Friday , September 21 2018
Home / Top Stories / ایران اور عالمی طاقتوں کے مذاکرات کا تازہ دور جاری

ایران اور عالمی طاقتوں کے مذاکرات کا تازہ دور جاری

ویانا ، 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے متنازعہ نیوکلیر پروگرام کے طویل المدتی حل کیلئے ویانا میں تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا تازہ دور جاری ہے۔ پہلے روز کی بات چیت میں مذاکراتی ایجنڈے پر گفتگو مرکوز رہی۔ یورپی مملکت آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں گزشتہ روز ان مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل ایران اور واشنگٹن

ویانا ، 19 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران کے متنازعہ نیوکلیر پروگرام کے طویل المدتی حل کیلئے ویانا میں تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کا تازہ دور جاری ہے۔ پہلے روز کی بات چیت میں مذاکراتی ایجنڈے پر گفتگو مرکوز رہی۔ یورپی مملکت آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں گزشتہ روز ان مذاکرات کے باقاعدہ آغاز سے قبل ایران اور واشنگٹن کے نمائندوں نے دو طرفہ ملاقات کی۔ اگرچہ قریب 80 منٹ تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ گفتگو کا موضوع بات چیت کا لائحہ عمل رہا۔

اس ملاقات میں امریکی وفد کی نمائندگی نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور وینڈی شرمین نے کی جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے۔ بعد ازاں ایرانی وفد اور چھ عالمی طاقتوں کے وفود کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس میں ابتدائی گفتگو مذاکراتی عمل کے دوران اپنائے جانے والے لائحہ عمل پر مرکوز رہی۔ یہ مذاکرات آج بھی جاری ہیں اور امکان ہے کہ جمعرات تک بھی چل سکتے ہیں۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کی اطلاعات کے مطابق بات چیت کے دوران اہم تنازعات پر بھی گفتگو کی گئی۔ ایک یورپی سفارت کار کے بقول تاحال اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ مستقبل میں یہ مذاکراتی عمل آگے کیسے بڑھے گا۔ تاہم یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن آئندہ چھ ماہ کے دوران کسی معاملت کو حتمی شکل دینے کی خواہاں ہیں۔ اس سفارت کار کے بقول پہلے دن اچھے ماحول میں اور کافی تفصیلی گفتگو ہوئی

لیکن یہ صرف بات چیت کا آغاز ہی تھا اور یہ کہ ابھی ایک اور دن باقی ہے۔ ایران اور ’پی فائیو پلس ون‘ کہلائے جانے والے اس گروپ، جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس شامل ہیں، کے مابین گزشتہ برس نومبر میں ایک عارضی چھ ماہ کی معاملت طے پائی ہے۔ اس سمجھوتے کے تحت چند متنازعہ جوہری سرگرمیوں کو ترک کرنے کے بدلے ایران کو اس کے خلاف عائد پابندیوں سے کچھ چھوٹ دی گئی ہے۔ اس دوران چھ عالمی طاقتیں اور تہران انتظامیہ کسی طویل المدتی سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 18 فبروری سے شروع ہونے والے ان مذاکرات کے حوالے سے واشنگٹن اور تہران یہ کہہ چکے ہیں کہ ان میں کسی واضح پیش رفت کا امکان کم ہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق اگر ایران کے متنازعہ نیوکلیر پروگرام کے حل کیلئے تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین کوئی سمجھوتہ طے پاجاتا ہے، تو اس سے نہ صرف ایران اور مغربی ممالک کے درمیان سالہا سال سے چلے آ رہے کھنچاؤ میں کمی واقع ہوگی بلکہ اس سے مشرق وسطیٰ میں کسی ممکنہ جنگ کے خطرات بھی ٹل جائیں گے۔ اس کہ علاوہ خطے میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہوگا اور مغربی تاجروں کیلئے بھی وسیع تر مواقع کے دروازے کھل جائیں گے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایران پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ تہران انتظامیہ ایسے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ اس کا نیوکلیر پروگرام پر امن مقاصد کیلئے ہے۔

TOPPOPULARRECENT