Sunday , November 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / اہل اسلام کے تربیتی نظام سے امریکہ کے مذہبی پیشوا حد درجہ متاثر

اہل اسلام کے تربیتی نظام سے امریکہ کے مذہبی پیشوا حد درجہ متاثر

 

امریکہ میں منعقدہ چار روزہ بین مذاہب کانفرنس میں ’’بچپن کی یادیں‘‘ کے زیر عنوان ایک سیشن میں احقر کی جانب سے پیش کی گئی بچپن کی دلچسپ کہانی ’’ماں کی ممتا اور والد کی تربیت‘‘ سے شرکائے اجلاس، جو امریکہ کی مختلف ریاستوں سے آئے ہوئے تھے، حد درجہ متاثر ہوئے۔ واضح رہے کہ امریکہ میں شخصی واقعات کو بڑی اہمیت سے پڑھا اور سنا جاتا ہے اور وہ اپنی زندگی کے اچھے بُرے حقائق کو بالعموم صداقت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ کانفرنس میں Spritual stories لکھنے پر بھی لکچرس ہوئے۔ میری اسٹوری کو سراہا گیا اور اختتامی اجلاس میں پیش کرنے کی خواہش کی گئی، جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

’’قلم ہاتھ میں ہے، قرطاس سامنے ہے، افکار و خیالات کا سیلاب دل و دماغ میں موجزن ہے، یکایک حافظہ کی سرعت رفتار نے بچپن کی یادوں کی طویل فہرست آنکھوں کے روبرو پیش کردی۔ میری آنکھیں بچپن کی مختلف کہانیوں کے عنوانات پڑھ کر متحیر و متفکر تھیں کہ کس کہانی سے آغاز کریں۔ دل ہمیشہ سے آنکھوں کے اس اضطراب سے واقف تھا، ماضی کے تجربات سے آشنا تھا، اس نے بلاجھجک میرے دماغ کو مشورہ دیا کہ بچپن کی کہانیوں میں سے ایک دلچسپ کہانی ’’ماں کی ممتا اور والد کی تربیت‘‘ میری آنکھوں کے سامنے پیش کردے۔ دماغ نے دل کی بات مانی اور ایک ہی لمحہ میں متذکرہ کہانی پیش کردی۔ میری نگاہیں اس کہانی کا عنوان پڑھتے ہی وجد میں آگئیں اور بے ساختہ بلند آواز سے پڑھنے لگیں۔ اس کو احساس نہ رہا کہ یہ ایک شخص کی کہانی ہے۔ درودیوار کے کان ہوتے ہیں، کسی کی ذاتی زندگی اور شخصی واقعات کو ہرکس و ناکس کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا، لیکن نگاہیں مدہوش تھیں اور اہل محبت کی نظر میں وجد و حال کی کیفیات قابل مواخذہ نہیں ہوتیں۔ میرے ہاتھ جو قلم تھامے تیار بیٹھے تھے، آنکھوں کی وجدانی کیفیت نے انھیں مخمور کردیا اور انھوں نے نشہ میں ساری کہانی قرطاس کے سینے پر ثبت کردی۔ دوست و احباب نے اس کہانی کو پڑھنا شروع کردیا، اس طرح میری شخصی کہانی میرے اعضاء و جوارح کے توسط سے منظر عام پر آگئی اور سب کو پتہ چل گیا کہ میں ایک پولیس آفیسر کا بیٹا ہوں، جس نے بڑی محنت و مشقت، ایمانداری اور دیانت سے اپنے فرائض انجام دیئے۔ مسلم دشمنی کے پُرفتن دور میں سخت محنت، مسابقتی ہمت، بلند اخلاق، اعلی کردار، بطور خاص عزت نفس کے ساتھ قلم کے زور پر ترقی کے زینے طے کئے۔ اپنے تو اپنے ہیں غیر بھی ان کے اخلاق کے معترف رہے۔ میں نے کئی پولیس ملازمین کو میرے والد کے قدم چومتے دیکھا ہے، جو برملا اظہار کرتے کہ ہم نے اپنی زندگی میں ایسا خوددار، زیرک اور مشفق آفیسر نہیں دیکھا۔ میری ماں ایک گھریلو خاتون ہیں، میرے مستقبل کے بارے میں ان کو زیادہ پتہ نہیں، بس ان کو ہر وقت یہی فکر رہتی ہے کہ میں اپنے مقررہ وقت پر گھر پہنچ جاؤں۔ کھانا تیار رہے، میرے کپڑے صاف ستھرے رہیں۔ مجھے بچپن سے مغرب کی نماز کے ساتھ عشائیہ کی عادت رہی۔ مجھے یاد نہیں کہ بچپن سے جوانی تک کسی ایک دن میری ماں نے مجھ سے کہا ہو کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں، لہذا ہوٹل سے کھانا لایا جائے، یا وہ دعوت یا شاپنگ میں ہیں، اس لئے کھانا تیار نہیں کرسکیں، بلکہ میرے والد کبھی ہوٹل سے کھانا لے آتے تو وہ برہم ہو جاتیں اور کہتیں کہ فضول پیسوں کو ضائع کیا گیا، اتنے پیسے اگر مجھے دیئے جاتے تو میں اتنے پیسوں میں نت نئے پکوان کرلیتی۔ میری والدہ کو میرے کام کاج سے تفصیلی آگاہی نہیں، بس وہ ایک ہی چیز چاہتی ہیں کہ میں جہاں بھی رہوں، میرے چہرے پر پریشانی نہ رہے۔ میں پریشان رہتا ہوں تو وہ پریشان ہو جاتی ہیں اور میں خوش رہتا ہوں تو وہ بحال رہتی ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد گھر پہنچتے تو ہم گاڑی کی آواز پر ہی دروازہ کھولنے کے لئے دوڑتے، کوئی جوتا اتارتا، کوئی موزے نکالتا، کوئی کپڑے لانے کے لئے دوڑتا، لیکن والد ماجد کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا کہ ’’کس نے کتنی نمازیں پڑھی ہیں؟‘‘۔

اثبات میں جواب پاکر وہ خاموش نہیں رہتے، پولیس آفیسر ہیں، شک سے یقین تک پہنچنا ان کی عادت ہے، لہذا اولاد کے جواب پر کبھی اکتفاء نہیں کرتے۔ تفتیش ہوتی، تحقیقات کا سامنا کرنا پڑتا، ردوقدح ہوتی، مختلف سوالات پوچھے جاتے۔ مثلاً مغرب کی اذان کس نے دی؟، عصر کی نماز کس نے پڑھائی؟، جماعت میں کتنے افراد شریک تھے؟، دائیں بائیں جانب کون تھے؟۔ بسا اوقات عصر کی نماز کے وقت ہم کھیلتے ہوتے، نماز کا وقت ہوتا تو تاخیر سے آخری رکعت میں شریک ہوتے، تاکہ جلدی سے فوت شدہ رکعات ادا کرلیں اور واپس ہوکر پھر کھیل میں مشغول ہو جائیں۔ اس قدر عجلت کے باوجود ہم یہ نہیں بھولتے تھے کہ کتنے افراد جماعت میں شریک ہیں، اذان و اقامت کس نے دی اور دائیں بائیں کتنے افراد ہیں۔ ایک مرتبہ بچپن میں میری عمر شاید دس برس رہی ہوگی، مجھ سے فجر کی نماز قضاء ہو گئی۔ والد ماجد نے صبح آٹھ بجے مجھ سے دریافت کیا کہ ’’فجر کی نماز ادا کیا یا نہیں؟‘‘۔ میں نے نفی میں جواب دیا تو انھوں نے مجھ سے کچھ نہیں کہا، البتہ والدہ سے کہنے لگے کہ مجھے ناشتہ نہ دیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ جب میں مدرسہ کو بغیر ناشتہ کئے بھوکا گیا۔ تقریباً گیارہ بجے مدرسہ میں مجھے اطلاع دی گئی کہ کوئی مجھ سے ملنے آیا ہے، جب میں باہر گیا تو وہاں میرے ماموں زاد بھائی تھے، جن کو میری والدہ نے کچھ بسکٹ دے کر بھیجا تھا۔ جب میں بسکٹ کھاکر جماعت میں واپس ہوا تو استاد محترم نے سوال کیا: ’’کون ملنے کے لئے آیا تھا؟‘‘۔ میں نے ساری تفصیل سنائی تو وہ بہت متاثر ہوئے کہ ایک پولیس آفیسر اپنی اولاد کو نماز و قرآن کے لئے کیسی تربیت سرانجام دے رہا ہے۔
مخفی مباد کہ میں نے قرآن پڑھنا اپنی والدہ سے سیکھا ہے اور روزانہ پاؤ پارہ قرآن مجید میں والدہ کو سنایا کرتا۔ جب میں تیسری جماعت میں تھا تو میرے والد صرف تجوید پڑھانے کے لئے مجھے مدرسہ لے گئے۔ استاد محترم نے روانی سے قرآن مجید پڑھتے دیکھا تو مشورہ دیا کہ اس بچے کو شعبہ حفظ میں داخل کردیا جائے، جلد ہی حفظ کرلے گا۔ پس والدہ کی محنت حفظ قرآن کا سبب بن گئی۔

ماں نے قرآن کی محبت دل میں پیدا کی اور والد نے نماز کا پابند بنایا، اس لئے کہ تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے اور گھر ہی اولاد کی تعلیم و تربیت کی اولین درسگاہ ہوتی ہے۔ اولاد ماں باپ کو دیکھ کر ہی نشوونما پاتی ہے، دینی اقدار اور اسلامی آداب سیکھتے ہیں۔ اولاد کی تعلیم و تربیت ماں باپ کا فریضہ ہے۔ تعلیم و تربیت آسان نہیں ہے، بلکہ لوہے کا چنا چبانا ہے۔ دنیا میں سب سے مشکل کام تعلیم و تربیت ہے، اسی لئے یہ عظیم الشان ذمہ داری و فرض منصبی کے لئے اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے بندوں میں سے انبیاء کرام کو منتخب فرمایا اور ان کو صبروتحمل، عفوودرگزر جیسی صفات عالیہ سے آراستہ فرمایا، کیونکہ تعلیم و تربیت صرف سختی و تنبیہ سے نہیں، بلکہ صبروتحمل، حلم و بردباری، چشم پوشی، عفوودرگزر، نرمی و شفقت، خلوص و محبت، ایثار و قربانی، حکمت و موعظت اور مسلسل جدوجہد کی طالب ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’آپ اللہ تعالی کی رحمت کے سبب ان کے لئے نرم و شفیق ہو گئے اور اگر آپ سخت زبان و سخت دل ہوتے تو وہ ضرور آپ سے جدا ہو جاتے‘‘۔ (آل عمران)
میں اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے عظیم ماں باپ سے نوازا، جنھوں نے تعلیم و تربیت میں کوئی کوتاہی نہیں کی اور میں دعا گو ہوں کہ ’’اے اللہ! میرے ماں باپ پر رحم فرما، جس طرح انھوں نے میرے بچپن میں میرے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا‘‘۔ (آمین)

TOPPOPULARRECENT