Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / اہانت رسولؐ کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے والی جماعت اپنے شہر میں خاموش

اہانت رسولؐ کیخلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے والی جماعت اپنے شہر میں خاموش

دہلی، کولکتہ، بنگلور، بھوپال اور لکھنو میں احتجاجی جلسے، لیکن حیدرآباد میں جی ایچ ایم سی انتخابی تیاریوں کیلئے افتتاحی تقاریب

حیدرآباد ۔ 15 ڈسمبر (سیاست نیوز)  شان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کے مسئلہ پر ردعمل کا اظہار فطری ہے اور مسلمانوں کو جان، مال، اقتدار، مرتبہ، والدین، اولاد سب کچھ قربان کرتے ہوئے ناموس رسالت ؐ کی حفاظت کیلئے آگے آنا چاہئے اور جن کے دل حبِ رسول ؐ سے سرشار ہیں وہ اس گستاخی کی نہ صرف کھل کر مذمت کررہے ہیں بلکہ سخت احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں کی گئی گستاخی کے خلاف ملک کے مختلف مقامات پر مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے احتجاج منعقد کیا جارہا ہے۔ دہلی میں مجلس اتحادالمسلمین کے مقامی ذمہ داران نے بڑے پیمانے پر احتجاج منعقد کیا۔ علاوہ ازیں اترپردیش، بھوپال، کولکتہ، بنگلور میں مجلسی کارکن و قائدین کی جانب سے احتجاج میں شرکت کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور سوشل میڈیاپر تصاویر بھی پوسٹ کی جارہی ہے جس میں مجلسی کارکن پارٹی بیانرس، صدر کے تصاویر اور پارٹی کے جھنڈے تھامے ہوئے ہیں۔ مختلف مقامات پر جاری اس احتجاج کے ذریعہ مجلس کی جانب سے گستاخ کملیش تیواری کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ملک کے مختلف مقامات میں جاری احتجاج میں حصہ لے رہے قائدین اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے گستاخ رسول ؐ کو کیفرکردار تک پہنچانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ شہر حیدرآباد میں پارٹی کا صدر دفتر موجود ہونے کے باوجود حیدرآباد میں اب تک کوئی پارٹی کی جانب سے گستاخ رسول ؐکے خلاف منصوبہ بند احتجاج یا پرامن ریالی کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ مجوزہ بلدی انتخابات کے سلسلہ میں روزانہ کہیں نہ کہیں افتتاحی تقاریب کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے جبکہ پارٹی سے تعلق رکھنے کا دعویٰ کرنے والے بیشتر قائدین جو کہ تلنگانہ و ریاست آندھراپردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں میں ہیں، وہ اس انتہائی سنگین مسئلہ پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے لگے ہیں۔ گذشتہ ماہ کملیش تیواری نے شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کرتے ہوئے ملک بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا تھا۔ اس سلسلہ میں حیدرآباد میں تاحال صرف جمعیتہ علمائے ہند کی جانب سے باضابطہ احتجاجی دھرنا منعقد کیا گیا جبکہ بعض نوجوانوں کی جانب سے چنچلگوڑہ میں کملیش تیواری کے پتلے نذرآتش کئے گئے۔ عوام جو سوشل میڈیا کا استعمال کررہے ہیں ان کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہورہا ہیکہ جماعت جس مقام سے کام کررہی ہے اور جس ہیڈکوارٹر سے ہدایات جاری کئے جاتے ہیں اس مقام پر کیوں اب تک گستاخ رسولؐ کے خلاف جماعت کی جانب سے باضابطہ احتجاج نہیں کیا گیا۔ گذشتہ ماہ کے اواخر میں کئے گئے اس احتجاج کے بعد مرکزی احتجاجی جلسہ بموقع شہادت بابری مسجد بھی منعقد ہوا لیکن اس موقع پر بھی کسی نے شان رسالت ؐ میں ہوئی اس گستاخی پر کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ دہلی میں 11 ڈسمبر کو ہوئے احتجاج میں مقامی قائدین نے جنترمنتر پر کملیش تیواری کو پھانسی کا مطالبہ کیا جبکہ کولکتہ میں کئے گئے احتجاج کے دوران موت سے کم کی سزاء قبول نہ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ بھوپال، میرٹھ، لکھنؤ، بہار کے علاوہ بیجاپور میں بھی مجلسی کیڈر کی جانب سے شان رسالت ؐ میں ہوئی گستاخی پر احتجاج درج کروایا گیا۔ حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کی سرکردہ شخصیات بھی اس مسئلہ پر جماعت کے موقف کے متعلق تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور یہ کہا جارہا ہیکہ آخر کیوں اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ مجوزہ بلدی انتخابات ہی وجہ ہے یا پھر کوئی اور وجہ جو ظاہر نہیں ہو پارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT