد ہم شادی خانے کے سامنے فٹ پاتھ پر کچھ بیٹھے کچھ لیٹے تھے اور ہمارا حال اس شعر کی طرح تھا ۔
کیا کیا ہوا ہنگام جنوں یہ نہیں معلوم
کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا
جائے حادثہ کے سامنے ایک جماعت خانہ تھا جہاں ہم نے اپنا عکس دیکھا تو اندازہ ہوا کہ ہم شادی میں شرکت تو کجا سبزی خریدنے کے قابل بھی نہیں تھے ۔ چار و ناچار گھر واپس ہوئے ۔ بہرحال ہمیں امید ہے کہ آپ کا ہمارا 2016 بھی اسی طرح گزرے گا جیسا 2015 گزرا تھا اور ہم عادت کے مطابق یکم جنوری 2017 کو پھر سے ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کے لئے خم ٹھونک کر کھڑے ہوجائیں گے ۔ نیا سال مبارک ہو ۔

TOPPOPULARRECENT