Wednesday , November 22 2017
Home / Editorial News / اگزٹ پولس کے غلط رجحانات

اگزٹ پولس کے غلط رجحانات

دنیا داری کے ہمیں کچھ اور بھی تو کام ہیں
کب تلک الجھے ہوئے ہم تیرے بالوں میں رہیں
اگزٹ پولس کے غلط رجحانات
لوک سبھا یا اسمبلی انتخابات کے موقع پر نتائج اخذ کرنے والے الیکٹرانک میڈیا کو ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا خبط طاری ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی خبط بہار اسمبلی انتخابات کے موقع پر بھی دیکھا گیا۔ بہار اسمبلی انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ کے فوری بعد ملک کے مختلف ٹی وی چیانلوں نے اگزٹ پول کے ذریعہ عوام کی رائے اور فیصلہ سے زیادہ خود کی صلاحیتوں، خوبیوں اور سیاسی تجزیہ کاری کی مہارت کا مظاہرہ کیا تو بعض چیانلوں نے پارٹی کی وفاداری اور لیڈروں کی خوشنودی کا افسوسناک مظاہرہ بھی کیا۔ بہار انتخابات کے لئے اگزٹ پولس کے ذریعہ جو الجھن پیدا کی گئی، یہ ہندوستان کے مزاج کے برعکس ہے۔ ٹی وی چیانلوں کے سرکردہ صحافیوں نے لمحہ آخر تک بھی حکمراں پارٹی کے کامیاب ہونے کا دعویٰ کیا۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت کی چاپلوسی کرنے والے الیکٹرانک میڈیا کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب حقیقی نتائج عوام کے سامنے ظاہر ہونے لگے۔ 5 نومبر سے اتوار کی صبح 9 بجے تک بھی بعض چیانلوں نے اپنے ناظرین کو یہی باور کروایا کہ بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کو بھاری اکثریت سے کامیابی مل رہی ہے جبکہ چند ایک صحافتی اقدار کے حامل میڈیا شخصیتوں نے غیرجانبدارانہ طور پر اگزٹ پولس کے ذریعہ عوام تک درست خبر پہونچائی۔ الیکٹرانک میڈیا میں اس طرح سیاسی جانبداری اور غیرجانبداری کے ملے جلے رجحان سے عوام میں یہی تاثر پیدا ہورہا ہے کہ بکاؤ میڈیا نے ہندوستانی سیاست کو اپنی مرضی کی چادر میں لپیٹ کر ماحول کو گرمایا ہے۔ بہار میں ووٹوں کی گنتی کا آغاز ہوتے ہی جس طرح رجحانات آنے لگے، موافق مودی ٹی وی چیانلوں کی پیشن قیاسیاں غلط ثابت ہوئیں۔ اس سے پارٹی ہیڈکوارٹرس پر بھی کئی قائدین اور پارٹیوں کے ترجمان کو الجھن کا شکار ہونا پڑا۔ ابتداء میں بی جے پی پارٹی آفس پر آتش بازی کی گئی کیوں کہ ان کے حامی ٹی وی چیانلوں نے ابتدائی رجحان میں بی جے پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی اطلاع دی تھی۔ وقت گذرنے کے ساتھ ہی بی جے پی کی صفوں میں مایوسی چھا گئی اور آر جے ڈی، جنتا دل (یو) پارٹی آفسوں میں جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ یہ انتخابات دراصل بی جے پی اور اس کے قائدین کے لئے وقار کا مسئلہ تھے۔ وزیراعظم کی حیثیت سے نریندر مودی نے فرد واحد کی پارٹی کے طور پر خود کو ظاہر کرکے وزارت عظمیٰ کے عہدہ کا بے جا استعمال کیا اور 34 سے زائد جلسہ عام سے خطاب کیا۔ ماضی میں کسی بھی وزیراعظم نے اتنی ہنگامی انتخابی مہم نہیں چلائی تھی۔ نریندر مودی کا یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ ان کی انتخابی مہم ہی بی جے پی کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں انہوں نے جس طرز کی انتخابی مہم چلائی تھی، اس وقت مخالف کانگریس رجحان کا فائدہ بی جے پی کو پہونچا تھا لیکن بہار اسمبلی انتخابات میں مقابلہ خالص ترقی اور عوامی خوشحالی کی بنیاد پر ہوا تھا۔ نریندر مودی کے اچھے دن کے نعرہ کو بہار کے عوام نے مسترد کردیا۔ اگزٹ پولس نے لمحہ آخر تک پارٹی قائدین کو خوش فہمی میں مبتلا کردیا تھا۔ سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ آیا اگزٹ پولس کے من گھڑت رجحانات کو روکنے کے لئے الیکشن کمیشن کے پاس کوئی رہنمایانہ خطوط ہونے چاہئیں یا نہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا ایک ایسا خودمختار اور بااختیار ادارہ ہے جو اپنے بل پر سیاسی و انتخابی اصول و ضوابط وضع کرسکتا ہے۔ ماضی میں اگزٹ پولس ہر مرحلے کی رائے دہی کے فوری بعد پیش کئے جاتے تھے۔ اس سے ماباقی مرحلوں میں ہونے والی رائے دہی پر منفی اثر پڑ رہا تھا۔ الیکشن کمیشن سے کی گئی متعدد نمائندگیوں کے بعد ہی اگزٹ پولس پر انتخابی عمل پورا ہونے تک پابندی عائد کردی گئی تھی۔ انتخابات میں سٹے بازوں کا بھی زبردست کاروبار چل پڑتا تھا۔ شاید سٹے بازی اور ٹی وی چیانلوں سے اگزٹ پولس میں اظہار رائے کا عنصر مختلف ہوتا ہے۔ اگزٹ پولس کرنے والوں کو سیاسی پارٹیوں سے پیشگی رقم مل جاتی ہوگی لیکن سٹے بازوں کو ہر ایک غلطی کا حساب چکانا پڑتا ہے۔ اس طرح کی انتخابی جوئے بازی کو روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ قانون عوامی نمائندگان 1951ء کی دفعہ 126(A) کے تحت اگزٹ پولس پر پابندی کا اطلاق اگر سختی سے ہوتا ہے تو اس طرح سیاسی طرف داری اور بکاؤ والے اگزٹ پولس کا رجحان ختم ہوجائے گا۔ بہرحال قطعی نتائج ہی عوام کی درست رائے کا مظہر ہوتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT