Wednesday , September 19 2018
Home / اداریہ / ایران۔ عراق میں زلزلہ

ایران۔ عراق میں زلزلہ

پھر ضرورت آپڑی اقدار کی
قصۂ پارینہ یوں تازہ کیا
ایران۔ عراق میں زلزلہ
ایران اور عراق میں پیش آئے زلزلہ سے پھر ایک بار انسانی جانوں اور املاک کا بھاری نقصان ہونا اس دورِ جدید کا سانحہ ہے۔ ایران میں زلزلے اکثر آتے ہیں یہاں کا علاقہ عمومی طور پر زلزلوں کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوتا ہے۔ اس سلسلہ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی وجہ عربین اور یوریشیا ٹیکٹانک پلیٹس کا باہم ٹکراؤ ہوتا ہے۔ جیولوجیکل ادارے زلزلہ کے بارے میں اپنی تحقیق کے باوجود اس طرح کے سانحات کو روکنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے متعلق ٹھوس اقدامات نہیں کرسکے۔ جن ٹیکٹانک پلیٹس کے آپس میں چڑھ جانے کی بات کی گئی ہے اس طرح کی سائینسی تحقیق کی ضرورت ہے جس کے مطابق عمارتوں کی تعمیر کے ذریعہ جانی و مالی نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایران کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں زلزلے زیادہ آتے ہیں۔ ماضی میں بھی اس سرزمین پر زلزلے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ عراق میں بھی زلزلوں کی شدت نے عوام کو بے سرو ساماں کردیا ہے۔ ایران میں جن مقامات پر اتوار کو زلزلہ آیا یہ علاقہ عراق سے متصل سرحدی ایران کے قریب ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے جہاں زیادہ تر کچی عمارتیں ہوتی ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد 450 بتائی گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مابعد زلزلے جھٹکوں کے خوف سے سردی کے اس شدید موسم میں عوام کو گھروں کے باہر کھلے آسمان کے نیچے ٹھٹھر کر رات گذارنی پڑرہی ہے۔ عمارتوں کو بھاری نقصان پہنچنے سے عوام کی بڑی تعداد میدانوں اور عارضی طور پر بنائے گئے کیمپس میں مقیم ہے۔ یہاں جو زلزلہ آیا اس کی شدت 7.3 ناپی گئی ہے جو زلزلہ کا شدید ترین جھٹکے ہے۔ ایران کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبہ کرمانشاہ ہے جہاں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔ اس طرح کی قدرتی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ عوام کو مابعد زلزلہ راحت کے اقدامات پہنچانے میں تاخیر سے مزید مشکلات پیش آتی ہیں۔ ایران اور عراق کے عوام کو اس وقت فوری امداد کی ضرورت ہے۔ برقی کی سربراہی اور صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غذائی پیاکٹس کو پہنچانے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ عالمی سطح پر امدادی کام انجام دینے والے اداروں نے اب تک اس زلزلہ کے متاثرین کو امداد پہنچانے میں کوئی خاص پیشرفت نہیں کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران۔ عراق زلزلہ پر دُکھ کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان کی جانب سے ہمیشہ امدادی کاموں اور غذائی اشیاء کے علاوہ دیگر ضرورت کی اشیاء، ادویات کی سپلائی کو یقینی بنایا جاتا رہا ہے۔ اس مرتبہ بھی حکومت ہند زلزلہ سے متاثرہ عوام کیلئے فوری امدادی اشیاء اور طبی سہولتیں روانہ کرتی ہے تو یہ ہندوستان کی روایت کا مظہر ہوگا۔ زلزلوں کے نقصانات سے بچنے کیلئے اب تک کئی طریقے بتائے گئے ہیں، ماہرین نے ماضی میں آنے والے زلزلوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے کئی طریقے رائج کئے تھے جس سے زلزلوں کی شدت، ہیئت اور ماہیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ساری دنیا میں جیولوجیکل کے ریکارڈس موجود ہیں۔ ایران اور عراق میں آئے زلزلہ کی شدت7.3 اعشاریہ بتائی گئی جو شدید نوعیت کا زلزلہ کہلاتا ہے۔ لیکن ماہرین نے سے اس زیادہ شدت یعنی 8 اعشاریہ اور 9 اعشاریہ کے زلزلہ بھی رونما ہونے کی نشاندہی کی ہے جو تباہ کن ہوتی ہے۔ عموماً 7 میگنیٹوڈ کے زلزلہ زیادہ ہوتے ہیں اور ایران میں اس شدت کے زلزلے اکثر ہوتے ہیں۔ حکام اور ماہرین کو اس طرح کی آفات سماوی کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ زلزلوں کی شدت ہر واقعہ ایک منفرد معاملہ ہوتاہے اس کو اسی مناسبت سے جانچ کر آئندہ کے لئے احتیاطی تدابیر کے بارے میں غور کیا جاسکتا ہے۔ سرِدست ایران۔ عراق کے زلزلہ کے باعث ملبہ میں دبی ہوئی نعشوں کا نکلنا اور زخمیوں کو فوری طبی امداد ضروری ہے۔ زندہ بچ جانے والے اپنی زندگی کی پونجی اور ساز و سامان سے محروم ہوچکے ہیں، ان کی بازآبادکاری میں حکومتوں کو کوئی کسر باقی نہیں چھوڑنی چاہیئے۔ انسانیت کا تقاض ہے کہ عالمی سطح پر ایران اور عراق میں زلزلہ سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کی جائے۔ یہ بات بھی دھیان میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ زلزلہ کے وقت کچھ لمحے ہی ایسے ہوتے ہیں کہ زندگیاں بچانے کیلئے بہت کام آتے ہیں اور ایسے لمحات کیلئے عوام الناس کو تیار کرانے کی ضرورت ہے۔ خاصکر ایران کے عوام کو زلزلوں کا سامنا رہتا ہے تو عوام میں شعور بیداری کے ساتھ زلزلوں سے بچنے والی تدابیر اور طریقے سے واقف کرانا حکومت کا کام ہے۔

TOPPOPULARRECENT