Wednesday , September 26 2018
Home / دنیا / ایران سے عالمی طاقتوں کے نیوکلیر مذاکرات کا احیاء

ایران سے عالمی طاقتوں کے نیوکلیر مذاکرات کا احیاء

وزیر خارجہ ایران جواد ظریف پُرامید، عباس ارغچی کی نائب وزیر خارجہ یوروپی یونین ہیلگا شمد سے ملاقات

وزیر خارجہ ایران جواد ظریف پُرامید، عباس ارغچی کی نائب وزیر خارجہ یوروپی یونین ہیلگا شمد سے ملاقات
تہران 9 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایران اور عالمی طاقتیں آج مذاکرات کا احیاء کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ تاریخی نیوکلیر معاہدہ ایران کے نیوکلیر پروگرام پر لگام کس سکے۔ وزیر خارجہ ایران محمد جواد ظریف نے معاہدہ طے پاجانے کے بارے میں اُمید کا اظہار کیا۔ ایران کے اعلیٰ سطحی نیوکلیر مذاکرات کار نے کل کہا تھا کہ سودے بازی جاری ہے اور ایران طاقتور سیاسی عزم کے ساتھ جنیوا میں احیاء کردہ مذاکرات میں شرکت کررہا ہے۔ جس کا مقصد عبوری نیوکلیر معاہدہ پر عمل آوری کرنا ہے جو نومبر میں طے پایا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ نیوکلیر مذاکرات پوری سنجیدگی اور طاقتور سیاسی عزم کے ساتھ جاری ہیں۔ کئی گھنٹے تک ماہرین کے ساتھ تکنیکی مذاکرات ہوئے جس میں P5+1 گروپ کی عالمی طاقتوں نے حصہ لیا۔ گزشتہ ڈسمبر میں بھی اُن سے بات چیت کے مثبت نتائج برآمد ہوئے تھے۔

آج نائب وزیر خارجہ ایران عباس ارغچی، نائب وزیر خارجہ یوروپی یونین ہیلگا شمد سے ملاقات کریں گے جو یوروپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کی نائب ہیں۔ محکمہ خارجہ امریکہ نے کل توثیق کی تھی کہ نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی اُمور وینڈی شرمن بھی مذاکرات میں شرکت کے لئے جنیوا جارہی ہیں جہاں اُن کی ملاقات ارغچی اور شمد دونوں سے ہوگی۔ ایرانی خبر رساں اداروں کی خبروں کی توثیق کئے بغیر محکمہ خارجہ امریکہ نے کہاکہ اجلاس سہ رخی ہوگا۔ وزارت خارجہ ایران کی ترجمان مرضیا افخام نے کہاکہ بات چیت کا مرکز توجہ اُن مسائل پر ہوگا جو سیاسی فیصلے کیلئے زیرالتواء ہیں۔ اِس کے بعد ہی 20 جنوری سے معاہدہ پر عمل آوری شروع کی جائے گی۔ یہ تاریخ دونوں فریقین نے تجویز کی ہے۔

ایران اور یوروپی یونین کے تکنیکی ماہرین کے اجلاس آج جنیوا میں منعقد کئے گئے۔ جبکہ ڈسمبر کے وسط اور اواخر میں 24 نومبر کے معاہدہ کو مزید چست اور درست بنانے پر غور کیا گیا تھا۔ غور و فکر کے اِس اجلاس میں جنیوا میں طویل مباحث ہوئے تھے۔ معاہدہ کے تحت ایران کو اپنے نیوکلیر پروگرام کے بعض حصے 6 ماہ تک معطل رکھنے ہوں گے۔ اِس کے معاوضہ میں بین الاقوامی تحدیدات سے اُسے اوسط درجہ کی راحت حاصل ہوگی۔ مغربی ممالک نے تیقن دیا ہے کہ وہ نئی تحدیدات ایرانی معیشت پر عائد نہیں کریں گے۔ ڈسمبر کے اوائل میںماہرین نے ویانا میں 4 روزہ مذاکرات بھی کئے تھے جہاں بین الاقوامی ایٹمی توانائی نگرانکار ادارے کا ہیڈکوارٹرس واقع ہے۔ ایرانیوں نے اُس وقت واک آؤٹ کیا تھا جبکہ امریکہ نے اپنی تحدیدات کی بلیک لسٹ کو توسیع دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT