Thursday , July 19 2018
Home / دنیا / ایران معاہدہ کے تحفظ کی کوشش ‘ وزیر خارجہ ایران کادورۂ چین

ایران معاہدہ کے تحفظ کی کوشش ‘ وزیر خارجہ ایران کادورۂ چین

بیجنگ۔13مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) ایران کے وزیر خارجہ آج چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے تاکہ ایران نیوکلئیر معاہدہ کو صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے اس سے دستبرداری اختیار کرنے کے پیش نظر اس کے تحفظ کی کوشش کی جاسکے ۔ محمد جواد ظریف چین سے ماسکو اور بروسیلس کا دورہ بھی کریں گے تاکہ 2015ء کے اس معاہدہ پر دستخط کرنے والے تمام ممالک سے تبادلہ خیال کرسکیں ۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے اس معاہدہ سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ایران پر تازہ تحدیدات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ چین ان 6عالمی طاقتوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اس معاہدہ پر دستخط کئے ہیں ۔ امریکہ ‘ روس ‘ فرانس ‘ برطانیہ اور جرمنی اس تاریخی معاہدہ پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک ہیں ۔ اس معاہدہ کے عوض ایران پرعائد تحدیدات برخواست کردی گئی تھیں تاہم ایران نے اس بات کا تیقن دیا تھا کہ وہ نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کرے گا ۔ وزیر خارجہ ایران کی بیجنگ میں آمد پر انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کو موجودہ صورتحال میں کیا فیصلہ کرنا چاہیئے اس پر معاہدہ پر دستخط کرنے والے ممالک سے مشورہ کریں گے ۔ خبررساں ادارہ ’’ اسنا‘‘ سے ایک نیم سرکاری عہدیدار نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ صدر چین نے کہا کہ ہم متبادل طریقوں پر غور کرنے کیلئے تیار ہیں ‘ اگر نیوکلئیر معاہدہ جاری رہتا ہے تو عوام کے مفادات کا ایران کی جانب سے تیقن دیا گیا ہے ۔ جواد ظریف مختلف متعلقہ عہدیداروں بشمول وانگ ای سے بات چیت کریں گے ۔ چین نے ایران سے تعلقات کی تعریف کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین سے ہمارے تعلقات اچھے ہیں اور اس معاہدہ کے بعد تعلقات میں مزید استحکام پیدا ہوگیا ۔ چین پہلا معاشی شراکت دار ہے ‘ ایران یقینا آج چین کی تائید حاصل کرچکا ہے ۔ وزیرخارجہ ایران کے دورہ کے موقع پر عالمی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ جب کہ اسرائیل نے شام میں ایران کے انفراسٹرکچر پر حملے کئے جن میں کئی افراد بشمول 11ایرانی جنگجو ہلاک ہوگئے اور اندیشے پیدا ہوگئے کہ دونوں کٹر دشمن ممالک میں یہ جھڑپ ایک نئی عالمی جنگ کا آغاز کرے گی ۔ اپنے دورہ سے قبل وزیر خارجہ ایران نے ایک سرکاری بیان اپنے ٹوئیٹر پر شائع کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کے انتہا پسند انتظامیہ کی مذمت کی ‘ جس نے ایک ایسے معاہدہ سے دستبرداری اختیار کرلی جسے بین الاقوامی برادری کی سفارتکاری کی عظیم کامیابی سمجھا جارہا تھا ۔ صدر امریکہ نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ناکام ہوچکا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT