Wednesday , December 12 2018

ایران، مغرب کی تاریخی معاملت کے امکانات پر نظر

ویانا ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایران اور مغرب نے تہران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تاریخی معاملت طئے کرنے کیلئے تمام تر ذمہ داری آج ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جبکہ ویانا میں مذاکرات کا قطعی دور شروع ہورہا ہے اور اب بھی 24 نومبر کی قطعی مہلت سے قبل کئی بڑے اختلافات کو ختم کرنا باقی ہے۔ ان مذاکرات کیلئے ویانا پہنچنے پر اظہارخیال

ویانا ۔ 18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ایران اور مغرب نے تہران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں تاریخی معاملت طئے کرنے کیلئے تمام تر ذمہ داری آج ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی جبکہ ویانا میں مذاکرات کا قطعی دور شروع ہورہا ہے اور اب بھی 24 نومبر کی قطعی مہلت سے قبل کئی بڑے اختلافات کو ختم کرنا باقی ہے۔ ان مذاکرات کیلئے ویانا پہنچنے پر اظہارخیال کرتے ہوئے محمد جواد ظریف نے متنبہ کیا کہ کوئی معاہدہ صرف اسی صورت ہو پائے گا بشرطیکہ دیگر فریق (اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی) کوئی ’’حد سے زیادہ تقاضے‘‘ نہ کرے۔ ظریف نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ اگر غیرضروری مطالبات کی وجہ سے ہم بے نتیجہ رہتے ہیں تو دنیا سمجھ جائے گی کہ اسلامی جمہوریہ کوئی حل چاہتا ہے، کوئی مفاہمت اور تعمیری معاہدہ کا خواہاں ہے۔

نیز یہ کہ وہ اپنے حقوق اور قوم کی عظمت سے بے پرواہی نہیں برتے گا۔ امریکی وزیرخارجہ جان کیری جو لندن میں ہیں لیکن آنے والے دنوں میں ویانا پہنچنے کی توقع ہے، انہوں نے کہا کہ یہ لازمی ہیکہ ایران ہمارے ساتھ تمام تر ممکنہ سعی کے ساتھ کام کرتا رہے تاکہ دنیا پر ثابت ہوجائے کہ یہ پروگرام پرامن ہے۔ ایک جوائنٹ نیوز کانفرنس میں برطانوی وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ نے ایرانیوں کی طرف سے زیادہ لچک پر زور دیا تاکہ انہیں یہ اطمینان ہوجائے کہ ان کے نیوکلیئر پروگرام میں ان کے ارادے بالکلیہ پرامن ہے۔ یہ زبردست معاہدہ جو کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد دوشنبہ کی قطعی مہلت تک طئے کرلینے کی کوششیں ہیں، اس کا مقصد ایسے اندیشوں کو دور کرنا ہے کہ تہران سیویلین سرگرمیوں کی آڑ میں نیوکلیائی اسلحہ تیار کرسکتا ہے۔ اس سے ایرا ن کی معیشت کو فروغ بھی حاصل ہوسکتا ہے ، عام ایرانیوں کی زندگیاں بہتر ہوسکتی ہیں اور امریکی صدر براک اوباما کیلئے ایک انوکھی خارجہ پالیسی کامیابی کا نقیب ہوگی جبکہ انہوں نے 5 سال قبل تہران کو معاہدہ کی پیشکش کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT