Tuesday , January 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / ایجنٹ کا کمیشن لینا

ایجنٹ کا کمیشن لینا

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

حضرت مولانا مفتی محمد عظیم الدین ، صدر مفتی جامعہ نظامیہ

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میری دوکان کمیشن ایجنٹ کی ہے ، زرعی مارکٹ کا لائیسنس یافتہ ہوں ۔ سیزن میں کاشتکار کاٹن فروخت ہونے پر ایک ہزار روپئے پر پندرہ روپئے کمیشن ملتا ہے چونکہ مال کی فروخت کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے ، مال فروخت ہونے پر از روئے حساب جملہ رقم بعد وضعات کمیشن اس کو ادا کی جاتی ہے۔ جملہ حساب کی اصل پٹی اسی وقت کاشتکاروں کو دی جا تی ہے مثنیٰ کاپی زرعی مارکٹ کو روانہ کی جاتی ہے ۔ بعض اصحاب کا خیال ہے کہ کمیشن کا شمار سود میں ہوتا ہے ۔براہ کرم شریعت کی روشنی میں رہبری فرمائیں ۔
(۲) اسی دوکان میں سیڈ فرٹلائزر اور پسٹی سائڈ (کیڑے مار دوا ) کا میں ڈیلر بھی ہوں ، مثال کے طور پر ایک سیڈ پاکٹ مجھے کمپنی سے چار سو {۴۰۰} روپئے میں ملتا ہے اور میں اس پاکٹ کو پندرہ یا بیس روپئے نفع سے نقد فروخت کرتا ہوں ۔ اگر کوئی کاشتکار بجائے نقد رقم کے ادھار چھ ماہ کی مدت پر طلب کرے تو میں اس پاکٹ کو {۴۵۰} روپئے میں فروحت کرتا ہوں اسی حساب سے وہ پندرہ یا بیس ہزار کا مال سیزن پر دینے کے وعدے پر حاصل کرلیتا ہے کھاتے میں اندراج ہونے کے بعد میں اس سے سیزن پر پندرہ یا بیس ہزار ہی لیتا ہوں کسی قسم کا سود نہیں لیتا ۔ بعض کاشتکار محصلہ رقم سے نصف رقم ادا کر کے نصف رقم آئندہ سال دینے کا وعدہ کرتے ہیں میں ان کی مجبوری کو ملحوظ رکھتے ہوئے آئندہ سال اسی قدر بلا سودی رقم حاصل کرلیتا ہوں ا س کے ذمہ ادا شدنی رقم پر سود نہیں لیتا کیا میرا یہ عمل درست ہے ‘رہبری فرمائیں ۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں ایجنٹ کا کمیشن لینا شرعاً جائز ہے ۔ و اذا اخذا السمار أجر مثلہ ھل یطیب لہ ذلک تکلموا فیہ قال الشیخ الامام المعروف بخواھر زادہ یطیب ذلک و ھکذا عن غیرہ والیہ اشار محمد رحمہ اللہ تعالیٰ فی الکتاب ھکذا فی فتاوی قاضی خان (عالمگیری جلد ۴ ص ۴۴۱)۔
(۲) مدت مقرر کر کے کسی چیز کو ادھار زائد قیمت پر دینا جائز ہے ۔تاہم اگر مدت مقررہ کے اندر خیریدار قیمت نہ ادا کرے تو بعد کی مہلت میں بھی سابقہ طئے شدہ قیمت ہی لیں ۔ زائد نہ لیں۔ ورنہ حرام ہے۔ ’’ و یصح تعلیق التاجیل بالشرط فلو قال لمن علیہ الف حالۃً ان دفعت الی غداً خمس مائۃ فالخمسمائۃ الاخریٰ موخرۃ عنک الی سنۃ فھو جائز ‘، (رد المحتار جلد ۴ ص ۱۰۸ )

سالی سے نکاح اور اس کی وراثت کے متعلق حکم
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حمیرہ اور نوشین دونوں حقیقی بہنیں ہیں ۔ ایک شخص نے پہلے حمیرا سے شادی کی جس سے اولاد بھی ہے ۔ اس کے بعد نوشین سے شادی کیا ’ کیا یہ عقد ثانی شریعت کی رو سے صحیح ہے ۔ کیا اس سے نسب ثابت ہوگا ۔ کیا وہ اس شخص کے متروکہ میں حصہ پائیگی ۔
جواب : صورت مسئول عنہا میں ایک عورت کے نکاح میں ہوتے ہوئے اس کی حقیقی بہن سے عقد کیا جائے تو یہ نکاح فاسد ہے ۔ اس سے فوراً علحدگی ضروری ہے ۔ عالمیگری جلد اول کتاب النکاح باب الجمع بین المحرمات ص ۲۷۷ میں ہے ’’ و ان تزوجھا فی عقدتین فنکاح الاخیرۃ فاسد و یجب علیہ أن یفارقھا ‘، مگر اس نکاح سے نسب ثابت ہوگا اسی صفحہ میں ہے ’’و ان فارقھا بعد الدخول فلھا المھر و یجب الاقل من المسمی و من المھر المثل و علیھا العدۃ و یثبت النسب‘، البتہ نکاح فاسدہ والی عورت میراث کی مستحق نہیں ۔ رد المحتار جلد۲ باب المھر میںہے ۔ (قولہ و یثبت النسب ) ’’اما الارث فلا یثبت فیہ و کذا النکاح الموقوف ‘‘۔
تایا زاد بہن سے نکاح
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک لڑکا اپنی حقیقی تایا زاد بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے ۔ بستی کے خودساختہ عالم صاحب اس رشتہ کو ناجائز قرار دے رہے ہیں ۔ شرعی نقطہ نظر سے یہ رشتہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب : صورت مسئول عنہا میں شرعاً تایازاد، چچازاد بہن سے نکاح جائز ہے ۔ محرمات نکاح میں یہ رشتہ نہیں ہے ۔ ’’و احل لکم ما وراء ذلکم
(سورۃ النساء ۴؍۳۳)

TOPPOPULARRECENT