Tuesday , December 18 2018

اہم بلز کی منظوری کیلئے راجیہ سبھا کے اوقات کار میں توسیع

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کی کارروائی، بجٹ اجلاس کے آخری ہفتہ کے پہلے نصف کے دوران پیر (دوشنبہ) سے مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک جاری رہے گی تاکہ معرض التواء قانونی بلز اور دیگر اُمور سے نمٹا جاسکے۔ گزشتہ جمعرات کو منعقدہ ایوان کی بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیر سے ایوان کی کارروائی 7 بجے شام کے بعد

نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کی کارروائی، بجٹ اجلاس کے آخری ہفتہ کے پہلے نصف کے دوران پیر (دوشنبہ) سے مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک جاری رہے گی تاکہ معرض التواء قانونی بلز اور دیگر اُمور سے نمٹا جاسکے۔ گزشتہ جمعرات کو منعقدہ ایوان کی بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیر سے ایوان کی کارروائی 7 بجے شام کے بعد بھی دیر تک جاری رہے گی جس میں بجٹ اجلاس کے چوتھے ہفتہ کے دوران سرکاری قانونی بلز اور دیگر اُمور پیش کئے جائیں گے۔ جبکہ ایوان بالا میں حکومت کو خاطر خواہ اکثریت حاصل نہیں ہے۔ توقع ہے کہ دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد 6 آرڈیننس میں سے 3 کو قانونی بلز میں تبدیل کرسکتی ہے جس میں دو بلز کوئلہ، معدنیات اور کانکنی سے متعلق ہیں۔ راجیہ سبھا کی سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا گیا ہے۔

راجیہ سبھا نے تاحال 3 بلز سٹیزنس شپ ایکٹ، موٹر وہیکل ایکٹ اور انشورنس قانون میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جبکہ لوک سبھا نے تمام 6 آرڈیننس کی جگہ بلز منظور کردیئے ہیں۔ تاہم راجیہ سبھا میں حصول اراضیات بل کی منظوری کے امکانات موہوم ہیں۔ کیونکہ تمام اپوزیشن نے متحدہ طور پر اِس بل کو روکنے کا عزم کیا ہے۔ کانگریس نے پہلے ہی سے اراضی بل کے خلاف کل سے اترپردیش کے موضع بھٹہ پرسول سے پدیاترا کا آغاز کردیا ہے جس کا اختتام 16 مارچ کو جنتر منتر پر دھرنا اور پارلیمنٹ کے گھیراؤ سے عمل میں آئے گا۔ دریں اثناء 8 اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے آئندہ منگل کو راشٹرپتی بھون تک مارچ کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ حصول اراضیات ایکٹ 2011 میں ترمیم کے خلاف اپنا احتجاج درج کروایا جاسکے۔ اپوزیشن کی جانب سے جدید اراضی بل کو کسان دشمن اور موافق کارپوریٹ قرار دینے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تقریباً 35 مرکزی وزراء نے کل اس مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک حکمت عملی کو قطعیت دے دی ہے اور اس مسئلہ پر حکومت کا موقف واضح کرنے کیلئے حلیف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ایوان بالا میں ریلویز کے مطالبات زر سے متعلق مصارف بلز زیرغور ہے۔ اگرچیکہ ریلوے بجٹ پر بحث مکمل کرلی گئی ہے لیکن وزیر ریلوے نے راجیہ سبھا میں ہنوز جواب نہیں دیا ہے۔ آئندہ ہفتہ لوک سبھا میں منظوری کے بعد عام بجٹ 2015-16 ء اور مصارف بل پر راجیہ سبھا میں بحث کی جائے گی۔ راجیہ سبھا کی سلیکٹ کمیٹی 18 مارچ تک کانکنی اور معدنیات (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیم بل 2015 ء اور کوئلہ کانکنی (خصوصی دفعات) بلز 2015 ء پر اپنی رپورٹ پیش کردے گی۔ ایوان بالا میں ان بلز پر مباحث کے بعد منگل تک منظوری ناگزیر ہے کیونکہ مذکورہ 2 آرڈیننس کی مدت 5 اپریل 2015 ء تک ختم ہوجائے گی۔ شیڈول کے مطابق 20 مارچ کو پارلیمنٹ کی کارروائی ملتوی کردی جائے گی اور راجیہ سبھا میں تیسرے آرڈیننس کی جگہ حصول اراضیات کا بِل پیش کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT