Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / ایران اور عالمی طاقتیں

ایران اور عالمی طاقتیں

انگلی پکڑ کے چلنا سکھایا تھا کل جنہیں
ان کی بتائی راہ پہ چلنے لگا ہوں میں
ایران اور عالمی طاقتیں
ایران اور مغربی ملکوں کے درمیان نیوکلیئر تنازعہ کے حل کیلئے ہونے والے معاہدہ کے بعد تحدیدات اٹھا لئے گئے تھے لیکن ایران کے میزائیل تجربہ کے بہانے نئی پابندیاں عائد کردی گئیں۔ عالمی طاقتوں نے ایک طرف ایران کے تعلق سے رونما ہونے والی صورتحال کو پیچیدہ بنانے سے گریز کرنے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف کسی ملک کے مقتدراعلیٰ کے امور میں مداخلت کی پالیسی کو ترک نہیں کیا ہے۔ عالمی امن کے مقصد سے اس وقت ساری دنیا کے ملکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات پیدا کرنا اور اپنے اخلاص کا ثبوت دینا ضروری ہے۔ امریکہ نے ایران کے نیوکلیئر مسئلہ پر نرمی اختیار کی تھی مگر ایران کے میزائیل پروگرام پر پابندی لگادی جس کی مذمت بھی ہورہی ہے کیونکہ اس طرح کی پابندیوں کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہ ہو تو مذمت کی جاتی ہے۔ ایران نے مغربی ملکوں کے ساتھ اپنے نیوکلیئر ہتھیاروں اور تجربات کے مسئلہ میں بات چیت کی ہے اور امریکہ نے ایران پر جس میزائیل کے تجربہ کی وجہ سے پابندی لگائی ہے یہ میزائیل نیوکلیئر ہتھیار لے جانے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے لیکن بالسٹک میزائیل کا تجربہ اقوام متحدہ کی طرف سے اس طرح کے میزائیل پر عائد پابندی کی خلاف ورزی متصور کیا گیا ہے۔ امریکہ کی کئی پابندیوں پر ایران کا ردعمل بروقت اور درست تھا۔ اقتصادی پابندیاں ہٹا لینے کا فیصلہ کرنے والے ملکوں کو اچانک یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں ہوئی کہ ایران پر تحدیدات بہرحال برقرار رہنے چاہئے۔ یہ تحدیدات چاہے کسی بھی نوعیت کے ہوں۔ مغرب کو اس وقت سکون نہیں رہتا جب وہ کسی ملک کو اپنے تابع رکھنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔ اقتصادی پابندیاں ہٹا لینے کے فیصلہ پر ساری دنیا خیرمقدم کررہی ہے۔ خود صدر ایران حسن روحانی نے پابندیاں ہٹا لئے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس فیصلہ کو ایران اور مغرب تعلقات میں نئے باب کا آغاز قرار دیا تھا۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں عالمی رائے میں اتفاق پایا گیا ہے کہ اس کے میزائیل تجربہ پر امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ نیوکلیئر توانائی کے نگرانکار ادارے آئی اے ای اے نے یہ رائے دی تھی کہ ایران نے نیوکلیئر معاہدے پر عمل درآمد کیلئے تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے اپنے وعدے پورے کررہا ہے۔ دنیا کو محفوظ بنانے کیلئے عالمی طاقتوں نے اپنے طور پر جو اصول و ضوابط تیار کئے ہیں، اس کے مطابق ایران نے تعاون کرنا شروع کیا ہے تو اس کے ساتھ عالمی طاقتوں کا تعلق بھی اب نرم اور خوشگوار ہونا چاہئے۔ اقتصادی پابندیاں بھی ایک ایسے وقت ہٹا لی گئیں ہیں جب عالمی تیل مارکٹ میں گراوٹ درج کی جارہی ہے۔ ایران پر پابندیوں کے نتیجہ میں وہ عالمی مارکٹ میں تیل فروخت نہیں کرسکتا تھا۔ ایران کے لئے اب عالمی مارکٹ کی راہیں کھول دی گئی ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ ایران کے اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کو حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ مغربی ملکوں نے ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کرتے ہوئے یہ تاثر دیا تھا کہ وہ اس ساری دنیا کو محفوظ بنانے کی کوشش کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی طاقتوں کو اگرچیکہ اس معاہدہ سے برتری حاصل ہوئی ہے لیکن میزائیل پر پابندیاں لگا کر ایران کو پھر سے اپنے تابع رکھنے کی کوشش کی ہے۔ صرف چند اندیشوں کے تحت ایران کا تعاقب کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس بات پر پریشانی ہے کہ ایران کے پاس تیل کی دولت کے علاوہ منجمد اثاثے ہیں جو اب ان اثاثوں کو حاصل کرے گا۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کے تعلق سے غیرضروری رائے قائم کرنے والے ملکوں میں اسرائی سرفہرست ہے۔ اسرائیل کا یہ خیال غیرضروری ہے کیونکہ خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے کہ ایران آئندہ 15 سال میں خطے میں زیادہ طاقتور ملک بن کر ابھرے گا۔ یہ ممالک دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ خطہ میں اگر جنگ چھڑ سکتی ہے تو ایران کی طاقت حاوی ہوگی۔ ایران کو دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ خوشگوار ماحول میں اقتصادی تعاون سے روکنے کی بھی در پردہ کوشش ہوسکتی ہے۔ مغربی ملکوں کو نیوکلیئر تنازعہ کے خاتمہ کیلئے جس طرح کی جدوجہد کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا اسی تناظر میں اس دنیا کو عالمی امن کا مرکز بنانے کیلئے جاری اپنی کوششوں میں غیر ضروری اندیشے پیدا نہیں کرنے چاہئے۔ ان کے اسی طرح کے اندیشوں کی وجہ سے ہی ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی گئیں تھیں جس کے نتیجہ میں ایران کو تقریباً 160 ارب ڈالر کا خسارہ اٹھانا پڑا تھا۔

TOPPOPULARRECENT