Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / اگسٹ14 کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی ریلی

اگسٹ14 کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی ریلی

اسلام آباد 5 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کرکٹر سے سیاستدان بننے والے تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان نے آج کہا ہے کہ وہ گذشتہ سال ہوئے پارلیمانی انتخابات کے خلاف 14 اگسٹ کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی ریلی کا اہتمام کرینگے ۔ ان کا الزام ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں ان کی پارٹی کو شکست ک

اسلام آباد 5 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کرکٹر سے سیاستدان بننے والے تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ عمران خان نے آج کہا ہے کہ وہ گذشتہ سال ہوئے پارلیمانی انتخابات کے خلاف 14 اگسٹ کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی احتجاجی ریلی کا اہتمام کرینگے ۔ ان کا الزام ہے کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی گئی ہیں جن کے نتیجہ میں ان کی پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ 2013 میں ہوئے انتخابات میں عمران خان کی تحریک انصاف پارٹی کو شکست ہوئی تھی اور وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت والی پاکستان مسلم لیگ ( نواز گروپ ) کو شاندار کامیابی ملی تھی ۔

ان کا مطالبہ ہے کہ کئی حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروائی جانی چاہئیں جہاں ان کا ادعا ہے کہ ان کی پارٹی کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ وہ گذشتہ چار ماہ سے اس سلسلہ میں احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت نے ان کی شکایات کے ازالہ سے انکار کردیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قومی اسمبلی کی کم از کم 90 نشستوں کیلئے بدعنوانیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14اگسٹ کو ان کی پارٹی کی جانب سے جو ریلی منظم کی جا رہی ہے وہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی ہوگی اور حکومت ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوجائیگی ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ نظام جمہوری نہیں ہے کیونکہ عوام کی رائے کو چرالیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ 11 اگسٹ کو انتخابات میں دھاندلیوں کا ثبوت پیش کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی حمایت والے امیدواروں کو انصاف نہیں ملا ہے حالانکہ انہوں نے جو کچھ ہوا ہے اس کی تحقیقات کے مطالبہ پر لاکھوں روپئے خرچ کئے ہیں۔ عمران خان کی جانب سے احتجاج کے اعلان سے حکومت کے حلقوں میں پہلے ہی بے چینی پیدا ہوگئی ہے جس نے دستور کے دفعہ 245 کے تحت امن و ضبط کی برقراری کیلئے فوج کو طلب کرلیا ہے ۔ اسلام آباد میں فوج متعین کردی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ابھی عمران خان کی اس ریلی کے حقیقی عزائم کا پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم کئی گوشے کہہ رہے ہیں کہ یہ موجودہ نواز شریف حکومت کو زوال کا شکار کرنے کی کوشش ہے ۔ اس تعلق سے اندیشے مزید گہرے ہوگئے ہیں کیونکہ لاہور سے علامہ طاہر القادری نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے 14 اگسٹ سے تحریک کا آغاز کرینگے ۔ علامہ طاہر القادری دوہری شہریت کے حامل ہیں اور وہ گذشتہ مہینے کناڈا سے پاکستان آئے ہیں۔

وہ ایک شعلہ بیان مقرر ہیں اور ان کے ہزاروں حامی ہیں جو منہاج القرآن نامی تنظیم سے وابستہ ہیں اور کئی تعلیمی ادارے اس کے تحت چلائے جاتے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ عمران خان اور علامہ طاہر القادری نے اسلام آباد میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کو جمع کرنے کیلئے ایک دوسرے سے اتفاق کرلیا ہے تاکہ حکومت کو وسط مدتی انتخابات کے اعلان کیلئے مجبور کیا جاسکے ۔ اپنی جانب سے وزیر اعظم نواز شریف صورتحال سے نمٹنے کیلئے سیاسی قائدین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ آج نواز شریف نے سینئر سیاستدان اور قبائلی سربراہ محمود خان اچک زئی سے ملاقات کی اور سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وزْر داخلہ نثار علی خان نے فون پر عمران خان سے بات چیت کی ہے تاکہ انہیں احتجاج سے دستبرداری کیلئے راضی کیا جاسکے تاہم عمران خان نے یہ تجویز قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT