Friday , September 21 2018
Home / دنیا / ایرانی نیوکلیر پروگرام: 24 نومبر تک معاہدہ کا امکان معدوم

ایرانی نیوکلیر پروگرام: 24 نومبر تک معاہدہ کا امکان معدوم

نیو یارک۔ 20 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام )امریکی اور برطانوی حکام نے ایران کے متنازعہ نیوکلیر پروگرام کے حوالے سے مقررہ کردہ قطعی مہلت کے مطابق 24 نومبر تک حتمی معاہدہ نہ ہوپانے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر ٹونی بلنکن نے امریکی قانون سازوں کو بتایا ہے کہ یہ مشکل نظر آرہا ہے کہ حتمی جوہری معاہدہ ’ڈیڈ لائن‘ ختم ہون

نیو یارک۔ 20 نومبر۔ ( سیاست ڈاٹ کام )امریکی اور برطانوی حکام نے ایران کے متنازعہ نیوکلیر پروگرام کے حوالے سے مقررہ کردہ قطعی مہلت کے مطابق 24 نومبر تک حتمی معاہدہ نہ ہوپانے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر ٹونی بلنکن نے امریکی قانون سازوں کو بتایا ہے کہ یہ مشکل نظر آرہا ہے کہ حتمی جوہری معاہدہ ’ڈیڈ لائن‘ ختم ہونے تک ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا، ’’ٹھیک اس وقت یہ مشکل لگ رہا ہے کہ جہاں ہم پہنچنا چاہتے ہیں وہاں تک پہنچ سکیں لیکن یہ ناممکن نہیں ہے‘‘۔ واضح رہے کہ ٹونی بلنکن کو صدر اوباما نے امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کے منصب کیلئے نامزد کیا ہے اور وہ اسی حیثیت سے کانگریس کے ارکان کے سامنے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ ایران کے ساتھ دنیا کی چھ بڑی طاقتوں کے اس حساس موضوع پر مذاکرات کا آغاز پچھلے سال ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر 24 نومبر 2013ء کو ایک ابتدائی جوہری معاہدہ طے پاگیا تھا۔ اس ابتدائی معاہدے کے نتیجے میں ایران پر عاید پابندیوں میں قدرے نرمی کر دی گئی تھی۔ بعدازاں حتمی معاہدے کیلئے 24 نومبر 2014ء کی قطعی تاریخ طے کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں۔ مذاکراتی عمل میں امریکہ ، روس، چین ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی شامل ہیں۔

بلنکن نے کہا: ’’معاہدہ ہونے کی ایک ہی صورت ہو گی کہ ایران ہمارے پارٹنرز کو قائل کر لے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کیلئے ہے‘‘۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈنے بھی کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے زیادہ پر امید نہیں ہیں کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان 24 نومبر تک معاہدہ ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا، ’’ میں توقع نہیں رکھتا کہ سب کچھ دوشنبہ تک ممکن ہوجائے گا‘‘۔ لیکن برطانوی ذمہ دار نے کہا کہ اگر ہم نے خاطر خواہ پیش رفت کر لی تویہ معاہدے کیلئے مفید ہو گا۔ ہیمنڈ کے بقول وہ امید کرتے ہیں کہ مذاکرات کے اس تازہ دور میں ’ڈیڈ لائن‘ سے قبل کم از کم اتنی پیش رفت ہو جائے کہ طویل المدتی معاہدہ طئے کرنے کیلئے اضافی وقت دیئے جانے کا کوئی جواز بن سکے۔

TOPPOPULARRECENT