Sunday , October 21 2018
Home / عرب دنیا / ایران، ترکی اور عسکریت پسند گروپس دورحاضر میں ’بدی کا مثلث‘

ایران، ترکی اور عسکریت پسند گروپس دورحاضر میں ’بدی کا مثلث‘

عرب چوٹی کانفرنس میں شرکت سے قطر کو نہیں روکا جائے گا، سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کا انٹرویو

قاہرہ ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے ولیعہد نے کہا ہے کہ رواں ماہ کے اواخر میں ریاض میں ہونے والی عرب چوٹی کانفرنس میں قطر کو شرکت سے نہیں روکا جائے گا لیکن یہ پیش قیاسی کی کہ یہ تعطل ایک طویل عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ ولیعہد محمد بن سلمان نے اس ہفتہ اپنے دورہ مصر کے دوران مقامی مدیران جرائد سے بات چیت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا جو آج الشروق میں شائع ہوئے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے گذشتہ سال جون کے دوران قطر سے تعلقات منقطع کرلیا تھا۔ ان ملکوں نے قطر پر شیعہ ملک ایران اور عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا لیکن قطر ان تمام الزامات کی تردید کرچکا ہے۔ پرنس محمد بن سلمان نے ایران، ترکی اور عسکریت پسند گروپوں کو عصرحاضر میں بدی کا مثلث قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ ایک طرف ایران کے ساتھ اور دوسری طرف روس اور شام کے ساتھ قریبی تعلقات ختم کئے جائیں۔ واضح رہیکہ قطر اگرچہ انتہاء پسندوں کو مالیہ فراہم کرنے کے الزامات کی بہت پہلے ہی تردید کرچکا ہے لیکن بعض ایسی اپوزیشن تحریکوں کی تائید کرتا ہے جنہیں اس علاقہ کے دیگر ملکوں میں دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔

ولیعہد محمد بن سلمان نے جو مصر کے تین روزہ دورہ کے اختتام پر کل رات لندن روانہ ہوگئے، کہا کہ ’’ہم عرب اور خلیجی چوکٹھے کے باہر اس بحران (قطر) کی یکسوئی قبول نہیں کریں گے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آنے والی عرب چوٹی کانفرنس میں شرکت سے قطر کو روک دیا جائے گا‘‘۔ انہوں نے قطر بحران کا کیوبا کے خلاف کئی دہائیوں تک امریکی تحدیدات سے تقابل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران بھی طویل عرصہ تک جاری رہے گا۔ سعودی عرب نے جون میں قطر کا واحد زمینی راستہ بھی بند کردیا تھا۔ دیگر چار ممالک اس کے ساتھ فضائی اور سمندری روابط بھی منقطع کرچکے ہیں جس کے نتیجہ میں قطر کو اپنی پروازوں کا رخ ایران کی سزت موڑنے اور دیگر بندرگاہوں کے ذریعہ اشیاء کی حمل و نقل کیلئے مجبور ہونا پڑا ہے۔ پرنس محمد بن سلمان نے ایران، ترکی اور عسکریت پسندوں کو ’عصرحاضر میں بدی کا مثلث‘ قرار دیتے ہوئے تشریح کی کہ اخوان المسلمین ایک ایسی انتہاء پسند تنظیم ہے جس کو مصر اور نئی خلیجی ملکوں میں دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ اس نے جمہوری انتخابات کا فائدہ اٹھایا تھا۔ محمد بن سلمان نے کہا کہ ترکی جو خلافت عثمانیہ کے احیاء کی کوشش کررہا ہے، اخوان المسلمین کی تائید و حمایت بھی کررہا ہے۔ سعودی شہزادہ نے اس علاقہ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنے مملکت سعودی عرب کی جدوجہد میں کامیابی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ ’’ایران کا پراجکٹ خاتمہ پر پہنچ چکا ہے اور ہم ہر طرف سے اس کو گھیر رہے ہیں‘‘۔ واضح رہیکہ یمن میں ایران کی تائید یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف مارچ 2015ء سے سعودی عرب کی زیرقیادت 40 عرب و مسلم ملکوں کے فوجی اتحاد کی طرف سے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جارہی ہے جس کے باوجود اتحال کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی لیکن ان کارروائیوں میں کم سے کم 10,000 مرد، خواتین اور بچے ہلاک اور دیگر لاکھوں بے گھر ہوگئے ہیں۔ مسلسل جنگ کے سبب یہ غرب ترین عرب ملک بھوک مری اور فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے برعکس شام میں بشارالاسد حکومت کے حلاف لڑنے والے سعدی عرب کے تائید یافتہ باغیوں کو گذشتہ دو سال سے مسلسل پسپائی ہورہی ہے کیونکہ مختلف محاذوں پر پیشقدمی کیلئے بشارالاسد کے فورسیس کو روس اور ایران کی تائید حاصل ہے۔

TOPPOPULARRECENT