Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / ایران سے نیوکلیئرمعاہدے کی ’’آخری بار‘‘ توثیق : ٹرمپ

ایران سے نیوکلیئرمعاہدے کی ’’آخری بار‘‘ توثیق : ٹرمپ

<> on January 9, 2018 in Washington, DC.

مایوسی پر مبنی امریکی کوشش : جواد ظریف ۔ ایران کے موقف کو برطانیہ ، فرانس ، چین ، روس اور یوروپی یونین کی حمایت حاصل

واشنگٹن، 13 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر پابندیوں میں نرمی کی مدت کو آخری بار بڑھا رہے ہیں تاکہ یوروپ اور امریکہ جوہری معاہدے کی ’خطرناک کوتاہیوں‘کو درست کر سکیں۔ٹرمپ نے کل ایک بیان میں کہا”یہ آخری موقع ہے ۔ امریکہ، ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر قائم رہنے کے لئے پابندیوں میں دوبارہ ڈھیل نہیں دے گا۔”انہوں نے ایران پر عائد پابندیوں کی نرمی کی مدت 120 دن بڑھانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔جمعہ کو امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے سے کہا گیا کہ’ یہ آخری موقع ہے ، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکہ معاہدے ( موجودہ) میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔’بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے ( موجودہ) سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے ۔’دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ’ یہ ایک ٹھوس معاہدے کو خراب کرنی کی مایوسی پر مبنی ایک کوشش ہے ۔’امریکہ چاہتا ہے کہ معاہدے میں موجود یوروپی ممالک ایران پر یورینیئم کی افزدوگی پر مستقل پابندی عائد کریں جبکہ موجودہ معاہدے کے تحت یہ پابندی 2025 تک ہے ۔وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے جو صدر نے پابندیوں میں نرمی کی توثیق کی ہو گی۔بی بی سی کی اقوام متحدہ میں نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے پر 20دن کے اندر مذاکرات نہیں ہو سکتے جبکہ ایران بھی نیا معاہدہ نہیں چاہتا تو اس صورت میں صدر ٹرمپ یا تو پیچھے ہٹ جائیں گے یا اس سے الگ ہو جائیں گے ۔اس سے پہلے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف معطل کی جانے اقتصادی پابندیوں کو برقرار رکھیں گے اور 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ کو خطرہ میں نہیں پڑے گا۔تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب اس معاہدے میں بہتری کے لیے کانگریس اور یورپی اتحادیوں کو ڈیڈلائن متوقع ہے ۔واضح رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اس معاہدہ کے سخت ناقد ہیں جس کی وجہ سے طویل المدت بحران کا خاتمہ ہوا تھا۔یوروپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے ۔ایران اور 6عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدہ سے ایران پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کی حامی بھری تھی۔تاہم امریکہ کی جانب سے دہشت گردی، انسانی حقوق اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے الگ سے پابندیاں تاحال قائم ہیں۔جمعہ کو امریکہ کی جانب سے ایران کی 14 شخصیات اور اداروں پرحقوق انسانی کی خلاف ورزیوں، سینسر شپ اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔گذشتہ سال اکتوبر میں امریکی صدر نے اس معاہدے کو ‘امریکہ کے لیے بدترین اور یکطرفہ’ قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ آئندہ چند برسوں میں ایران نیوکلیئر ہتھیار تیزی سے بنائے گا۔انھوں نے ایران پر ‘متعدد خلاف ورزیوں’ کا الزام عائد کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر معاہدے کی اس سخت غلطیوں کا ازالہ کریں گے ۔ امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے ناقدین نے بھی ایسی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس سے ایران کی جانب سے مخصوص عمل کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں۔دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یوروپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے جمعرات کو بروسیلز میں ملاقات کی ہے اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی ہے ، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے ۔ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں یوروپی یونین، فرانس اور جرمنی نے اس جوہری معاہدے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے ۔

’’نیوکلیئر معاہدہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی‘‘:ایران
ایران کا کہنا ہے کہ سال2015ء میں عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے نیوکلیئر معاہدے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ اس سے قبل صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر یورپی اتحادی ممالک نے اس معاہدے میں پائے جانے والے ’بھیانک سقم‘ ختم نہ کیے، تو امریکہ اس معاہدہ سے نکل جائے گا۔ ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا پر وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اس معاہدہ میں کسی بھی طرح کی کوئی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدہ میں طئے کردہ وعدوں سے زیادہ ایرانی حکومت کوئی اضافی اقدامات نہیں کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT