Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / ’’اگر مجھ پر نوٹ بندی مسلط کی جاتی تو میں مستعفی ہوجاتا‘‘ : رگھورام راجن

’’اگر مجھ پر نوٹ بندی مسلط کی جاتی تو میں مستعفی ہوجاتا‘‘ : رگھورام راجن

نوٹ بندی کے سبب کھاتوں میں رقومات جمع بینکوں پر سود کا بھاری بوجھ
واشنگٹن ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے واضح کیا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ اگر ان پر مسلط کیا جاتا تو وہ فی الفور اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجاتے تھے لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کردیا کہ حکومت اگر اس فیصلہ پر عمل کرنا ہی چاہتی تو وہ اس مرکزی بینک کو نظرانداز کرتے ہوئے بھی فیصلہ پر عمل آوری کرسکتی تھی۔ مودی حکومت کی اکثر معاشی پالیسیوں کے ناقد کی حیثیت سے معروف رگھورام راجن نے ’’اصلاحات، مسائل اور حل پر میں نے کیا جو کرنا تھا‘‘ کے زیرعنوان اپنی کتاب نئی دہلی میں رسم اجراء سے قبل اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ (نوٹ بندی) 1978 میں بھی ہوئی تھی جب حکومت نے آرڈیننس کے ذریعہ نوٹ بندی کی تھی۔ اس سوال پر کہ آیا آپ کی میعاد میں حکومت اگر نوٹ بندی کیلئے کہتی تو آپ کیا کرتے؟ رگھورام راجن نے جواب دیا کہ ’’جی نہیں (ہرگز نہیں) صرف میری نعش پر (چلتے ہوئے) یہ قدم اٹاھیا جاسکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو اگرچہ نوٹ بندی کیلئے آر بی آئی کی رضامندی لازمی نہیں ہوتی اور اگر ان کی رِضامندی کے بغیر بھی نوٹ بندی کی جاتی تو وہ گورنر آر بی ائی کے عہدہ سے مستعفی ہوجاتے تھے‘‘۔

میرے پاس ایک ہی راستہ رہتا اور میں حکومت سے کہتا میرا استعفیٰ لیجئے‘‘۔ رگھورام راجن نے نوٹ بندی کے علاوہ حکومت کی مختلف معاشی و مالیاتی پالیسیوں پر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ’’معیشت میں ہم کوئی ’’چھکہ‘’ نہیں لگا سکتے۔ ہم ایسا نہیں کرسکتے‘‘۔ حکومت زیادہ سے زیادہ افراد کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانے کیلئے نوٹ بندی کرنا چاہتی تھی لیکن تین تا چار لاکھ کروڑ روپئے رسمی بینکنگ میں پہنچے ہیں اور اس کا بوجھ آر بی آئی کو برداشت کرنا ہوگا کیونکہ اس بھاری رقم پر سود ادا کرنا ہوگا۔ ماضی میں بھی کئی وزرائے فینانس ٹیکس چوروں کو ٹیکس نیٹ ورک میں لانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے کوئی مناسب متبادل راستہ اختیار کیا اور ’’نوٹ بندی‘‘ جیسے صدمہ انگیز اقدام سے گریز کیا تھا۔ رگھورام راجن نے مزید کہاکہ غیرمحسوب دولت ہندوستانی معیشت چلارہی تھی جو اب بنک کاری نظام میں جمع ہوگئی ہے جس پر سالانہ 20,000 تا 22,000 کروڑ روپئے کی رقم بینکوں کو بطور سود ادا کرنا ہوگا۔ مودی حکومت کی جانب سے نہیں ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر کی حیثیت سے مزید ایک میعاد دینے کی پیشکش سے متعلق ایک نامور کالم نویس کی رپورٹ کو رگھورام راجن نے ’’جھوٹ‘‘ دیتے ہوئے مسترد کردیا، جس میں کہا گیا تھا کہ شکاگو یونیورسٹی میں ان کی رخصت کے اختتام نے انہیں دوسری میعاد قبول کرنے سے پس و پیش کا شکار بنادیا تھا۔ راجن نے کہا کہ اگر وہ چاہتے تو مزید رخصت دی جاسکتی تھی۔

TOPPOPULARRECENT