Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / ایران علاقہ میں برتری قائم کرنے کا خواہاں :وزیر داخلہ بحرین

ایران علاقہ میں برتری قائم کرنے کا خواہاں :وزیر داخلہ بحرین

عربوں کی مشترکہ حکمت عملی ضروری‘عرب وزرائے داخلہ کے 37ویں اجلاس سے خطاب
دبئی ۔6مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران علاقہ خلیج میں اپنی برتری قائم کرنے کا خواہاں ہے اور اس لئے وہ اس خطے کے ملکوں کی داخلی امور میں مسلسل مداخلت کررہا ہے۔ اس کی ان حرکتوں کا مقصد صرف اور صرف علاقہ میں ایرانی برتری کا قیام ہے۔ ان خیالات کا اظہار بحرینی وزیر داخلہ شیخ راشد بن عبداللہ الخلیفہ نے کیا۔ وہ تیونس میں عرب وزرائے داخلہ کے 33 ویں اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ شیخ راشد نے ایران اور اس کے ہاتھوں کٹھ پتلی سے بنے عناصر کو انتباہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایران کی سرپرستی قبول کرنے والے اپنا ٹھکانہ کہیں اور بناسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ بحرین نے ایران پر اس کے داخلی امور میں مداخلت کرتے ہوئے مملکت میں بے چینی پھیلانے کے الزامات عائد کئے ہیں۔ بحرینی حکومت کا یہ بھی الزام ہے کہ ایران ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہا ہے۔ وہ تشدد کو ہوا دینے کی ہرممکن کوشش کررہا ہے۔ اس کا مقصد بحرین میں عدم استحکام پیدا کرتے ہوئے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل ہے۔ شیخ راشد بن عبداللہ الخلیفہ نے اجلاس میں ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ملکوں میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، وہ ان ممالک میں نراج و بے چینی کی کیفیت پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔ اس نے عرب ملک میں سیاسی مداخلت کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔ اس کا مقصد عرب ازم پر ایرانی برتری کو تھوپنا ہے۔ اس کے لئے وہ حزب اللہ اور انقلابی گارڈس کو استعمال کررہا ہے یہاں تک کہ ایران کے میڈیا گروپ بھی اس میں خطرناک رول ادا کررہے ہیں۔ عربی وزیر داخلہ نے 33 عرب وزرائے داخلہ کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔ ان کا کہنا تھاکہ ایران پر دوسرے ملکوں کے اقتدار علیٰ کا احترام کرنے اور ان ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت سے باز آنے کی بار بار اپیلیں کی گئیں،

لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ بلکہ الٹے دہشت گردی کی شدت کے ساتھ حمایت میں جٹ گیا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں شرکاء کو یہ بھی بتایا کہ بحرین میں ہم نے ایران کے اس ناپاک کھیل سے نمٹا ہے۔ اس کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنایا ہے۔ چنانچہ اس دہشت گردی کے خلاف ہماری لڑائی میں تاحال کئی لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے اور ہزاروںکی تعداد میں زخمی ہوئے۔ اس طرح کا خطرہ ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسے میں ہم ان دعوؤں کو حقارت سے مسترد کرتے ہیں جس میں کہا جاتا ہے کہ یہ صرف ایک نیوز ایٹم ہے بلکہ ایران بحرین یا خطہ میں جو کچھ کررہا ہے وہ صریح قانونی خلاف ورزی اور عالمی قواین و قراردادوں کی مجرمانہ مخالفت ہے۔ ان حالات میں اگر کوئی کہنا ہے کہ عرب ملک دوسرے ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کررہے ہیں تو یہ ان کی دروغ گوئی کے سواء کچھ نہیں۔ بحرینی وزیر داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ بحرین نے کسی بھی ملک کے داخلی امور میں مداخلت نہیں کی اور نہ ہی وہ اپنی سلامتی اور اس کے عرب موقف کو درپیش خطرات کو کسی بھی طرح قبول نہیں کرتا بلکہ ہم ایسے معاشرہ کو تمام قسم کے نسلی و مسلکی خطرات اور بیرونی طاقتوں کی وفاداری سے روکیں گے۔ عرب ازم کو لاحق خطرات سے سختی سے نمٹنا چاہے گا اسے بیرونی طاقتوں کی قرض و لالچ اور استحصال سے محفوظ رکھا جائے گا۔

بحرینی وزیر داخلہ کے مطابق علاقائی سلامتی کا تحفظ مشترکہ ذمہ داری ہے اور حال ہی میں انسداد دہشت گردی کی جو کارروائیاں انجام دی گئی ہیں اس سے دہشت گردی روکنے میں عربوں کی مشترکہ کوششوں کی کامیابی کا اظہار ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں دہشت گردی عرب ملکوں کی بقاء اور ان کی شناخت کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ بحرینی وزیر داخلہ کا پرزور انداز میں یہ بھی کہنا تھا کہ عرب دنیا فی الوقت کئی ایک جنگوں تنازعات سے گذر رہی ہے۔ عرب اب پناہ اور گزین بن گئے ہیں اور پناہ گزینوں کا مسئلہ ایک انسانی بحرین میں تبدیل ہوچکا ہے اور یہ ایسا مسئلہ ہے جو کئی ملکوں کے لئے بوجھ بنا ہوا ہے۔ یہ مسئلہ مسلسل تشدد، قتل و غارت گری، سیاسی عدم استحکام دہشت گردی اور مسلکی بنیادوں پر اختلافات کو ہوا دینے کی سازشوں کے نتیجہ میں سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے عبادتگاہوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ یہ ایسے حالات ہیں جس میں عرب دنیا کو مذکورہ خطرات سے نمٹنے کے لئے مشترکہ حکمت عملی طئے کرنی ہوگی۔ شیخ راشد نے بحیثیت مجموعی عرب ملکوں کی سلامتی کا جائزہ لینے جنرل سکریٹریٹ کے تحت ایک ٹیم تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی تاکہ عرب ملکوں میں سلامتی اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔ عرب وزرائے داخلہ نے عراق میں قطری شہریوں کے اغواء، اور بحرین کے استحکام و سلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے ایران کی پالیسیوں کی بھی مذمت کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حزب اللہ بعض عرب ملکوں کی سلامتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT