Wednesday , December 19 2018

ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر کیری ۔ ظریف بات چیت کا آغاز

ماؤنٹریاکس (سوئٹزرلینڈ) ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کی سخت ترین تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں نے تہران کو اس کے خلاف عائد سخت پابندیوں سے راحت کے عوض اس کے نیوکلیئر پروگرام کو روکنے کیلئے ایک سمجھوتہ پر بات چیت کا دوبارہ آغاز کردیا۔ اس سمجھوتہ

ماؤنٹریاکس (سوئٹزرلینڈ) ۔ 4 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایرانی نیوکلیئر پروگرام پر اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کی سخت ترین تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر امریکہ اور ایران کے مذاکرات کاروں نے تہران کو اس کے خلاف عائد سخت پابندیوں سے راحت کے عوض اس کے نیوکلیئر پروگرام کو روکنے کیلئے ایک سمجھوتہ پر بات چیت کا دوبارہ آغاز کردیا۔ اس سمجھوتہ پر کام کی تکمیل کیلئے رواں مہینے کے اختتام تک مقرر مہلت کے اختتام کے پیش نظر امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ایرانی وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے سوئزرلینڈ کے پرفضاء تفریحی مقام ماؤنٹریاکس میں بات چیت کی جو رواں ہفتہ کے دوران ان دونوں کی یہ تیسری ملاقات بھی تھی جنہوں نے کسی امکانی سمجھوتہ کی تفصیلات پر بغور تبادلہ خیال کیا۔ نتن یاہو نے گذشتہ روز واشنگٹن میں امریکی کانگریس کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ سمجھوتہ ایک خطرناک شکل اختیار کررہا ہے اور اس سے ایران کو نیوکلیئر اسلحہ تیار کرنے کا موقع فراہم ہوگا۔ نتن یاہو کے اس خطاب ریپبلکن قانون سازوں نے اگرچہ بھرپور تائید نمائش کی لیکن صدر بارک اوباما کی زیرقیادت سرکاری عہدیداروں نے نتن یاہو کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کو ایٹمی بم کے حصول سے روکنے کیلئے کوئی قابل عمل متبادل طریقہ کار کا تذکرہ نہیں کیا۔ تاہم نتن یاہو کی تنقیدوں کو بے اثر کرنے کیلئے صدر اوباما نے کہا تھا کہ ایران کو کم سے کم 10 سال تک اپنا نیوکلیئر پروگرام ترک کرنا ہوگا۔ صدر اوباما کے ان ریمارکس پر ایران نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا کہ صدر اوباما کی یہ شرط اسلامی جمہوریہ ایران کیلئے ناقابل قبول ہے۔

TOPPOPULARRECENT