Tuesday , February 20 2018
Home / Top Stories / اگلے گرانڈ سلام تک فٹ ہوجاؤں گی : ثانیہ مرزا

اگلے گرانڈ سلام تک فٹ ہوجاؤں گی : ثانیہ مرزا

خاتون ٹینس اسٹار نے کہا کہ میں ڈاکٹروں کے مشورہ پر چل رہی ہوں، ایک ماہ میں سرجری متوقع

کریئرنوئین 5فروری (سیاست نیوز) گھٹنے کے زخم کی وجہ سے آسٹریلین اوپن میں حصہ نہیں لے سکیں ہندوستانی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے کہاکہ اُنھیں اُمید ہے کہ وہ اگلے گرانڈ سلام تک صحتیاب ہوجائیں گی۔ ثانیہ نے گزشتہ سال کروشیا کے ایوانگ ڈوڈک کے ساتھ جوڑی بناکر آسٹریلین اوپن میں حصہ لیا تھا جہاں وہ فائنل تک پہونچی تھیں لیکن فائنل میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگرچہ 2016 میں انھوں نے مارٹینا ہنگس کے ساتھ مل کر ویمنس ڈبلز میں خطاب جیتا تھا۔ ثانیہ اب تک چھ گرانڈ سلام خطاب حاصل کرچکی ہیں۔ واضح رہے کہ ثانیہ نے گریٹر نوئیڈا میں سرٹیک اسپورٹس ولیج میں اپنی ٹینس اکیڈیمی سے جڑنے کے بعد اتوار کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے جب مجھے چوٹ لگی ہے۔ اس سے پہلے بھی میری تین مرتبہ سرجری ہوئی ہے اور اب ایک کھلاڑی کی حیثیت سے میں اس کی عادی ہوگئی ہوں۔ سال کا دوسرا گرانڈ سلام (فرنچ اوپن) شروع ہونے میں ابھی 3 مہینے کا وقت ہے اور میں اُمید کرتی ہوں کہ اس وقت تک میں مکمل فٹ ہوجاؤں گی۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ تاہم یہ سب میرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ میں گزشتہ دو سال سے اس زخم کے ساتھ کھیل رہی تھی اور چوٹ اتنی بڑھ گئی کہ مجھے کورٹ سے دور ہونا پڑا لیکن اب یہ سب ٹھیک ہورہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ جلد سے جلد ٹھیک ہوجائے تاکہ دوسرے گرانڈ سلام تک میں واپسی کرسکوں۔ ثانیہ نے کہاکہ میں اب ڈاکٹروں کے مشورہ کے مطابق ہی چلوں گی اور اگر اس کا آپریشن ہوتا ہے تو وہ تقریباً ایک ماہ آرام کرنا ہوگا۔ ایشیائی کھیلوں میں حصہ لینے کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹینس اسٹار نے کہاکہ میں نے ایشیائی کھیلوں میں پہلی بار 2002 ء میں حصہ لیا تھا اس وقت میری عمر صرف 15 سال تھی۔ ملک کے لئے کسی بھی بڑے ٹورنمنٹ میں کھیلنے میری ترجیح رہی ہے اور میں پھر سے اس میں تمغہ جیتنا چاہتی ہوں۔ لیکن مقابلہ شروع ہونے میں ابھی کافی وقت باقی ہے اور اُمید ہے کہ اس سے پہلے چوٹ کے ساتھ ساتھ دیگر معاملات بھی ٹھیک ہوجائیں گی۔ 31 سالہ ٹینس اسٹار نے اپنی دوسری ٹینس اکیڈیمی کے بارے میں کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ لوگوں میں کھیل کے ذریعہ اچھی صحت کو فروغ دینے کے لئے مجھے موقع ملا ہے۔ یہ کھیل شائقین کو ایک ایسا پلیٹ فارم دے گا جس کے ذریعہ وہ عالمی تربیت پاسکیں گے۔ انھوں نے کہاکہ نئی کھلاڑیوں کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ کس اکیڈیمی میں کھیل رہے ہیں بلکہ یہ ضروری ہیکہ اس سے کھیل کو فروغ حاصل ہو۔ انھوں نے کہاکہ کھیل زندگی میں کچھ سبق سکھانے والا ہونا چاہئے بجائے اس کے کہ کھلاڑی اسے صرف چمپئن بننے کے لئے کھیلے۔

TOPPOPULARRECENT