Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / اہلوالیہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے اراضی قانون کے متوقع صدر

اہلوالیہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے اراضی قانون کے متوقع صدر

نئی دہلی 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام )سابق مرکزی وزیر ایس ایس اہلوالیہ امکان ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدر نشین ہوں گے جو متنازعہ حصول اراضی قانون کی ہڑتال کا جائزہ لے گی ۔ پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کے ضلع دارجلنگ کے بی جے پی رکن 30 رکنی مشترکہ کمیٹی کے صدر نشین کیلئے متوقع انتخاب ہیں ۔ تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیاں اور

نئی دہلی 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام )سابق مرکزی وزیر ایس ایس اہلوالیہ امکان ہے کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے صدر نشین ہوں گے جو متنازعہ حصول اراضی قانون کی ہڑتال کا جائزہ لے گی ۔ پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کے ضلع دارجلنگ کے بی جے پی رکن 30 رکنی مشترکہ کمیٹی کے صدر نشین کیلئے متوقع انتخاب ہیں ۔ تقریباً تمام اپوزیشن پارٹیاں اور برسر اقتدار این ڈی اے حکومت کی حلیف پارٹیاں جیسے شیو سینا اور سوابھیمان پکشیہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ ترمیم شدہ مسودہ قانون کی مختلف دفعات کی مخالف ہیں۔ کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیاں خاص طور پر مودی حکومت کو کاشتکار دشمن اور کارپوریٹ حامی قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے ۔ 30 رکنی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی مشترکہ کمیٹی اپنی رپورٹ مانسون اجلاس کے پہلے دن پیش کردے گی ۔ یہ مسودہ قانون پہلے ہی ایوان زیریں منظور کیا جاچکا ہے لیکن راجیہ سبھا میں منظور نہیں ہوسکا کیونکہ وہاں برسر اقتدار بی جے پی کو بل منظور کروانے کیلئے درکار اکثریت حاصل نہیں ہے اور تمام اپوزیشن پارٹیاں کانگریس کی زیر قیادت حصول اراضی قانون کی دفعات میں ترمیمات کی سخت مخالف ہیں۔ چنانچہ چند دن قبل صدر کانگریس سونیا گاندھی کی زیر قیادت 16 اپوزیشن پارٹیوں کا ایک احتجاجی جلوس مجوزہ حصول اراضی قانون کے خلاف راشٹرپتی بھون تک نکالا گیا تھا اور صدر جمہوریہ کو ایک یادداشت پیش کی گئی تھی۔ کل سی پی آئی نے مجوزہ حصول اراضی قانون کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا تھا اور اس کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے نئی دہلی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجوزہ حصول اراضی قانون کی سختی سے مخالفت کی جائے گی ۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی بھی لوک سبھا میں بیان دے چکے ہیں کہ اپوزیشن مجوزہ حصول اراضی قانون کو منظور نہیں ہونے دے گی اور آج سے انہوں نے ریاست تلنگانہ میں کاشتکاروں کے کاز کیلئے پد یاترا کا آغاز کردیا ہے ۔ لوک سبھا کے 20 ارکان جو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی میں شامل ہیں کے وی تھامس‘راجو ستاو ( کانگریس) آنند راو اڈسُل (شیو سینا ) کلیان بنرجی (ترنمول کانگریس) بی مہتاب ( بی جے ڈی ) محمد سلیم (سی پی آئی ایم ) چراغ پاسوان ( ایل جے پی )ایس ایس اہلوالیہ ‘اُدت راج ‘انوراگ ٹھاکر اور گنیش سنگھ ( تمام بی جے پی ) شامل ہیں ۔ راجیہ سبھا کے ارکان میں رام نارائن ( بی جے پی )‘ جئے رام رمیش ‘ پنالال ‘ڈگ وجئے سنگھ (کانگریس )رام گوپال یادو (ایس پی ) شردھ یادو (جے ڈی یو ) شردھ پوار (این سی پی ) ڈیریک اوبرین (ترنمول ) اور راج پال سنگھ ( بی ایس پی )شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT